عمران خان ایک خودپسند شخص ہےجو اپنی بے لگام سیاسی خواہشات کیلئے ملک اور عوام کو بھی خطرے میں ڈال سکتا ہے:سلیمان شاہ راشدی
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) 26 نومبر کے احتجاج کے دوران پی ٹی آئی کے اراکین پر مبینہ تشدد پر عہدے سے استعفیٰ دینے والے سول سرونٹ سلیمان شاہ راشدی نے خاموشی توڑتے ہوئے عمران خان کیخلاف سخت بیان جاری کر دیاہے ۔
تفصیلات کے مطابق ایکس پر جاری پیغام میں سلیمان شاہ راشدی کا کہناتھا کہ میں نے عمران خان کے لیے اپنی جان اور سیکیورٹی کو خطرے میں ڈالا، اپنی نسلوں پرانی وفاداری پیپلز پارٹی سے توڑ دی؛ اپنے کیریئر کو عروج کے مقام پر ختم کر کے عمران خان کے حامیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔لیکن آخرکار میں نے یہ سمجھ لیا کہ یہ سب کچھ صرف عمران خان کے اپنے ذاتی سیاسی مفادات اور اس کے خاندان کے گرد گھومتا ہے۔اس کا خفیہ بیانیہ یہ ہے کہ اگر وہ اسٹیبلشمنٹ کو اپنی طرف نہیں کر سکتا تو دباؤ ڈال کر اقتدار واپس حاصل کرے۔عمران خان ایک خود پسند انسان ہے جو اپنی بے لگام سیاسی خواہشات کے لیے اپنے ملک اور عوام کو بھی خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ ‘‘
2 ماہ قبل اغوا ہونیوالے اسسٹنٹ کمشنر زیارت کا بیٹا بازیاب
I risked my life and security for Imran Khan; I recanted my generations’ old loyalty to PPP; I ended my career at its peak to show solidarity with the supporters of Imran Khan.
یاد رہے کہ انفار میشن گروپ کے 38ویں کامن سے تعلق رکھنے والے گر یڈ18کے افسر پیر سلیمان شاہ راشدی نے اسلام آ باد میں پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران مبینہ طور پر مظاہرین سے جارحانہ سلوک پر پاکستان کی سول سروس سے استعفیٰ دیدیا تھا، ان کا جھکاؤ ابتداء سےPTI کی جانب رہا حالیہ الیکشن میں عمران کے حق میں وڈیو بھی وائرل ہوئی ، حکام وزارت اطلاعات کا کہنا ہے کہ ان کا جھکاؤابتداءسےPTI کی جانب رہا حالیہ الیکشن میں عمران کے حق میں وڈیو بھی وائرل ہوئی ۔
ویڈیو: صرف ایک کلک پر موسم سے متعلق اہم معلومات جانیے، کس علاقے میں سموگ زیادہ؟ حکومت نے نئی ایپ متعارف کروادی
مزید :
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: سلیمان شاہ راشدی
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔