بھارتی اشتعال انگیز بیانات سے جنوبی ایشیا میں امن خطرے میں پڑ سکتا ہے، پاک فوج
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ بھارتی عسکری قیادت کی حالیہ من گھڑت اور اشتعال انگیز بیانات جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔ ادارے نے پروپیگنڈے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور حکومتِ بھارت و اس کی فوجی قیادت کو خبردار کیا ہے۔
آئی ایس پی آر کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ چند ماہ قبل ہونے والے تنصیباتی واقعات اور سیاسی مواقع کے پس منظر میں بھارتی فوجی قیادت نے وہی متنازع بیانات دوبارہ دہرا دیے ہیں، جو نہ صرف حقیقت سے عاری ہیں بلکہ خطے میں کشیدگی کو ہوا دے سکتے ہیں۔
بیان کے مطابق، مغربی بنگال اور بہار کے انتخابات کے تناظر میں کیے جانے والے بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بھارتی سیاسی و عسکری قیادت ابھی تک پچھلے تنازع میں شکست کو تسلیم کرنے کی حالت میں نہیں۔ آئی ایس پی آر نے اسے انتہائی تشویشناک قرار دیا ہے۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ عالمی منظرنامے پر بھی بھارتی بیانات کی کئی پرتیں بے نقاب ہو چکی ہیں اور بعض حلقے بھارت کو ’سرحد پار دہشتگردی‘ اور علاقائی عدم استحکام کا باعث قرار دینے لگے ہیں۔ اس سلسلے میں بھارتی پالیسیوں کو علاقائی مفادات کے منافی بھی قرار دیا گیا ہے۔
ادارہ نے واضح کیا کہ پاکستانی عوام اور مسلح افواج اپنی سرحدوں اور علاقے کے دفاع کے لیے پوری صلاحیت اور پختہ عزم رکھتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم اپنے قومی مفادات اور سرحدی سالمیت کے دفاع میں کسی سمجھوتے کے لیے تیار نہیں۔
آئی ایس پی آر نے بھارتی عسکری و سیاسی قیادت کو نصیحت کی کہ وہ پاکستانی صلاحیت اور ارادے کو سنجیدگی سے لیں؛ ہر جارحیت کا تیز، مضبوط اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، جس کے اثرات طویل المدت یاد رکھے جائیں گے، بیان میں والدانہ انداز میں خبردار کیا گیا۔
شعبہ تعلقات عامہ نے یہ بھی کہا کہ غیر ضروری گھمنڈ اور بےجا بیانات جنگی جنون کو ہوا دے سکتے ہیں، اور ایسے اقدامات جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ اس لیے بین الاقوامی برادری اور بھارتی عوام کو بھی حقیقت سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ خطے میں مزید کشیدگی سے بچا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئی ایس پی آر امن خطرے میں بھارتی اشتعال انگیز بیانات پاک فوج کا شعبہ تعلقات عامہ جنوبی ایشیا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی ایس پی ا ر بھارتی اشتعال انگیز بیانات پاک فوج کا شعبہ تعلقات عامہ جنوبی ایشیا آئی ایس پی آر نے جنوبی ایشیا سکتے ہیں کے لیے
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔