لاہور (نامہ نگاران+ نوائے وقت) امیر جماعت اسلامی کی اپیل پر لاہور، سرگودھا، فیصل آباد، اوکاڑہ، بہاولپور، جھنگ، سیالکوٹ، ساہیوال، قصور، شیخوپورہ، حافظ آباد، گوجرانوالہ اور گجرات کے مختلف شہروں میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے پنجاب کے بلدیاتی قانون کو آئین و جمہوریت کے منافی قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف احتجاجی تحریک کا دائرہ وسیع کرنے کا اعلان کر دیا۔ لاہور کے مال روڑ پر مقامی حکومتوں کے قانون کے خلاف احتجاجی مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اکیس دسمبر کو جہاں پنجاب کے تمام اضلاع میں دھرنوں کا اعلان کیا وہیں جماعت اسلامی کے کارکنان کو سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں بااختیار بلدیاتی نظام کے حق میں مظاہروں کی ہدایات بھی جاری کی ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ احتجاج میں بھرپور شرکت یقینی بنائیں اور جماعت اسلامی کے ساتھ مل کر اپنے حق کے حصول کی جد و جہد تیز کریں۔
لاہور میں اجتجاج سے امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری فیصل آباد میں امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی جاوید قصوری، گجرات میں امیر پنجاب شمالی ڈاکٹر طارق سلیم، بہاولپور میں امیر جماعت پنجاب جنوبی سید ذیشان اختر، سیالکوٹ میں نائب امیر پنجاب ڈاکٹر ذکر اللہ مجاہد نے خطاب کیا۔ وہاڑی، ساہیوال، اوکاڑہ، گجرانولہ، شیخوپورہ، جھنگ اور دیگر اضلاع میں مظاہروں کی قیادت امرائے اضلاع نے کی۔ مال روڑ پر مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا جماعت اسلامی عوام کو بااختیار بنانے کے لیے جد وجہد کو تیز تر کرے گی ، اس کے لیے جہاں آئندہ دنوں میں عوامی عدالتیں لگیں گیں اور گلی، محلوں میں احتجاج جاری رہے گا وہیں عدالتوں کے دروازے بھی کھٹکھٹائے جائیں گے۔ ہمیں امید ہے کہ ججز عوام کو اختیارات دیں گے اور اس قانون کے خلاف فیصلہ دیں گے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ عوام کی رائے کا احترام اور انہیں بنیادی ضروریات کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ تاہم جمہوریت کا راگ الاپنے والے عوام کو محکوم رکھنے پر تْلے ہوئے ہیں۔ پنجاب کے نئے بلدیاتی قانون میں تمام اختیارات بیوروکریسی اور صوبائی حکومت کو دے دئیے گئے ہیں۔ غیر جماعتی انتخابات کا مطلب ہے کہ الیکشن کے بعد ہارس ٹریڈنگ ہو گی۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا ملک کے نظام پر بیوروکریسی، اسٹیبلشمنٹ، خاندانی سیاسی پارٹیاں اور چند جاگیردار اور سرمایہ دار قابض ہیں۔ یہ ملک کی آبادی کا ایک فیصد بھی نہیں ہیں، عوام کو بنیادی سہولتیں تک دستیاب نہیں اور اشرافیہ نے تمام مراعات حاصل کر رکھی ہیں، جماعت اسلامی اس فرسودہ نظام کے خلاف جد وجہد جاری رکھے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) بجٹ سے چند روز قبل ہی آئینی عدالت سے حکومت کو ریونیو کی مد میں بڑا جھٹکا، وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی۔

نجی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے غیر رجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا۔ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کیا۔

 وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31 اے میں ابہام ہے، حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا، اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا۔

لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی

فیصلے میں کہا گیا کہ قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں، قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں مزید لکھا کہ رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی۔

وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا۔ پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔

ڈیل مکمل جھوٹ ہے ، پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کررہی، عمران خان کو خاموش کروانے کے لیے قید تنہائی میں رکھاگیا ہے،علیمہ خان

مزید :

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی