حکومت پاکستان نے کمرشل بنیادوں پر 5 سال تک پرانی یا استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کی اجازت دے دی۔

یہ بھی پڑھیں: نئی پالیسی کے بعد امپورٹڈ گاڑیوں کی قیمتوں میں کیا فرق پڑے گا؟

ابتدائی طور پر صرف وہ گاڑیاں درآمد کی جا سکیں گی جو 30 جون 2026 تک 5 سال سے زیادہ پرانی نہ ہوں۔

مذکورہ تاریخ کے بعد گاڑیوں کی عمر کی حد ختم کر دی جائے گی۔ ان گاڑیوں کی کمرشل درآمد پر موجودہ کسٹمز ڈیوٹی کے ساتھ ساتھ 40 فیصد اضافی ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔

یہ اضافی 40 فیصد ڈیوٹی 30 جون 2026 کے بعد ہر سال 10 فیصد پوائنٹس کم کی جائے گی اور مالی سال 2029-30 تک مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔

اس حوالے سے آٹو انڈسٹری کے ماہر مشہود علی خان کا کہنا ہے کہ اگر ہم 7 ہزار ڈالر کی ایک ہزار گاڑیاں امپورٹ کرتے ہیں تو سالانہ 1 بلین ڈالر ملک سے باہر چلا جائے گا۔

مزید پڑھیے: 5 سال پرانی امپورٹڈ گاڑیوں پر پابندی ختم ہونے سے عوام کو کیا فائدہ ہوگا؟

مشہود علی خان نے کہا کہ کوئی بھی گاڑی اگر سڑک پر آتی ہے تو وہ مینٹیننس مانگتی ہے اور اگر 25 فیصد اگر میں مینٹیننس کا لے لوں مہینے کا تو یہ 300 ملین ڈالر مہینے کا بنے گا تو ایک سال کا 1 بلین سے زائد کا ڈالر ملک سے باہر جائے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ کووڈ 19 میں پاکستان میں صنعت کاروں کے لیے ایک ایسا وقت آگیا تھا کہ ایل سی کھولنا مشکل ہو گیا تھا، ایکسپورٹ بڑھ نہیں رہی زرمبادلہ اتنے نہیں بڑھ رہے جتنے بڑھنے چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ سال 2026 کے بجٹ میں مشکلات آتی نظر آرہی ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بات کی جائے صارفین کی تو ان کے پاس آپشنز کیا کیا ہیں اس وقت پاکستان میں 15 کے قریب کمپنیاں گاڑیاں فراہم کر رہی ہیں اس وقت پاکستان میں 45 کے قریب مختلف گاڑیوں کے ماڈلز موجود ہیں تو صارفین کے پاس تو آپشنز موجود ہیں۔

مشہود علی خان کا کہنا تھا کہ اگر ہم صارفین کو امپورٹڈ گاڑیاں دے رہے ہیں تو کیا یہ گاڑیاں قابل خرید ہوں گی؟ اس وقت پاکستان میں امپورٹڈ گاڑیوں کی قیمتیں 30 لاکھ سے 2 کروڑ روپے تک جا رہی ہیں تو ہم کون سے لوگوں کو ٹارگٹ ہر رہے ہیں ہمارا مڈل اور لوور مڈل کلاس تو آج بھی موٹر سائکل پر ہے۔

مزید پڑھیں: گاڑیوں میں حفاظتی اقدامات: پاکستان میں کمپنیاں قانون پر کتنے فیصد عمل کرتی ہیں؟

اگر موٹر سائیکل والوں کو گاڑی پر لانا ہے تو ٹیکسوں کو دیکھنا پڑے گا، اس وقت جو گاڑی ہم خرید رہے ہیں اس میں 45 فیصد حکومت کو ٹیکس دیا جا رہا ہے، مطلب یہ گاڑیاں مخصوص طبقے کے لیے ہیں نا کہ عام شہریوں کے لیے، جب آپ 5 سال پرانی گاڑی مارکیٹ میں لا رہے ہیں تو ان کے پارٹس کو بھی دیکھنا ہوگا یہاں تو صورت حال یہ ہے کہ 3 سال پرانی امپورٹڈ گاڑیوں کے ہارٹس موجود نہیں ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ لوکل اسمبلرز کے پارٹس موجود ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے لوکل انڈسٹری کو پروان چڑھا کر قرض ختم کرنا ہے یا ہم نے امپورٹ کرکے مزید قرض لینا ہے؟

انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی ایک سال تک بھی چلتی نظر نہیں آرہی پالیسی ایسی ہونی چاہیے جو ملک کا قرض ختم کرے نہ کہ ایسی کہ قرض ختم کرنے کے لیے مزید قرض لیا جائے۔

چیئرمین آل پاکستان موٹرز ڈیلرز ایسوسی ایشن حاجی محمد شہزاد کا کہنا ہے کہ ہم تو اس پالیسی کے خلاف سراپا احتجاج ہیں یہ گاڑیاں مہنگی آئیں گی۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف نے کہا تھا کہ آپ ڈیوٹی اور ٹیکس کم کریں اور یہاں اس کے برعکس ہو رہا ہے، ایک تو ٹیکس اتنا اور دوسرا امپورٹ کرنے والے پر شرائط اتنی ڈال دی گئی ہیں کہ نہیں لگتا کہ پاکستان میں کوئی یہ گاڑی امپورٹ کر پائے گا۔

یہ بھی پڑھیے: امپورٹ ڈیوٹی میں تخفیف کے بعد پاکستان میں لگژری گاڑیوں کی قیمت میں بڑی کمی

حاجی محمد شہزاد کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی لوکل اسمبلر کے فائدے میں ہے اور مجھے تو لگتا ہے کہ استعمال شدہ گاڑیاں بھی لوکل اسمبلرز ہی باہر سے منگوائیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امپورٹڈ گاڑیاں پرانی گاڑیوں کی امپورٹ گاڑیوں کی درآمد.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پرانی گاڑیوں کی امپورٹ گاڑیوں کی درا مد امپورٹڈ گاڑیوں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ان کا کہنا گاڑیوں کی امپورٹ کر یہ گاڑی رہے ہیں ہیں تو تھا کہ کے بعد کے لیے

پڑھیں:

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز

تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران پر امریکی جارحیت کے بعد عالمی توانائی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ برطانوی خام تیل 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات کا مربن خام تیل 108 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہونے لگا ہے، جو عالمی منڈی میں توانائی کی بڑھتی ہوئی بے یقینی کی عکاسی کرتا ہے۔ادھر قدرتی گیس کی قیمت بھی بڑھ کر 2.95 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (MMBtu) ہو گئی ہے، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں کشیدگی کے اثرات مزید نمایاں ہو رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی