پی ایس بی کوچنگ سینٹر کراچی سندھ کے حوالے کرنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
وزیر کھیل سردار محمد بخش مہر نے ایک مرتبہ پھر وفاق سے پی ایس بی کوچنگ سینٹر کراچی سندھ کے حوالے کرنے کا مطالبہ کردیا۔ان کا کہنا ہے کہ 18ویں ترمیم کے بعد کھیلوں کا مرکزسندھ کو ملنا چاہیے، 18 سال بعد کراچی میں 35 ویں نیشنل گیمز شایان شان اندازمیں منعقد کرائے جائیں گے۔
6 دسمبر کو نیشنل اسٹیڈیم میں روائتی انداز میں صدرپاکستان آصف علی زرداری رنگا رنگ تقریب میں گیمز کا افتتاح کریں گے۔
13 دسمبرکواختتامی تقریب میں وزیر اعظم میاں شہباز شریف مہمان خصوصی ہوں گے۔ ٹارچ مشعل ریلی 15 نومبر کو مزار قائد سے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کی قیادت میں ملک گیرسفرکا آغاز کرے گی۔
گیمز کے موقع پرکھلاڑیوں، اور آفیشلز سمیت 11 ہزار سے زائد مہمانوں کو بہترین سہولیات کی فراہمی کے ساتھ سیکیورٹی کے بہترین انتظامات کیے جائیں گے، شہریوں کو دقت سے بچانے کے لیے ٹریفک کا خصوصی پلان تیار کیا جائےگا۔اگلے برس سندھ گیمز کا انعقاد ہوگا،علاقائی کھیلوں اورای اسپورٹس کو بھی فروغ دیا جائے گا۔
نیشنل اسٹیڈیم اور گیمزسیکریٹریٹ میں انتظامات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سردار محمد بخش مہر نے کہا کہ گیمزکی میزبانی ملنا سندھ کے لیے بڑا اعزاز اور اہم ذمہ داری ہے۔سندھ حکومت نے تیاریاں مکمل کرلی ہیں، گیمز میں مردوں کے 31 اورخواتین کے 29 کھیلوں میں ایک ہزارمیڈلز کے لیے مقابلے ہوں گے، شریک 14 یونٹس میں چاروں صوبوں کے ساتھ تینوں مسلح افواج 7سمیت محکمہ جاتی ٹیمیں بھی شامل ہوں گی۔ تمام وینیوز کو جدید سہولیات سے آراستہ کرکے کھلاڑیوں کو بہترین ماحول فراہم کیا جائے گا، گیمز سے قبل ٹارچ ریلی ملک گیرسفر کرے گی۔
نیشنل اسٹیڈیم میں تعمیرات اور انتظامات کے حوالے سے چیئرمین پی سی بی محسن رضا نقوی اور پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے عہدیداروں سے رابطے میں ہیں۔ سندھ اسپورٹس بورڈ اور سندھ اولمپک ایسوسی ایشن ایک پیج پر ہیں، سیکیورٹی اور ٹریفک کے حوالے سے اسٹینڈنگ کمیٹی کا اجلاس یکم نومبر کو ہوگا۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری 22نومبرکو کراچی میں ای گیمز ٹورنامنٹ کا افتتاح کریں گے۔
دورے میں سیکریٹری کھیل منور علی مہیسر، ڈائریکٹر اسپورٹس اسد اسحاق، چیف انجینئر اسلم مہر، سندھ اولمپک ایسوسی ایشن کے احمد علی راجپوت، اصغر بلوچ، ڈی ایس او اسماعیل شاہ، نیشنل اسٹیڈیم کے جنرل منیجر ارشد خان سمیت دیگر حکام شریک تھے، صوبائی وزیر کو انتظامات پرتفصیلی بریفنگ کے بعد بعض ضروری ہدایات بھی جاری کیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نیشنل اسٹیڈیم کے حوالے
پڑھیں:
سندھ تعلیمی بورڈ اصلاحات 2026، آن اسکرین مارکنگ اور خودکار رزلٹ سسٹم منظور
کراچی: سندھ تعلیمی بورڈ اصلاحات 2026 کے تحت صوبائی حکومت نے امتحانی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا اہم فیصلہ کر لیا ہے۔ سندھ کابینہ نے “سندھ بورڈز آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن اصلاحاتی پیکیج 2026” کی منظوری دے دی، جس کے بعد صوبے کے تمام تعلیمی بورڈز میں جدید ڈیجیٹل امتحانی نظام مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق اس منصوبے کا مقصد امتحانات میں شفافیت بڑھانا، نتائج کی تیاری کو تیز اور درست بنانا اور طلبہ کو جدید سہولیات فراہم کرنا ہے۔
امتحانی نظام میں کیا تبدیلیاں ہوں گی؟
اصلاحاتی پیکیج کے تحت سندھ کے ساتوں تعلیمی بورڈز میں ایگزامینیشن مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (EMIS) نافذ کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ امتحانات میں او ایم آر (OMR) سسٹم، آن اسکرین مارکنگ اور خودکار رزلٹ سسٹم متعارف کرایا جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس نئے نظام سے نتائج کی تیاری کے دوران انسانی غلطیوں میں نمایاں کمی آئے گی، جبکہ مارکنگ اور رزلٹ کا عمل پہلے سے زیادہ شفاف اور تیز ہوگا۔
ڈیجیٹل اسناد بھی جاری کی جائیں گی
سندھ تعلیمی بورڈ اصلاحات 2026 کے تحت طلبہ کو مستقبل میں کیو آر کوڈ پر مبنی ڈیجیٹل اسناد جاری کی جائیں گی۔ ان اسناد کی آن لائن تصدیق بھی ممکن ہوگی، جس سے جعلی سرٹیفکیٹس کی روک تھام اور تصدیقی عمل مزید آسان بنایا جا سکے گا۔
24 ماہ میں اصلاحات مکمل کرنے کا ہدف
سندھ کابینہ نے ان اصلاحات پر عمل درآمد کے لیے 24 ماہ پر مشتمل منصوبے کی بھی منظوری دے دی ہے۔ اس سلسلے میں یونیورسٹیز اینڈ بورڈز ڈپارٹمنٹ کو ضروری قانون سازی کی تجاویز جلد تیار کر کے پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ نئے نظام کو قانونی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
بورڈ چیئرمینز کی تقرری سے متعلق بھی اہم فیصلہ
کابینہ نے تعلیمی بورڈز کے چیئرمینز کی تقرری کے لیے زیادہ سے زیادہ عمر کی حد 55 سال سے بڑھا کر 63 سال کرنے کی بھی منظوری دے دی ہے، تاکہ زیادہ تجربہ رکھنے والے افراد کو قیادت کا موقع مل سکے۔
اس کے علاوہ میٹرک بورڈ کراچی اور انٹرمیڈیٹ بورڈ حیدرآباد کے چیئرمینز کی خالی آسامیوں کو دوبارہ مشتہر کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ تاہم پہلے سے درخواست جمع کرانے والے امیدواروں کی درخواستیں برقرار رہیں گی اور انہیں دوبارہ درخواست دینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔