عمران خان نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو کابینہ اپنی مرضی سے بنانے کا حکم دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن )بانی تحریک انصاف نے سہیل آفریدی کو فری ہینڈ دے دیا ،سہیل آفریدی کو اپنی کابینہ اپنی مرضی سے بنانے حکم ۔24نیوز کے مطابق بانی تحریک انصاف نے حکم دیا ہےکہ خیبر پختونخواہ اور پنجاب کے لئے کوئی الگ ایڈوائزی کونسل نہیں ہو گی ۔سہیل آفریدی اور عالیہ حمزہ اپنے صوبوں کے معاملے چلانے میں خود مختار ہیں ۔بانی نے بیرسٹر سیف اور مزمل اسلم کے نام کی کوئی خصوصی ہدایات بھی نہیں کی ۔بانی کا حکم ملنے کے بعد سہیل آفریدی متحرک ، آئی ایس ایف بیک گراونڈ والے ایم پی ایز کو گرین سگنل دے دیا ۔نوجوانوں کو صوبائی کابینہ میں لینے پر پرانی کابینہ واش آوٹ ہونے کے امکانات بڑھ گئے ۔بانی کے نئے احکامات کے مطابق بیرسٹر سیف اور مزمل اسلم کے محفوظ نام پر بھی تلوار لٹکنے لگی ۔
قصور میں بدبخت بیٹے نے نشے کے لیے پیسے نہ ملنے پر ضعیف باپ کو آگ لگا دی
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: سہیل آفریدی
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔