data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد:۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات کے غیر حتمی نتائج کے مطابق عاصمہ جہانگیر گروپ کے ہارون الرشید نے مختلف شہروں سے واضح برتری حاصل کرتے ہو ئے کامیابی حاصل کرلی ہے۔

 لاہور میں ہارون الرشید نے 629 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے مدمقابل حامد خان گروپ کے توفیق آصف نے 431 ووٹ لیے۔ کراچی میں بھی ہارون الرشید 195 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر رہے جب کہ توفیق آصف نے 185 ووٹ حاصل کیے۔سوات سے ہارون الرشید نے 27 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی جبکہ توفیق آصف کو 23 ووٹ ملے۔

سکھر میں ہارون الرشید نے 55 ووٹ اور توفیق آصف نے 15 ووٹ حاصل کیے، جبکہ بنوں سے ہارون الرشید نے 25 اور توفیق آصف نے 5 ووٹ لیے۔ ملتان میں بھی عاصمہ جہانگیر گروپ کو برتری حاصل رہی، جہاں ہارون الرشید نے 135 ووٹ حاصل کیے اور توفیق آصف نے 115 ووٹ لیے۔ غیر حتمی نتائج کے مطابق عاصمہ جہانگیر گروپ کو ملک بھر میں نمایاں برتری حاصل ہے۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات کے لیے پولنگ شام 5 بجے تک جاری رہی، اسلام آدبادسیٹ پر 710ووٹ کاسٹ ہوئے۔ سپریم کورٹ کے بار کے انتخابات کے لیے ملک بھر 13پولنگ اسٹیشن بنائیں گئے ، بار کے انتخابات میں مجموعی طور پر 4 ہزار 393 وکلا کوووٹ کا حق حاصل تھا۔

علاوہ ازیں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا الیکشن جیتنے پر انڈیپنڈنٹ گروپ کو مبارکباد دی ہے۔ جمعرات کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے انڈیپنڈنٹ گروپ کے سربراہ احسن بھون، نومنتخب صدر ہارون الرشید اور سیکرٹری زاہد اسلم اعوان و دیگر عہدیداران کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت ہمیشہ سے وکلا برادری کو اصلاحات کے عمل میں اہم شراکت دار تصور کرتی ہے۔ اس سلسلہ میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ہمیشہ وکلا سے رابطہ میں رہتے ہیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ نو منتخب صدر ہارون الرشید اورعہدیداران ملک میں آئین و قانون کی بالادستی اور وکلاکی فلاح و بہبود کا مشن جاری رکھیں گے۔

ویب ڈیسک.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: عاصمہ جہانگیر گروپ ہارون الرشید نے سپریم کورٹ بار ووٹ حاصل کیے توفیق آصف نے کے انتخابات

پڑھیں:

ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا

ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟

سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔

یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔

تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔

مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں

انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔

ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔

تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔

ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔

مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔

تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید

ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • فیفا ورلڈ کپ 2026 نے تاریخ کے سب سے بڑے فٹبال ایونٹ کا اعزاز حاصل کر لیا
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ