سٹی42:   سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات  میں اسلام آباد پرنسپل سیٹ  کے ووٹروں نے حامد خان گروپ کےصدر کے امیدوار کو عاصمہ جہانگیر گروپ کے امیدوار پر ترجیح دی البتہ سیکرٹری کے عہدہ کے لئے عاصمہ جہانگیرگروپ کے امیدوار نے حامد خان گروپ کے امیدوار کو آؤٹ کلاس کر دیا۔ سپریم کورٹ بار الیکشن میں اسلام آباد سے  منقسم مینڈیٹ آ گیا

پرنسپل سیٹ اسلام آباد سے حامد خان گروپ کے صدر کے عہدہ کیلئے امیدوار  کو 18 ووٹ زیادہ ملے۔ حامد خان گروپ کے  توفیق آصف 359 لیکر کامیاب، ہوئے اور عاصمہ جہانگیر گروپ کے ہارون الرشید 341 ووٹ حاصل کرسکے۔ اس معمولی لیڈ سے حامد خان گروپ کے صدر کے امیدوار کی مجموعی پوزیشن میں زیادہ فرق نہیں پڑا۔
سیکریٹری کی نشست پر عاصمہ جہانگیر گروپ کا امیدوار زاہد اسلم اعوان 428 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے۔ سیکرٹری کی نشست پر  حامد خان گروپ کے میاں عرفان اکرم نے 198 ووٹ حاصل کیے جو عاصمہ جہانگیر گروپ کے امیدوار کی نسبت نسف سے بھی کم ہیں۔

مکہ مکرمہ میں تاریخی ’’کنگ سلمان گیٹ‘‘ منصوبے کا اعلان

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: عاصمہ جہانگیر گروپ حامد خان گروپ کے گروپ کے امیدوار

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن