2لاکھ ‘ 30ہزار مربع میل پر پھیلے پاکستانی معدنی ذخائر عالمی معیا ر کے حامل : امریکی جریدہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
لاہور (نوائے وقت رپورٹ) دنیا بھر میں پاکستان کے معدنی ذخائر کی عالمی اہمیت کا اعتراف کیا جا رہا ہے جب کہ امریکی جریدے فارن پالیسی نے اسے تسلیم کیا۔ ’’فارن پالیسی‘‘ کے مطابق پاکستان کے معدنی ذخائر 2 لاکھ 30 ہزار مربع میل پر محیط ہیں، یہ معدنی ذخائر اعلیٰ عالمی معیار اور برطانیہ کے رقبے سے دوگنا ہیں۔ معدنی شعبے میں بین الاقوامی سرمایہ کاری، باہمی معاہدوں سے پاکستان اور سرمایہ کار ممالک دونوں کو معاشی، تکنیکی اور سماجی فوائد حاصل ہوں گے۔ امریکی جریدے کے مطابق پاکستان میں معدنی وسائل سے استفادہ کرنے کے لئیے قومی معدنی پالیسی 2025ء مرتب کی گئی، قومی معدنی پالیسی کے2025ء کے ثمرات پاکستان بالخصوص بلوچستان کے عوام تک پہنچیں گے۔ بین الاقوامی تعاون اور ٹیکنالوجی شیئرنگ سے معدنیات کے شعبے میں مزید پیش رفت کی توقع ہے، اس تناظر میں پاکستان کے معدنی وسائل کی اہمیت عالمی سطح پر مسلم ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کویت کے وزیرِ خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح سے ٹیلیفونک گفتگو کی جس میں خطے اور دنیا میں جاری بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔کویتی وزیرِ خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح نے پاکستان کے مسلسل مصالحتی کردار اور امریکہ و ایران کے درمیان روابط و مذاکرات میں سہولت کاری کی کوششوں کو سراہااور علاقائی امن و سلامتی کے فروغ میں پاکستان کے تعمیری کردار کی تعریف کی۔دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق نائب وزیرِاعظم و وزیرِخارجہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان سفارتکاری اور مسلسل مذاکرات کو خطے میں پائیدار امن و استحکام کے حصول کا بہترین راستہ سمجھتا ہے اور اس کی حمایت جاری رکھے گا۔ دونوں جانب نے پاکستان اور کویت کے درمیان مضبوط برادرانہ تعلقات کی بھی توثیق کی اور آئندہ بھی قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔ علاوہ ازیں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے بیلجیم میں پاکستان کے سفیر رحیم حیات قریشی نے ملاقات کی۔ دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم نے یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ نائب صدر کے حالیہ دورہ پاکستان کے مثبت نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے سفیر کو ہدایت کی کہ وہ اس دورے کے دوران طے پانے والی مفاہمتوں پر عملدرآمد کی پیروی جاری رکھیں اور یورپی یونین کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دینے کیلئے کوششیں تیز کریں۔