جامعہ کراچی: 54 طلباء و طالبات کو ایم فل، پی ایچ ڈی اور ایم ایس کی اسناد تفویض
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
—فائل فوٹو
جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمودعراقی کی زیرِ صدارت منعقدہ ایڈوانسڈ اسٹڈیز اینڈریسرچ بورڈ (اے ایس آربی) کے حالیہ اجلاس میں 13 طلباء و طالبات کو مختلف شعبہ جات میں پی ایچ ڈی، 39 کو ایم فل جبکہ 02 کو کورس ورک (30 کریڈٹ آرز) مکمل کرنے پر ایم ایس کی اسناد تفویض کی گئیں۔
رجسٹرار جامعہ کراچی کے مطابق پی ایچ ڈی کی سند حاصل کرنے والوں میں ہما راؤ (بائیوٹیکنالوجی کبجی)، قرۃ العین مسعود (نباتیات)، مریم (بزنس ایڈمنسٹریشن)، شہزاد نذیر (کیمیاء)، فریال اشرف، بلال صالح (مالیکیولر میڈیسن)، درِشہوار صدیقی، سید محمود مسعود علی (فارماکولوجی)، محمد عرفان (نفسیات)، محمد ذیشان خان، محمد مراد عالم (پبلک ایڈمنسٹریشن)، امجد عبید اللّٰہ (اصول الدین) اور عظمیٰ علی (حیوانیات) شامل ہیں۔
ایم فل کی سند حاصل کرنے والوں میں آمینہ عدنان (اطلاقی معاشیات)، علی اکبر کاظمی (ایریا اسٹڈی سینٹر برائے فار یورپ)، حافظہ منیبہ منور، غیور الحسنین نثار، مہرین (حیاتی کیمیا)، دانش واجد، سحر النساء (نباتیات)، مہوش الہٰی (کیمیاء)، صنوبر جُمن (جرمیات)، عمیر نظامی (معاشیات)، عفا ملک (انوائرمینٹل اسٹڈیز)، جہاں گل جہانگیر خاکوانی (جینیات)، سعد عمران، ایاز مقبول (ہیلتھ فزیکل ایجوکیشن اینڈ اسپورٹس سائنسز) شامل ہیں۔
صفیہ (بین الاقوامی تعلقات)، انعم ارشد (اسلامک لرننگ)، نرگس فاطمہ (لائبریری اینڈ انفارمیشن سائنس)، مریم عمران منصوری، سمیرا بانو (مالیکیولر میڈیسن)، فضاء بتول (فارماکولوجی)، صدف خالد، محمد افضل (طبیعیات)، قصہ زہرہ زیدی (سیاسیات)، رشیدہ، مریم فاطمہ، طحہٰ نواب خان، حسیبہ مقدم، شیزان سہیل اور نسرین اختر (نفسیات)، کنول ارشد علی، آغا ذوالفقار حیدر، سحر علی (پبلک ایڈمنسٹریشن)، شمائلہ سندیلو (سندھی)، سیما لیاقت (سماجی بہبود)، ذوالفقار علی (اُردو)، عمران خان، سید نثار احمد، محمد اُسامہ سرفراز (اصول الدین) اور صدف (شعبہ حیوانیات) بھی ایم فل کی سند حاصل کرنے والوں میں شامل ہیں۔
ایم ایس کورس ورک (30 کریڈٹ آرز) مکمل کرنے پر سند حاصل کرنے والوں میں فاطمہ نرگس (ایجوکیشن) اور ندیم احمد (ویمنز اسٹڈیز) شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سند حاصل کرنے والوں میں شامل ہیں ایم فل
پڑھیں:
پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملکی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی ترقی کے لئے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز اور 20 ملین ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے۔
اسلام آباد میں انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں صف اول کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے، یہ نمائش اور اس طرح کے اقدامات پاکستان کو 21ویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی میں صف اول کا ملک بنائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی بھی میزبانی کی، جس سے مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیےحکومتی نمائندوں، ٹیکنالوجی لیڈرز اور محققین کاروباری افراد کو مل بیٹھنے کا موقع ملا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
ان کا کہنا تھا کہ آج انڈس راس ایکسپو سے اس وژن کو عملی شکل دینے کا موقع حاصل ہوا ہے کہ کس طرح جدت کو فعال سلوشنز میں تبدیل کریں، روبوٹکس اور ڈرونز کی جدت سے معیشت مضبوط سلامتی بہتر اور عوام کی زندگی آسان ہوگی، اس جہت نے اکیڈیمیا، انڈسٹری، اسٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میرے بچپن میں ٹیکنالوجی کی جدت بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کی آمد تھی اور خاندان کے تمام افراد’’اچے برج لاہور دے‘‘ جیسی پاکستان ٹیلی ویژن کی کلاسک نشریات کو مل کر دیکھتے تھے لیکن آج دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت آگے بڑھ گئی ہے اور ہم تاریخ کے ایک غیر معمولی دور میں ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
ان کا کہنا تھا کہ زرعی پیداوار کے لیے پانی اور دیگر بنیادی عوامل کی ضرورت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے، آج ٹیکنالوجی کی جدید شکل ہمارے سامنے موجود ہے، آج مشینیں محسوس کر کے تیزی سے فیصلے اور ان پر عمل درآمد کرتی ہیں جو کبھی خواب لگتا تھا آج حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ فخریہ طور پر کہتا ہوں کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی اپنائی، سیمولیٹرز 100 فیصد پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں، ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں مسلح افواج نے جدید آٹونومس سسٹمز اور سائبر سیکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا، معرکہ حق میں فیلڈ مارشل کی سربراہی میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی معاونت شان دار رہی اور ہماری مسلح افواج نے ملکی خود مختاری کے تحفظ کے لیے آہنی عزم کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ ملکی صلاحیتوں، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اور آپریشنل مہارت کا بھی بھرپور ثبوت دیا۔ان کا کہنا تھا کہ دفاعی شعبے میں شان دار کامیابیاں مادر وطن کے قومی دفاع کا لازمی جزو ہیں، اس سے ہمارے سیکیورٹی کا نظام مضبوط ہوگا، دفاع مزید ناقابل تسخیر ہو جائے گا اور اس سے ابھرتے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گا، دفاع میں آٹونومس صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا انقلاب چند جدید معیشتوں، بڑی کارپوریشنز اور بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ سب کے لیے مساوی ترقی ہونی چاہیے، کسانوں کی حالت بہتر ہو، چھوٹے کاروبار فروغ پائیں،کاروبار کرنے والی خواتین کو سہولیات ملیں اور کمزور طبقات کو فائدہ پہنچے، محفوظ اور شفاف آٹونومس سسٹمز کے لیے واضح قانون سازی اور اخلاقی فریم ورک بنانا چاہیے۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
مزید :