اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ آئینی بنچ میں سپر ٹیکس سے متعلق درخواستوں پر سماعت کے دوران جسٹس محمدعلی مظہر نے کہاکہ سپر ٹیکس کی رقم قانون میں واضح درج ہے،کمپنیز اپنے حصے کا ٹیکس ادا کریں۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کےمطابق سپریم کورٹ آئینی بنچ میں سپر ٹیکس سے متعلق درخواستوں پر سماعت ہوئی،جسٹس امین الدین کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بنچ نے سماعت کی،مختلف کمپنیوں کے وکیل فروغ نسیم کے دلائل مکمل ہو گئے۔

جسٹس محمدعلی مظہر نے کہاکہ سپر ٹیکس کی رقم قانون میں واضح درج ہے،کمپنیز اپنے حصے کا ٹیکس ادا کریں،عدالت نے کہاکہ آپ کی بات سے لگتا ہے جن پر ٹیکس نہیں لگا ان پربھی لگا دیا جائے۔

نومنتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا حفاظتی ضمانت اور مقدمات کی تفصیلات کیلئے پشاور ہائیکورٹ سے رجوع

فروغ نسیم نے کہاکہ شاید میں اپنے دلائل درست انداز میں پیش نہیں کر سکا،جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ آپ کہنا چاہتے ہیں کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہ ہو، جسٹس محمد علی مظہر نے کہاکہ فائنل ٹیکس رجیم میں ایک بار ٹیکس لگنے کے بعد دوبارہ نہیں لگ سکتا، سپر ٹیکس ایک الگ کیٹگری کے طور پر نافذ کیا گیا ہے،عدالت کی جانب سے مقدمے کی سماعت میں وقفہ کردیاگیا۔

مزید :.

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: سپر ٹیکس نے کہاکہ پر ٹیکس

پڑھیں:

پاکستان اور افغانستان اپنے رویوں پر نظر ثانی کریں، فضل الرحمان

جامعہ اسلامیہ بابوزئی مردان میں خطاب کرتے ہوئے سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے ہاتھوں سے فلسطینیوں کا خون ٹپک رہا ہے اور شہباز شریف ٹرمپ کو امن کا نوبل انعام دلوانے کی بات کر رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کو اپنے رویوں پر نظرثانی کرنا ہوگی، مسلح گروہ جنگ چھوڑ دیں، جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔ جامعہ اسلامیہ بابوزئی مردان میں خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے ہاتھوں سے فلسطینیوں کا خون ٹپک رہا ہے اور شہباز شریف ٹرمپ کو امن کا نوبل انعام دلوانے کی بات کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کو اپنے رویوں پر نظرثانی کرنا ہوگی، مسلح گروہ جنگ چھوڑ دیں، جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملک کی معیشت تباہ ہوچکی ہے، پاکستان وہ نہیں جس کی عوام نے امیدیں لگائی تھیں، قوم نے اسلامی نظام اور دینی آزادی کے لیے پاکستان حاصل کیا تھا، ہم ایسا ملک چاہتے تھے جہاں امن ہو اور لوگ آزادانہ سانس لے سکیں، حکومت عوام کو ان کے حقوق دے۔ فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ آج آئین کو کھلونا بنا دیا گیا ہے، عوامی خواہشات کے بجائے بڑے لوگوں کی مرضی چل رہی ہے، 27ویں ترمیم کے لیے ارکان خریدے گئے، جعلی اکثریت سے 27ویں ترمیم منظور کی گئی، سی پیک آج بھی بند ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان اور افغانستان اپنے رویوں پر نظر ثانی کریں، فضل الرحمان
  • کوئٹہ، ریسٹورانٹس اور ہوٹلوں کی ٹیکس رجسٹریشن کا فیصلہ
  • معروف بزنس مین اور ایمان گروپ آف کمپنیز کے مالک کی گاڑی پر فائرنگ ،سیکیورٹی گارڑ شدید زخمی،نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج
  • عمران خان سے ملاقات کی درخواستوں پر سماعت مکمل،فیصلہ محفوظ
  • لاہور میں ہوا کی رفتار کم، آلودگی میں واضح کمی متوقع
  • ججز کو قانون کی حکمرانی کیلیے کھڑا ہونا چاہیے، کسی دباؤ میں فیصلہ نہ کریں، جسٹس مندوخیل
  • وفاقی آئینی عدالت  میں  ارشد شریف قتل کیس سماعت کیلئے مقرر 
  • ارشد شریف قتل کیس وفاقی آئینی عدالت میں سماعت کیلئے مقرر
  • وفاقی آئینی عدالت: آئندہ ہفتے 3 بینچ مقدمات کی سماعت کریں گے
  • ہم نے ڈکٹیٹرشپ کے دوران آنکھ کھولی‘ اب تو ججز بھی نہیں رہے‘ جسٹس محسن اختر کیانی