نیاٹیکس پلان جاری، انٹرنیٹ، بینکنگ، ہوٹلز سمیت اہم اداروں سے ٹیکس لیا جائیگا
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
علی رامے:پنجاب میں ذرائع آمدن کانیاٹیکس پلان جاری، مختلف سروس سیکٹرزسے80ارب محصولات کاہدف ہوگا، محکمہ خزانہ پنجاب نےپلان حکومت کو پیش کردیا۔
تفصیلات کےمطابق انٹرنیٹ،بینکنگ،انشورنس اورہوٹل سیکٹرزٹیکس نیٹ میں سختی سےلایاجائیگا، فوڈڈیلیوری ایپس اورآن لائن ریسٹورنٹس پربھی ٹیکس لگے گا۔
16ہزاررجسٹرڈریسٹورنٹس کوٹیکس نیٹ میں لانےکافیصلہ کیا گیا، انشورنس سیکٹرسے5ارب روپے وصولی کاہدف مقرر، ٹیلی کام کمپنیوں سے5ارب روپےمحصولات کاتخمینہ لگایا گیا۔
فیصل آباد میں مقیم 119 افغان مہاجروں نے رضا کار انہ طور پر پاکستان چھوڑ دیا
لانگ ڈسٹنس انٹرنیشنل کالز پر بھی ٹیکس وصولی کی تیاری، بینکنگ سروسز سے 5 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جائے گا، اسٹاک مارکیٹ بروکریج کمیشنز پر 2 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا۔
پرائیویٹ کنسٹرکشن کمپنیوں سے بھی ٹیکس کی وصولی ہوگی، شادی ہالز اور کیٹرنگ سروسز بھی ٹیکس نیٹ میں شامل، ہوٹلز اور پراپرٹی بلڈرز سے مجموعی 5 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا۔
فریچائز سروسز سے 8 ارب روپے محصولات کا تخمینہ، پورٹ، ٹرانسپورٹ اور ویئر ہاؤسنگ سروسز سے 6 ارب ہدف حاصل ہوگا۔
وفاقی حکومت کا سلمان بٹ پر عائد پابندی کا نوٹس، اعلیٰ سطحی انکوائری کا حکم
ٹیکس نیٹ بڑھانےکےلیےای آئی ایم ایس سسٹم پرعملدرآمدشروع کردیا گیا، ٹیکس چوری کے خلاف کارروائی تیز، نیا آڈٹ پلان تیار، پنجاب میں ٹیکس نیٹ میں توسیع سے صوبائی آمدن میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ٹیکس نیٹ میں ارب روپے
پڑھیں:
مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
مردان: خیبرپختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے شیخ ملتون سیکٹر بی میں ایک گھر سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں برآمد ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق اطلاع موصول ہوتے ہی میڈیکل ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور پولیس کی موجودگی میں کارروائی کا آغاز کیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق تینوں لاشوں کو قانونی کارروائی اور ضروری معائنے کے لیے مردان میڈیکل کمپلیکس (ایم ایم سی) اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت جلال، زوجہ جلال اور مصطفیٰ کے ناموں سے ہوئی ہے۔
واقعے کی وجوہات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں، جبکہ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم اور تفتیشی عمل مکمل ہونے کے بعد واقعے کی اصل نوعیت واضح ہو سکے گی۔
پولیس اور متعلقہ ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ اہلِ علاقہ میں واقعے کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔