اریج فاطمہ حجاب پر تنقید کرنے والوں پر برس پڑیں
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
پاکستانی نژاد سابق اداکارہ اریج فاطمہ نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر اپنے حجاب کے حوالے سے ہونے والی تنقید پر کھل کر اظہارِ خیال کیا ہے۔
کئی ڈراموں میں اداکاری کیلئے مشہور اریج فاطمہ شادی کے بعد امریکہ منتقل ہو چکی ہیں اور اسلام کے خاطر شوبز کی دنیا کو خیر باد کہہ کر اپنے شوہر ڈاکٹر اوزیر اور دو بیٹوں کے ساتھ پرسکون زندگی گزار رہی ہیں۔
چند ماہ قبل اریج فاطمہ نے بتایا تھا کہ وہ باقاعدگی سے حجاب کرنا شروع کر چکی ہیں اور انہوں نے اپنی کینسر کی تشخیص اور کامیاب علاج کے بارے میں بھی مداحوں کو آگاہ کیا تھا۔ ان کے مداحوں نے ان کے حوصلے اور مذہبی رجحان کی تعریف کی، تاہم حال ہی میں اداکارہ نے بتایا کہ حجاب کے بعد انہیں غیر ضروری تنقید اور مشوروں کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے بتایا کہ جب وہ اسکارف نہیں لیتی تھیں تو زندگی نسبتاً آسان تھی، لیکن اب لوگ انہیں بتانے لگے ہیں کہ حجاب کے ساتھ کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں۔ اریج فاطمہ نے کہا کہ یہ ان کا ذاتی سفر ہے اور دوسروں کو چاہیے کہ وہ غیر ضروری رہنمائی سے گریز کریں۔
سوشل میڈیا پر جاری سابقہ اداکارہ کے اس بیان پر متعدد خواتین نے ان کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بھی ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہے اور جب سے حجاب شروع کیا ہے ہر کوئی یہ بتانے کی کوشش کرتا ہے کہ کیا کرنا صحیح ہے اور کیا غلط۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اریج فاطمہ
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔