پاکستان جنوبی افریقہ وائٹ بال سیریز کی تیاریاں، فلیٹ پچز نہ بنانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
پاکستان کرکٹ ٹیم نے جنوبی افریقہ کے خلاف آئندہ وائٹ بال سیریز کے لیے حکمتِ عملی ترتیب دے دی۔
ذرائع کے مطابق وائٹ بال سیریز میں فلیٹ بیٹنگ ٹریکس نہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تھنک ٹینک نے کیوریٹرز کو پچز سے متعلق ہدایات جاری کردیں، فلیٹ بیٹنگ ٹریکس پر جنوبی افریقہ کے بیٹرز کی اسٹرنتھ کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وائٹ بال سیریز میں ٹریکس سے باولرز خاص طور پر اسپنرز کو بھی مدد ملے گی، اس لیے یک طرفہ طور پر بڑے رنز کے لیے پچز تیار نہیں کی جائیں گی۔
ذرائع کے مطابق سیریز کے لیے قومی اسکواڈ پر مشاورت کا عمل جاری ہے، جبکہ اضافی اسپنر کو اسکواڈ میں شامل کیے جانے کا قوی امکان ہے۔
سلیکشن کمیٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بابراعظم، نسیم شاہ سمیت تمام وائٹ بال اسپیشلسٹ کھلاڑی زیرِ غور ہیں اور اگر کسی کھلاڑی کی ٹیم کو ضرورت ہوئی تو اسے نظرانداز نہیں کیا جائے گا۔
سلیکشن کمیٹی کے مطابق ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ کے تمام کھلاڑی دستیاب ہیں جبکہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کی تیاریوں کا آخری مرحلہ شروع ہو چکا ہے، آئندہ میچز کے لیے بہترین دستیاب کھلاڑیوں کے ساتھ متوازن اسکواڈ تشکیل دیا جا رہا ہے۔
پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان ٹی ٹوئنٹی میچز 28 اکتوبر، 31 اکتوبر اور یکم نومبر کو کھیلے جائیں گے جبکہ ون ڈے میچز 4، 6 اور 8 نومبر کو شیڈول ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: وائٹ بال سیریز جنوبی افریقہ کے لیے
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔