سابق فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی پانچ سالہ سزائے قید کاٹنے کے لیے جیل پہنچا دیے گئے غزہ سیزفائر ڈیل کی ’مسلسل خلاف ورزی،‘ قطر کے امیر کی طرف سے اسرائیل کی مذمت سابق فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی پانچ سالہ سزائے قید کاٹنے کے لیے جیل پہنچا دیے گئے

فرانس کے سابق صدر نکولا سارکوزی کو منگل 21 اکتوبر کی صبح ملکی دارالحکومت پیرس کی ایک جیل پہنچا دیا گیا، جہاں انہیں پانچ سالہ سزائے قید کاٹنا ہے۔

انہیں یہ سزا 2007ء کی اپنی صدارتی انتخابی مہم کے لیے غیر قانونی رقوم کے حصول کی مجرمانہ اسکیم کی وجہ سے سنائی گئی تھی۔

نکولا سارکوزی کے جیل پہنچائے جانے کے لیے پیرس کی سڑکوں پر پولیس کی حفاظت میں گاڑی میں سفر کے مناظر فرانسیسی ٹیلی وژن پر بھی دکھائے گئے۔

(جاری ہے)

سارکوزی کی عمر اس وقت 70 برس ہے اور انہیں ماضی میں لیبیا کے آمر معمر قذافی سے اپنی صدارتی انتخابی مہم کے لیے رقوم حاصل کرنے کے سلسلے میں ایک مجرمانہ تنظیم کا حصہ بننے کے الزام میں عدالت نے مجرم قرار دے دیا تھا اور پانچ سال قید کی سزا سنائی تھی۔

فرانس کے یہ سابق صدر اس مقدمے میں آخر تک اپنے خلاف الزامات سے انکار کرتے رہے تھے اور انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں بھی لکھا کہ وہ بےقصور ہیں۔

سارکوزی نے ایکس پر لکھا، ’’میں عدلیہ کے اس اسکینڈل کی مذمت کرتا رہوں گا۔‘‘ ان کے بقول انہیں یہ سزا ایک ایسی طویل چھان بین کے بعد سنائی گئی، جس کی بنیاد ایک ایسی دستاویز تھی، جس کا جعلی ہونا اب ثابت ہو چکا ہے۔

پیرس کی لا سانتے جیل میں قید اور رہائی کی درخواست

نکولا سارکوزی کو منگل کی صبح وسطی پیرس کی جس جیل میں پہنچایا گیا، اس کا نام لا سانتے ہے اور وہاں وہ ایک ایسے خصوصی یونٹ میں رہیں گے، جہاں ان قیدیوں کو رکھا جاتا ہے، جن کو اضافی تحفظ کی ضرورت ہو۔

حکام کے مطابق جیل میں سارکوزی کے ساتھ کوئی ترجیحی سلوک نہیں کیا جائے گا لیکن یہ غالب امکان ہے کہ وہ اس جیل کے ایک ایسے حصے میں قید رہیں گے، جو دوسرے حصوں سے الگ ہے۔

اسی دوران نکولا سارکوزی کے وکیل نے کہا ہے کہ سابق صدر نے ایک بار پھر اپنے بے قصور ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور جیل پہنچتے ہی یہ باقاعدہ درخواست بھی دے دی گئی کہ انہیں جیل سے رہا کر دیا جائے۔

سارکوزی کے جیل پہنچائے جانے کے بعد ان کے وکیل کرسٹوف اِنگراں نے صحافیوں کو بتایا، ’’سابق صدر کے جیل پہنچنے کے کچھ ہی دیر بعد ان کی طرف سے ایک قانونی درخواست باقاعدہ طور پر جمع کرا دی گئی کہ انہیں جیل سے رہا کر دیا جائے۔

‘‘
غزہ سیزفائر ڈیل کی ’مسلسل خلاف ورزی،‘ قطر کے امیر کی طرف سے اسرائیل کی مذمت

غزہ پٹی میں حماس اور اسرائیل کے درمیان دو سالہ جنگ میں سیزفائر کے لیے ثالثی کرنے والے کلیدی ملک اور خلیجی عرب ریاست قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے غزہ جنگ بندی معاہدے کی ’’مسلسل خلاف ورزی‘‘ کی شدید مذمت کی ہے۔

قطر کے دارالحکومت دوحہ سے منگل 21 اکتوبر کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق قطر کے امیر نے کہا کہ غزہ جنگ بندی معاہدے کو ابھی صرف 11 روز ہوئے ہیں اور اس فلسطینی ساحلی پٹی میں اسرائیل کی طرف سے حماس کی پوزیشنوں پر کئی سلسلہ وار اور ہلاکت خیز فضائی حملے کیے بھی جا چکے ہیں۔

شیخ تمیم بن حمد الثانی نے دوحہ میں قطر کے شوریٰ کونسل کہلانے والے قانون ساز ادارے کے اجلاس سے اپنے سالانہ افتتاحی خطاب میں منگل کے روز کہا، ’’ہم ایک بار پھر اسرائیل کی طرف سے کی جانے والی تمام خلاف ورزیوں اور فلسطین میں کی جانے والی جملہ کارروائیوں کی مذمت کرتے ہیں، خاص طور پر غزہ پٹی کو ایک ایسے خطے میں بدل دینے کی، جو انسانوں کے رہنے کے قابل نہیں رہا اور جنگ بندی معاہدے کی ان خلاف ورزیوں کی، جو مسلسل کی جا رہی ہیں۔

‘‘

اسرائیلی فوج کا الزام اور حماس کی طرف سے تردید

اسرائیلی فوج کے مطابق غزہ پٹی میں جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد جاری ہے، لیکن گزشتہ ویک اینڈ پر وہاں حماس کی طرف سے مبینہ طور پر اسرائیلی فوجیوں کو ایک ٹینک شکن میزائل سے حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے نتیجے میں دو فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

اس کے فوری بعد اسرائیل نے غزہ پٹی میں اس میزائل حملے کی جگہ کے قریب حماس کی پوزیشنوں کو نشانہ بنایا تھا اور فضائی حملے کیے تھے، جن میں فلسطینی طبی ذرائع کے مطابق 44 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

حماس نے اپنے خلاف ان الزامات کی تردید کی تھی کہ اسرائیلی فوجیوں پر میزائل حملہ اس کے عسکریت پسندوں نے کیا تھا۔

اس میزائل حملے کے بعد اسرائیل نے غزہ پٹی میں اشیائے خوراک اور دیگر امدادی سامان پہنچانے کی اجازت معطل کر دی تھی، جو کل پیر 20 اکتوبر کو بحال کر دی گئی تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے مسلسل خلاف ورزی جنگ بندی معاہدے غزہ پٹی میں قطر کے امیر اسرائیل کی سارکوزی کے کی طرف سے کے مطابق کی مذمت پیرس کی حماس کی کے لیے

پڑھیں:

واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع

اسرائیل کی جانب سے لبنان پر خون ریز حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان واشنگٹن میں مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق لبنان اور اسرائیل کے درمیان واشنگٹن میں شروع ہونے والے مذاکرات جنگ بندی مذاکرات کا تسلسل اور چوتھا دور ہے۔

لبنان کی سرکاری خبرایجنسی نے بتایا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا چوتھا دور واشنگٹن میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ہیڈکوارٹرز میں شروع ہوگئے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ مذاکرات کے لیے دونوں فریق کے نمائندے واشنگٹن پہنچے، جس کے بعد مذاکرات شروع ہوئے ہیں۔

قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو لبنان پر حملوں کے حوالے سے ٹیلی فون پر سخت الفاظ کا استعمال کیا تھا۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو پاگل قرار دیا اور کہا کہ ہر کوئی تم سے نفرت کرتا ہے، اسی وجہ سے لوگ اسرائیل سے بھی نفرت کرتے ہیں۔

دوسری جانب لبنان پر اسرائیل کے حملے جاری ہیں جہاں جنوبی لبنان کے بڑے شہروں میں سے ایک نباطیہ پر شدید بم باری کی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • دعا گو ہیں فیلڈ مارشل کی خلیج امن کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت