کراچی میں آئندہ تین روز موسم گرم و خشک رہنے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ شہرِ قائد میں آئندہ تین روز کے دوران موسم گرم اور خشک رہنے کا امکان ہے جبکہ سمندری ہوائیں متاثر یا غیر فعال رہ سکتی ہیں، شہریوں کو اگلے چند دنوں تک درجہ حرارت میں اضافے کے باعث گرمی کی شدت محسوس ہوگی۔
محکمہ موسمیات کے ارلی وارننگ سینٹر کے مطابق دن کے پہلے پہر بلوچستان کی شمال مغربی سمت جبکہ شام کے وقت مغربی ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔ پیشگوئی میں بتایا گیا ہے کہ کراچی کا درجہ حرارت آئندہ تین دن کے دوران 37 ڈگری سینٹی گریڈ تک تجاوز کر سکتا ہے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ موجودہ موسمی صورتحال دراصل موسم کی تبدیلی کے عمل کا حصہ ہے، رواں مہینے کے آخر اور نومبر کے آغاز میں موسمِ سرما کی ہوائیں اثر انداز ہونا شروع ہو جائیں گی، جس کے بعد بتدریج خنکی میں اضافہ متوقع ہے۔
ماہرینِ موسمیات کے مطابق کراچی میں اکتوبر کا مہینہ عمومی طور پر مئی اور جون کے بعد گرم تصور کیا جاتا ہے، اس دوران دن کا درجہ حرارت 37 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے جبکہ رات کے اوقات میں درجہ حرارت 23 سے 25 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہتا ہے۔
شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دن کے اوقات میں دھوپ سے بچاؤ کے اقدامات کریں، پانی کا زیادہ استعمال کریں اور غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کریں تاکہ گرمی کے اثرات سے محفوظ رہا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔