پنجاب کے بلدیاتی قانون کیخلاف جماعت اسلامی کا مختلف شہروں میں احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
لاہور:
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کی اپیل پر پنجاب حکومت کے ’’کالے بلدیاتی قانون‘‘ کے خلاف صوبے بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔
صوبائی دارالحکومت لاہور، فیصل آباد، وہاڑی، مظفر گڑھ، چنیوٹ، بہاولنگر سمیت مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہروں کا انعقاد کیا گیا جس میں کارکنوں کی کثیر تعداد شریک ہوئی۔
لاہور میں مال روڈ پر احتجاجی جلسے سے خطاب میں امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک کی صورتحال قوم کے سامنے ہے، 78 سال سے لوگ کسمپرسی کا شکار ہیں، پاکستان میں صرف معاشی ہی نہیں سیاسی ماڈل بھی ناکام ہوا ہے، حکمران طبقہ عوام کو ریلیف نہیں دے رہا، یہ فارم 47 کے ذریعے آئی حکومت ہے، اشرافیہ کے چند لوگوں نے پورے نظام پر قبضہ کیا ہوا ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ پنجاب کا بلدیاتی ایکٹ کالا قانون ہے، ووٹ کو عزت دینے والوں نے طے کیا کہ یونین کونسل کا سربراہ بھی ووٹ کے ذریعے نہیں ہوگا، یہ کالا قانون تمام اختیارات بیورو کریسی اور صوبائی حکومتوں کو دے رہا ہے، نوازشریف سے پوچھتے ہیں آپ نے ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگایا لیکن بلدیات کی سطح پر الیکشن کیوں نہیں کروائے گئے، 21 دسمبر کو تمام ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز پر احتجاجی دھرنے ہوں گے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ انگریز کی تیار کردہ بیورو کریسی ہے خود کو عوام کا حاکم سمجھتی ہے، نوازشریف سے پوچھتا ہوں کہ 2019 والا بلدیاتی الیکشن ن لیگ نے نہیں کروایا، کون سی جمہوریت ہے جو کہتی ہے غیر جماعتی بنیادوں پر الیکشن کروائیں اور ایک ماہ میں پارٹی شمولیت اختیار کریں، نوازشریف کو لانے والے ہی ذمہ دار ہیں، ہم جانتے ہیں کس طرح فارم سینتالیس پر حکومت دی گئی۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ آرڈیننس سے بلدیاتی اداروں پر قبضہ کیا جسے قبول نہیں کریں گے، بلدیاتی کالے قانون کے خلاف 21 دسمبرکو ڈویژن ہیڈ کوارٹرز میں دھرنا دیں گے، پیپلزپارٹی نے سندھ میں سب اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھ کر خزانے پر قبضہ کررکھا ہے، ن لیگ اور پیپلزپارٹی خاندانی بنیاد پر چلتی ہیں بھانجوں بھتیجوں کو ہی ٹکٹیں بانٹی جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چچا وزیراعظم اور بھتیجی وزیر اعلیٰ ہے لیکن خود نوازشریف ناراض ناراض رہتے ہیں لیکن یہ عوام کو اختیار دینے کو تیار نہیں، اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ سر پر آنے سے سیاستدان زندہ باد کا نعرہ لگاتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی حافظ نعیم نے کہا کہ
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔