سندھ گورنر ہاؤس کو لیجنڈ ٹرسٹ کے کسی چیک پر دستخط کا اختیار نہیں، ترجمان
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
گورنر سندھ یا گورنر ہاؤس کو لیجنڈ ٹرسٹ کے کسی مالی معاملے یا چیک پر دستخط کا اختیار نہیں۔
کراچی سے سندھ گورنر ہاؤس کے ترجمان نے اس حوالے سے کہا کہ گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے لیجنڈ ٹرسٹ کے اکاؤنٹ میں مبینہ بینک فراڈ پر انکوائری کا حکم دیا ہے۔
ترجمان گورنر ہاؤس نے کہا کہ گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے 13 اکتوبر کو انکوائری کا حکم دیا تھا۔
وزیر ثقافت سندھ ذوالفقار علی شاہ نے کہا کہ یہ ٹرسٹ گورنر ہاؤس کی زیر نگرانی کام کرتا ہے، جعلسازی کے ذریعے محکمہ ثقافت کا لیٹر ہیڈ استعمال کیا گیا ہے۔
گورنر ہاؤس کے ترجمان نے کہا کہ گورنر نے واضح کیا کہ حکومتِ سندھ کا سیکریٹری ثقافت ہی لیجنڈ ٹرسٹ کا سیکریٹری ہوتا ہے، سیکریٹری ثقافت ہی لیجنڈ ٹرسٹ کے مالی معاملات بشمول بینکاری امور کے ذمہ دار ہیں۔
ترجمان نے مزید کہا کہ گورنر سندھ نے اس بات پر زور دیا کہ فنکاروں کے فلاحی فنڈز قومی امانت ہیں، کسی بھی بے ضابطگی یا جعلسازی میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: لیجنڈ ٹرسٹ کے گورنر سندھ
پڑھیں:
نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں