سولر پینلز اور انٹرنیٹ مہنگے ہونے کا امکان، ایف بی آر نے آئی ایم ایف کو تجاویز دیدیں
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو مالی سال 2026 کے لیے محصولات میں اضافے کی غرض سے نئی تجاویز پیش کیں، جن میں درآمدی سولر پینلز اور انٹرنیٹ خدمات پر ٹیکسوں میں نمایاں اضافہ شامل ہے۔
واضح رہے کہ یہ تجاویز حکومت کی ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور بجٹ خسارہ کم کرنے کی پالیسی کا حصہ ہیں، جن پر حتمی فیصلہ آئی ایم ایف کے ساتھ جاری مذاکرات کے بعد کیا جائے گا۔
سولر پینلز پر جی ایس ٹی 10 سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی تجویزایف بی آر کی جانب سے آئی ایم ایف کو پیش کی گئی تجاویز میں بتایا گیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر درآمدی سولر پینلز پر جی ایس ٹی کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کی جا سکتی ہے، جو جنوری 2026 سے نافذالعمل ہوگی۔ اسی طرح انٹرنیٹ پر ودہولڈنگ ٹیکس 15 فیصد سے بڑھا کر 18 یا 20 فیصد کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
ان ٹیکسز کے اضافے سے سولر پینلز اور انٹرنیٹ کی قیمتوں پر کتنا اثر پڑ سکتا ہے؟
اس حوالے سے ’وی نیوز‘ سے بات کرتے ہوئے پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین آفاق علی خان کا کہنا تھا کہ فی الوقت اس ٹیکس کے اضافے سے مارکیٹ میں سولر پینلز کی قیمتوں پر کوئی بڑا اثر نہیں پڑے گا، کیونکہ اس وقت مارکیٹ میں اسٹاک بہت زیادہ ہے جبکہ ڈیمانڈ یا سپلائی نسبتاً کم ہے۔
واضح رہے کہ اس وقت پاکستانی مارکیٹ میں فی واٹ سولر پینل کی قیمت تقریباً 30 سے 31 روپے ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ سولر پینلز کی قیمتیں ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کی بنیاد پر بڑھتی ہیں، اور ابھی نیگیٹو میں فروخت ہو رہا ہے۔ چونکہ مارکیٹ میں اسٹاک پہلے ہی بہت زیادہ ہے، اس لیے فوری طور پر قیمتوں میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوگا۔
یہ بھی پڑھیے میڈ ان پاکستان سولر ٹیکنالوجی پر کام شروع، قیمتوں میں کتنی کمی کا امکان ہے؟
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ رینیوایبل انرجی پر کوئی بھی ٹیکس قابل قبول نہیں ہے، اور اگر مستقبل میں اسٹاک میں کمی آتی ہے تو یہ اضافہ سولر انڈسٹری کو ضرور متاثر کرے گا۔
’ٹیکس بڑھنے سے ڈیمانڈ میں کمی آئے گی‘تاہم سولر ایکسپرٹ شرجیل احمد سلہری کا کہنا تھا کہ ٹیکس بڑھنے سے اس کی ڈیمانڈ میں کمی آئے گی، کیونکہ اس سے سولر پینلز کی قیمتوں میں تقریباً 10 سے 12 فیصد اضافہ ہوگا۔
اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستانی مارکیٹ میں یہ ایک معمول کی بات ہے کہ ٹیکسز میں اگر اضافے کا نام بھی لے لیا جائے تو مارکیٹ میں فوری طور پر قیمتیں بڑھ جاتی ہیں، چاہے کتنا ہی اسٹاک موجود ہو۔
صرف یہی نہیں، انٹرنیٹ پر ودہولڈنگ ٹیکس 15 فیصد سے بڑھا کر 18 یا 20 فیصد کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
آئی ٹی ایکسپرٹ حبیب اللہ خان کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ پر ٹیکس میں اضافے کے بعد مجموعی ٹیکس شرح 36 فیصد ہو جائے گی، کیونکہ حکومت نے انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں پر بھی ٹیکس عائد کر رکھا ہے اور عام صارف یعنی اینڈ یوزر سے بھی الگ سے ٹیکس لیا جا رہا ہے۔
’یہ فیصلہ آئی ٹی انڈسٹری کے لیے تباہ کن ہوگا‘ان کا کہنا تھا کہ یہ ٹیکس اس وقت ریجن میں سب سے زیادہ ہوگا، جو کسی بھی لحاظ سے درست فیصلہ نہیں۔ انٹرنیٹ آج کے دور میں ایک بنیادی ضرورت بن چکا ہے، خاص طور پر فری لانسنگ کو فروغ دینے اور ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے یہ انتہائی اہم ہے۔
’اگر انٹرنیٹ پر ٹیکس بڑھایا گیا تو اس کا اثر آئی ٹی کمپنیوں اور فری لانسرز کی فراہم کردہ سروسز پر پڑے گا، جن کی لاگت بڑھنے سے یہ خدمات مہنگی ہو جائیں گی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ یہ ایسا ہی ہے جیسے پیٹرول کی قیمت بڑھا دی جائے، جس سے ہر چیز متاثر ہوتی ہے۔ یہ فیصلہ آئی ٹی انڈسٹری پر منفی اثر ڈالے گا اور حکومت کی یہ پالیسی غیر دانشمندانہ ہے، ایسا نہیں ہونا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئی ایم ایف انٹرنیٹ ایف بی آر پاکستان سولر پینل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف انٹرنیٹ ایف بی ا ر پاکستان سولر پینل کا کہنا تھا کہ سے بڑھا کر 18 مارکیٹ میں انٹرنیٹ پر سولر پینلز ان کا کہنا کی تجویز پر ٹیکس کرنے کی ایم ایف ایف بی آئی ٹی کے لیے
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔