انصاف تک آسان رسائی اور قانونی انفراسٹرکچر کی بہتری حکومت کی اولین ترجیح ہے، وزیرقانون پنجاب
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 16 اکتوبر2025ء) وزیر قانون پنجاب رانا محمد اقبال خان نےقلمدان سونپے جانے کے بعد سول سیکرٹریٹ ،محکمہ قانون میں پہلے بریفنگ اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں سیکرٹری قانون آصف بلال لودھی نے صوبائی وزیر کو محکمہ قانون کی کارکردگی، جاری اور مجوزہ منصوبوں پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ صوبے کے تمام ضلع و تحصیل ہیڈکوارٹرز پر خواتین وکلا کے لئے لیڈی بار رومز کے قیام کے منصوبے،مختلف اضلاع بشمول اوکاڑہ، ڈیرہ غازی خان،لودھراں، ساہیوال، مظفرگڑھ، رحیم یار خاں،حافظ آباد، بہاولنگر، وہاڑی، ٹوبہ ٹیک سنگھ، شیخوپورہ اور نارووال میں ڈسٹرکٹ اٹارنیز دفاتر کی تعمیر،ایڈووکیٹ جنرل آفس بہاولپور کی تعمیراتی پیش رفت، جوڈیشل ٹاور لاہور کی تعمیر شامل ہے جبکہ سالانہ ترقیاتی پروگرام(اے ڈی پی )26،2025کے لئے مجوزہ نئی سکیموں بارے بھی بریفنگ دی گئی۔
(جاری ہے)
صوبائی وزیر قانون نے کہا کہ انصاف تک آسان رسائی اور قانونی انفراسٹرکچر کی بہتری پنجاب حکومت کی اولین ترجیح ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں صوبائی حکومت قانون و انصاف کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنےکےلئے پرعزم ہے۔انہوں نے محکمہ قانون کو ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی منصوبوں کی بر وقت تکمیل، شفافیت اور معیار کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ وکلا برادری، خصوصا خواتین وکلا کے لئے بہتر سہولیات کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے تاکہ وہ عدالتی نظام میں بھرپور کردار ادا کر سکیں۔اجلاس میں محکمہ قانون کے سینئر افسران، ،صوبائی وزیر سی اینڈ ڈبلیو صہیب احمد بھرتھ ،ایڈووکیٹ جنرل آفس کے نمائندگان اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔