2لاکھ ‘ 30ہزار مربع میل پر پھیلے پاکستانی معدنی ذخائر عالمی معیا ر کے حامل : امریکی جریدہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
لاہور (نوائے وقت رپورٹ) دنیا بھر میں پاکستان کے معدنی ذخائر کی عالمی اہمیت کا اعتراف کیا جا رہا ہے جب کہ امریکی جریدے فارن پالیسی نے اسے تسلیم کیا۔ ’’فارن پالیسی‘‘ کے مطابق پاکستان کے معدنی ذخائر 2 لاکھ 30 ہزار مربع میل پر محیط ہیں، یہ معدنی ذخائر اعلیٰ عالمی معیار اور برطانیہ کے رقبے سے دوگنا ہیں۔ معدنی شعبے میں بین الاقوامی سرمایہ کاری، باہمی معاہدوں سے پاکستان اور سرمایہ کار ممالک دونوں کو معاشی، تکنیکی اور سماجی فوائد حاصل ہوں گے۔ امریکی جریدے کے مطابق پاکستان میں معدنی وسائل سے استفادہ کرنے کے لئیے قومی معدنی پالیسی 2025ء مرتب کی گئی، قومی معدنی پالیسی کے2025ء کے ثمرات پاکستان بالخصوص بلوچستان کے عوام تک پہنچیں گے۔ بین الاقوامی تعاون اور ٹیکنالوجی شیئرنگ سے معدنیات کے شعبے میں مزید پیش رفت کی توقع ہے، اس تناظر میں پاکستان کے معدنی وسائل کی اہمیت عالمی سطح پر مسلم ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔