سندھ سروس ٹریبونل میں3 ماہ بعد بھی چیئرمین تعینات نہ ہوسکا
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251018-02-8
کراچی(اسٹاف رپورٹر)سندھ سروس ٹریبونل میں چیئرمین کی تعیناتی نہ ہونے سے صوبے کے 40 سے زائد سرکاری محکموں کے ملازمین کی اپیلیں التوا کا شکار ہیں۔سندھ سروس ٹریبول کے چیئرمین صادق حسین بھٹی 18جولائی2025 کو ریٹائرہو گئے تھے اور3 ماہ ہونے کو ہیں مگر سندھ سروس ٹریبول میں چیئرمین کا تقرر نہ ہو سکا جس کی وجہ سندھ سروس ٹریبونل میں تبادلے تقرریوں،برطرفی یا معطلی ،ترقی کے تنازعات، سنیارٹی کے مسائل ،تنخواہ، الائونس یا پنشن سے متعلق شکایات، غیرقانونی تقرریوں یا برطرفیوں کی سیکڑوں اپیلیں التوا کا شکار ہیں۔ اس سے قبل ممبر طارق محمود کھوسو 16جون 2025کوریٹائر ہوئے تھے جن کی جگہ عرفان احمدمیو راجپوت کو تعینات کر دیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ تقریبا 40 سے زائد سرکاری محکموں کے ملازمین اپنا حق کے لئے ٹریبونل میں اپیل دائر کرتے ہیں مگر چونکہ چیئرمین سندھ سروس ٹریبونل کا عہدہ خالی ہیاس لیے سماعتیں ممکن نہیں ہوپا رہی ہیں ۔سندھ سروس ٹریبونل کے ممبران کا تقرر تو کچھ عرصہ قبل ہو چکا ہے ممبر-I کے لیے عرفان احمد میئو کو 28جون2025کو مقرر کردیا گیاچیئرمین کے عہدے پر تعیناتی میں تاخیر سے سرکاری ملازمین ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بھارتی روپیہ تاریخ کی بدترین گراوٹ کا شکار
نئی دہلی بھارتی کرنسی کو ایک اور بڑا دھچکا لگا ہے، جہاں بھارتی روپیہ اپنی تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق پہلی بار ایک امریکی ڈالر کی قدر 97 بھارتی روپے سے تجاوز کر گئی، جس کے بعد کرنسی مارکیٹ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بھارتی روپیہ اس سے قبل مئی 2026 میں اپنی ریکارڈ کم ترین سطح 96 روپے 96 پیسے فی ڈالر تک گر گیا تھا، تاہم تازہ گراوٹ نے یہ ریکارڈ بھی توڑ دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روپے کی مسلسل کمزور ہوتی قدر بھارتی معیشت کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر سکتی ہے۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے بھارتی روپے پر شدید دباؤ ڈالا ہے۔ چونکہ بھارت اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدی تیل سے پورا کرتا ہے، اس لیے تیل مہنگا ہونے سے درآمدی بل میں اضافہ اور امریکی ڈالر کی طلب بڑھ جاتی ہے، جس کا براہِ راست اثر مقامی کرنسی پر پڑتا ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق روپے کی گراوٹ کو روکنے کے لیے ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) نے زرمبادلہ مارکیٹ میں مداخلت کرتے ہوئے ڈالر فروخت کیے اور روپے کو سہارا دینے کی کوشش کی، تاہم اس کے باوجود کرنسی مزید دباؤ کا شکار رہی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں بلند رہیں اور بیرونی مالیاتی دباؤ برقرار رہا تو بھارتی روپے کی قدر میں مزید کمی آ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں درآمدی اشیا مہنگی ہونے، مہنگائی میں اضافے اور صنعتی شعبے پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
معاشی حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں بھارتی حکومت اور مرکزی بینک کو روپے کے استحکام، مہنگائی پر قابو پانے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کے لیے مزید مؤثر مالیاتی اور معاشی اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ کرنسی مارکیٹ میں استحکام لایا جا سکے۔