آئندہ 5 سالوں میں پاکستان میں محصولات کی کمی اور پنشن اخراجات بڑھنے کا امکان، آئی ایم ایف کا انتباہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ پانچ سالوں میں پاکستان کو محصولات میں کمی اور پنشن اخراجات میں اضافے جیسے مالی دباؤ کا سامنا ہوسکتا ہے۔
نجی اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف نے پیش گوئی کی ہے کہ پاکستان کے مالیاتی اشاریوں میں آئندہ پانچ سالوں کے دوران بتدریج بہتری آئے گی، جس میں مالیاتی خسارے میں کمی اور قرض سے جی ڈی پی کے تناسب میں کمی شامل ہے، تاہم ادارے نے محصولات کی مسلسل کمی اور پنشن و صحت کے اخراجات میں اضافے سے بھی خبردار کیا ہے۔
آئی ایم ایف کی فِسکل مانیٹر 2025 رپورٹ کے مطابق جو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے سالانہ اجلاس کے دوران جاری کی گئی، پاکستان کا موجودہ مالی سال میں مالی خسارہ جی ڈی پی کا 4.
آئی ایم ایف نے پاکستان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ دفاع، انفرااسٹرکچر یا مسابقت بڑھانے کے لیے دی جانے والی سبسڈی جیسے اخراجات کے دباؤ سے گریز کرے اور ٹیکس کے خلاف مزاحمت کو کم کر کے مالیاتی استحکام پیدا کرے تاکہ قرض کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو کم کیا جا سکے۔
آئی ایم ایف نے اس حکمتِ عملی پر عمل کی صورت میں پیش گوئی کی ہے کہ مالیاتی خسارہ آئندہ سال جی ڈی پی کے 3.9 فیصد، 2028 میں 3.3 فیصد، 2029 میں 3.1 فیصد اور 2030 میں 2.8 فیصد تک کم ہو جائے گا۔
اسی طرح آئی ایم ایف نے پاکستان کے پرائمری بیلنس (یعنی سود کی ادائیگیوں کے بغیر محصولات اور اخراجات کے درمیان فرق) کا تخمینہ موجودہ مالی سال کے لیے جی ڈی پی کے 2.5 فیصد کے برابر لگایا ہے، جو گزشتہ سال کے 2.4 فیصد سے کچھ بہتر ہے۔
آئندہ مالی سال میں یہ شرح 2 فیصد رہنے کی توقع ہے، جب کہ آئی ایم ایف کے مطابق اگلے تین سالوں تک یہ سطح تقریباً مستحکم رہے گی۔
آئی ایم ایف کے مطابق گزشتہ دو بجٹوں میں 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کے تحت کیے گئے سخت ٹیکس اقدامات کی بدولت حکومت کی مجموعی آمدن میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کی مجموعی حکومتی آمدن 2024 میں جی ڈی پی کے 12.7 فیصد سے بڑھ کر 2025 میں 15.7 فیصد ہو جائے گی اور اس کے بعد مزید بڑھ کر 16.2 فیصد ہونے کا امکان ہے۔
تاہم، ادارے نے پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ سال ٹیکس سے حاصل شدہ آمدن کا تناسب جی ڈی پی کے لحاظ سے 15.7 فیصد تک گر جائے گا، لیکن 2028 سے 2030 کے دوران 15.9 فیصد پر مستحکم رہے گا۔
دوسری جانب حکومت کے مجموعی اخراجات موجودہ مالی سال میں جی ڈی پی کے 20.4 فیصد تک رہنے کا امکان ہے، جو گزشتہ سال کے 21.1 فیصد سے کم ہیں، اس کی ایک بڑی وجہ سود کی شرح میں کمی کے باعث قرض کی ادائیگیوں کے اخراجات میں کمی بتائی گئی ہے۔
آئی ایم ایف نے پیش گوئی کی ہے کہ حکومتی اخراجات اگلے سال 19.6 فیصد، 2028 میں 19.2 فیصد، 2029 میں 19 فیصد اور 2030 میں 18.8 فیصد تک کم ہو جائیں گے۔
ادارے کے مطابق پاکستان کا قرض سے جی ڈی پی کا تناسب 2024 میں 70.4 فیصد سے بڑھ کر 2025 میں 71.6 فیصد ہو گیا ہے، لیکن 2030 تک اس میں مجموعی طور پر 10 فیصد سے زائد کمی متوقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق موجودہ مالی سال کے دوران یہ تناسب معمولی کمی کے ساتھ 71.3 فیصد رہے گا، آئندہ سال 69.2 فیصد تک گر جائے گا، پھر 2028 میں 66.2 فیصد، 2029 میں 63.1 فیصد اور 2030 میں مزید کم ہو کر 60.2 فیصد تک پہنچ جائے گا، جو اب بھی قانونی حد 60 فیصد سے کچھ زیادہ ہے، جس کی خلاف ورزی گزشتہ 16 سال سے زائد عرصے سے مسلسل ہو رہی ہے۔
آئی ایم ایف نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ پنشن کے اخراجات 2030 تک جی ڈی پی کے 0.1 فیصد کے برابر بڑھ جائیں گے، حالانکہ حکومت نے حال ہی میں اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔
مزید یہ کہ پنشن کے اخراجات کی خالص موجودہ قیمت 2050 تک جی ڈی پی کے 6.2 فیصد کے برابر بڑھنے کا امکان ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نے پیش گوئی کی ہے کہ موجودہ مالی سال رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف نے کے اخراجات جی ڈی پی کے کے دوران کا امکان کمی اور فیصد سے فیصد تک جائے گا سال کے
پڑھیں:
وزیراعظم کا آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند