Jasarat News:
2026-06-03@00:44:27 GMT

سولر پینلز اور انٹرنیٹ سروسز پر ٹیکس بڑھنے کا امکان

اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT

سولر پینلز اور انٹرنیٹ سروسز پر ٹیکس بڑھنے کا امکان

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: پاکستان میں سولر پینلز اور انٹرنیٹ سروسز مزید مہنگی ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے کیونکہ حکومت اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے زرعی کھادوں اور ادویات پر ٹیکس بڑھانے کی تجویز مسترد ہونے کے بعد متبادل محصولات بڑھانے کے اقدامات پر غور شروع کر دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اگر حکومت کی آمدن مقررہ اہداف سے کم رہی تو بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لیے ایمرجنسی ٹیکس اقدامات نافذ کیے جا سکتے ہیں،  ان میں درآمد شدہ سولر پینلز پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کو 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد تک کرنے اور انٹرنیٹ سروسز پر ودہولڈنگ ٹیکس کو 15 فیصد سے بڑھا کر 18 یا 20 فیصد تک کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔ یہ ٹیکس جنوری 2026 سے نافذ العمل ہو سکتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تجاویز آئی ایم ایف کے اگلے جائزہ رپورٹ کا حصہ ہوں گی، جو فنڈ کے ایگزیکٹو بورڈ کی جانب سے ایک ارب ڈالر کی قسط کی منظوری کے بعد جاری کی جائے گی،  ان اقدامات کا اطلاق اسی صورت میں ہوگا جب مالی سال کی پہلی ششماہی (جولائی تا دسمبر) میں محصولات کی وصولی مقررہ اہداف سے پیچھے رہی یا وزارتِ خزانہ اخراجات پر قابو پانے میں ناکام رہی۔

ایف بی آر کی رپورٹ کے مطابق اگر سولر پینلز کی درآمد پر ٹیکس بڑھایا گیا تو اس کے توانائی کے شعبے پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں،  آئندہ چند برسوں میں درآمد شدہ سولر پینلز کے ذریعے 25 سے 30 ہزار میگاواٹ تک بجلی پیدا کرنے کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے، جبکہ فی الحال گھریلو سولر سسٹمز سے تقریباً 6 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہے جو تیزی سے دگنی ہونے کا امکان رکھتی ہے۔

دوسری جانب حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ سولر انرجی کے تیز پھیلاؤ کو محدود کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق قومی گرڈ پر انحصار میں کمی کے باعث بجلی گھروں کو دی جانے والی صلاحیتی ادائیگیوں (Capacity Payments) کا بوجھ بڑھ رہا ہے، جو رواں مالی سال میں 17 کھرب روپے تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔

عوام  کا کہنا ہے کہ اگر سولر انرجی اور انٹرنیٹ سروسز پر ٹیکس بڑھائے گئے تو اس سے عام صارف براہِ راست متاثر ہوگا کیونکہ ایک طرف بجلی کے متبادل ذرائع مہنگے ہوں گے اور دوسری جانب ڈیجیٹل معیشت اور آن لائن تعلیم کے اخراجات میں بھی اضافہ ہوگا۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اور انٹرنیٹ سروسز سولر پینلز پر ٹیکس

پڑھیں:

بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان

کراچی کے ذرائع کے مطابق سینٹرل پرچیزنگ پاور ایجنسی (سی پی پی اے) نے نیپرا میں درخواست جمع کرا دی۔ سی پی پی اے کی اپریل کیلئے فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں اضافے کیلئے درخواست پر نیپرا آج سماعت کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ بجلی صارفین کیلئے ایک اور مالی بوجھ کی تیاری کر لی گئی، جہاں بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے فی یونٹ اضافے کا امکان ہے۔ سینٹرل پرچیزنگ پاور ایجنسی (سی پی پی اے) نے نیپرا میں درخواست جمع کرا دی۔ سی پی پی اے کی اپریل کیلئے فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں اضافے کیلئے درخواست پر نیپرا آج سماعت کرے گا، اضافے کی صورت میں اطلاق کے الیکٹرک سمیت تمام ڈسکوز کے صارفین پر ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
  • بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان