دبئی:دنیا بھر کی نظریں پاک بھارت مکسڈ مارشل آرٹس مقابلے پر مرکوز
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
دبئی(ویب ڈیسک)گزشتہ سال رضوان نے بھارتی حریفوں کیخلاف 3 ناک آؤٹ فتوحات حاصل کی تھیں، اور وہ پاکستان کے ابھرتے ہوئے مکسڈ مارشل آرٹس کا ’روشن ستارہ‘ ہیں۔کل جمعرات کے روز تمام نگاہیں ناقابلِ شکست پاکستانی فائٹر رضوان علی ’دی حیدر‘ پر مرکوز ہوں گی، جب وہ دبئی کے ایجنڈا ایرینا میں ہونے والے رشین بیسڈ ایبسلوٹ چیمپئن شپ اخمت (اے سی اے) کے ابتدائی کارڈ میں ایک نہایت پُرجوش لائٹ ویٹ مقابلے میں بھارت کے رانا رودر پرتاپ سنگھ کے خلاف ’پنجرے‘ میں قدم رکھیں گے۔رضوان، جو 10 صفر کے شاندار ریکارڈ کے حامل ہیں، اگست میں مصر کے ادھم محمد کے خلاف اپنے پچھلے سخت مقابلے کے بعد دوبارہ اپنی برتری ثابت کرنے کے خواہاں ہیں۔گزشتہ سال رضوان نے بھارتی حریفوں کے خلاف 3 ناک آؤٹ فتوحات حاصل کی تھیں، اور وہ پاکستان کے ابھرتے ہوئے مکسڈ مارشل آرٹس (ایم ایم اے) کے سب سے روشن ستارے سمجھے جاتے ہیں۔
ان کے سامنے 28 سالہ رودر پرتاپ (12-2) ہوں گے، جن کا زیادہ تر ریکارڈ بینٹم ویٹ کیٹیگری میں بنا ہے، جس سے یہ مقابلہ دونوں فائٹرز کے لیے خطرناک مگر فائدہ مند چیلنج بن گیا ہے۔پاکستان ایم ایم اے فیڈریشن کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق، اس ایونٹ میں الٹی میٹ فائٹنگ چیمپئن شپ ( یو ایف سی) کے اہلکاروں کی موجودگی متوقع ہے، یہ ایک ایسا موقع ہے، جو رضوان کے حتمی خواب سے بخوبی مطابقت رکھتا ہے۔رضوان نے رواں سال ’ڈان‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ یو ایف سی میں کوئی پاکستانی فائٹر نہیں ہے، اور میں پہلا پاکستانی بننا چاہتا ہوں۔
یہ اہم اور پرجوش مقابلہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے، جب پاکستانی ایم ایم اے تیزی سے ترقی کر رہا ہے، جہاں شہاب علی، عبدالمنان اور ایان حسین کی جارجیا میں حالیہ بین الاقوامی فتوحات نے ملک کی پہچان کو مزید مضبوط کیا ہے۔اگر ’دی حیدر‘ رضوان علی یہ لڑائی جیت لیتے ہیں، تو نہ صرف وہ اپنے ناقابلِ شکست ریکارڈ کا تحفظ کریں گے، بلکہ ممکن ہے کہ وہ عالمی سطح پر یو ایف سی کے دروازے پاکستانی فائٹرز کے لیے کھول دیں، اور یوں پاکستانی فائٹنگ اسپورٹس کی تاریخ میں رہنما اور علمبردار کے طور پر اپنا نام رقم کر جائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
گلگت: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں. امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں. جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں. میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں. گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے.
قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔چیئرمین پی پی کا کہنا تھا کہ انہیں کون سمجھائے کہ بھٹو کے 70ء کے دور میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق یہاں سے پچاس ہزار میگا واٹ تک بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور یہاں ایک پروفیسر یہ کہہ کر خوش ہورہا ہے کہ یہاں سو میگا واٹ بجلی دینا میرے داہنے ہاتھ کا کام ہے، اگر داہنے ہاتھ کا کام ہے تو کیا کیوں نہیں؟ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے اپنی بجلی پیدا کریں گے اور اسلام کو فروخت کریں گے.پروفیسر کو فروخت کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔