کراچی، چوری شدہ موٹر سائیکلوں کے پارٹس سے بھرا ٹرک برآمد، 2 ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
کراچی:
شہر قائد میں پاک کالونی پولیس نے پرانا گولیمار کے علاقے میں کباڑ کے گودام پر کامیاب کارروائی کرتے ہوئے چوری شدہ موٹر سائیکلوں کے اسپیئر پارٹس سے لدا ہوا مزدا ٹرک برآمد کرلیا، جبکہ اس دھندے میں ملوث دو ملزمان کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے۔
ترجمان ڈسٹرکٹ کیماڑی پولیس کے مطابق پولیس نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے ایک گودام پر چھاپہ مارا جہاں سے بڑی تعداد میں چوری شدہ موٹر سائیکلوں کے انجن اور دیگر پرزہ جات برآمد کیے گئے۔
پولیس کے مطابق یہ اسپیئر پارٹس ایک مزدا ٹرک میں لوڈ کیے جا چکے تھے، جسے موقع پر ہی قبضے میں لے لیا گیا۔
کارروائی کے دوران گرفتار کیے گئے ملزمان کی شناخت زاہد اور عبدالبصیر کے ناموں سے ہوئی ہے، جبکہ دو دیگر ملزمان ارباز خان اور نور الحق موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
پولیس کے مطابق ان کی تلاش جاری ہے اور مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان سے برآمد شدہ سامان اور دیگر ممکنہ وارداتوں کے حوالے سے مزید تفتیش جاری ہے، اور توقع کی جا رہی ہے کہ اس کارروائی سے موٹر سائیکل چوری کی ایک بڑی کڑی بے نقاب ہو گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔