پیپلز پارٹی نے حکومت کو ایک ماہ کا نوٹس دے دیا ہے کہ وہ اس عرصے میں پی پی کے تحفظات دورکریں، ورنہ سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوگا اور اس سلسلے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ بلاول ہاؤس کراچی میں منعقدہ اس اجلاس میں صدر مملکت آصف زرداری بھی شریک تھے جنھوں نے پنجاب حکومت کے رویے پر پی پی رہنماؤں کے گلے شکوے بھی سنے اور اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ مسلم لیگ (ن) کی وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے جائیں گے۔
اجلاس کے بعد یہ بھی معلوم ہوا کہ صدر زرداری پنجاب میں پی پی اور (ن) لیگ اختلافات کا معاملہ متعلقہ حلقوں کے ساتھ اٹھائیں گے اور وہ میاں نواز شریف کے ساتھ بھی اس سلسلے میں بات کر سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ پی پی کی سینٹرل کمیٹی کے اجلاس سے قبل بلاول بھٹو کی قیادت میں پی پی کے وفد نے وزیر اعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کی تھی اور پنجاب حکومت کے بیانات اور رویے پر پی پی کے تحفظات کا اظہار کیا تھا جس پر وزیر اعظم نے پی پی وفد کو شکایات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی جس پر پیپلز پارٹی مطمئن نہیں تھی جس کے بعد یہ مسئلہ سینٹرل کمیٹی کے اجلاس میں زیر غور آیا اور حکومت کو ایک ماہ کی مہلت دی گئی۔
اطلاع کے مطابق اجلاس میں پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی دو آراء تھیں کہ اگر حکومت پی پی کے تحفظات دور نہیں کرتی تو اپوزیشن میں بیٹھا جائے۔ ایک رائے حکومت میں شامل ہو کر وزارتیں لینے کی بھی تھی مگر اجلاس کے بعد بتایا گیا کہ پیپلز پارٹی وفاقی کابینہ میں شامل نہیں ہو رہی۔ مسلم لیگ (ن) کی وفاقی اور پنجاب حکومتوں کے سلسلے میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ پی پی کو وفاقی حکومت سے اتنی شکایات نہیں جتنی پنجاب حکومت کے ساتھ ہیں۔
پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے مطابق پی پی اور (ن) لیگ کے درمیان اختلافات پیدا ہونے میں ایک دوسرے پر تنقید کا بڑا کردار ہے ۔
دونوں جانب سے متنازع بیانات سے معاملات کو مزید خراب کیا گیا کہ بعد میں وزیر اعظم کو مداخلت کرنا پڑی اور ان کی ہدایت پر اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی سربراہی میں مسلم لیگ (ن) کا وفد صدر زرداری سے ملنے نواب شاہ گیا تھا جس میں دونوں پارٹیوں کے مابین بیان بازی پر بات ہوئی اور دونوں طرف سے آیندہ متنازع بیانات نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا جس کے بعد پی پی رہنماؤں اور سندھ و پنجاب کے وزیروں کے ایک دوسرے کے خلاف بیانات رک گئے تھے۔
وفاق اور پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومتیں ڈیڑھ سال سے اقتدار میں ہیں۔ اس عرصے میں ملک کے عوام کو مہنگائی سے نجات دلانے کی بھرپور کوشش ضرور ہوئی مگر مہنگائی قابو میں نہیں آ رہی اور عوام کو ریلیف دینے کے وعدے بہت ہوئے جب کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو اپنے عوام کی فلاح و بہبود اور پنجاب کی ترقی کا خیال رہتا ہے۔ انھوں نے عوام کی ترقی کے لیے بہت سے منصوبے پیش کیے ہیں۔
اسلام آباد میں تعمیری و ترقیاتی منصوبے وزیر داخلہ کے سپرد ہیں جو اسلام آباد کی انتظامیہ اور سی ڈی اے سے بھی کام لے رہے ہیں اور ملک بھر میں ترقیاتی کام اب وزرائے اعلیٰ کا اختیار ہے جن سے وفاقی حکومت کا کوئی تعلق نہیں۔ پنجاب میں وزیر اعلیٰ اپنے صوبے کی تعمیر و ترقی کی ذمے داری بخوبی نبھا رہی ہیں اور ترقیاتی منصوبوں پر بھرپور توجہ دے رہی ہیں ، اسی لیے ترقی صرف پنجاب میں اور عوام کی حالت دوسرے صوبوں سے بہتر نظر آتی ہے جو ان کا فرض بھی ہے۔
پیپلز پارٹی کو وفاق سے شکایت ہے کہ اس نے حالیہ سیلاب میں بیرونی امداد کیوں طلب نہیں کی جب کہ وفاقی حکومت کی ترجیح ملک کے لیے قرضوں کا حصول رہا ہے۔ ن لیگ اپنے طویل دور اقتدار میں عوامی ترقیاتی منصوبے خوب پیش کرتی رہی ہے۔ مگر وہ اپنی کچن کابینہ، مخصوص وزیروں اور بیورو کریسی کے کہنے پر چلنے کی پالیسی اپنائے رہے ہیں جس کی وجہ سے کچھ ارکان اسمبلی ان سے خفا بھی رہے ہیں کیونکہ انھیں پوچھا تک نہیں جاتا۔ یہی حال پی پی اور پی ٹی آئی حکومتوں میں تھا جہاں صرف ان کے سربراہوں کی من مانی تھی۔
پیپلز پارٹی حالیہ سیلاب متاثرین کی فوری امداد پنجاب میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے کرانا چاہتی تھی جس سے پنجاب حکومت متفق نہیں تھی جو اب بھی سروے کرا رہی ہے اور متاثرین کو فوری طور پر امداد نہ مل سکی جو پیپلز پارٹی چاہتی تھی۔
پی پی تو پنجاب حکومت میں بھی شامل ہونا چاہتی ہے اور بعض علاقوں میں اپنے لوگوں کی مرضی کے کاموں کی خواہاں ہے۔ پیپلز پارٹی پنجاب حکومت کو دباؤ میں لانا چاہتی ہے مگر ن لیگ پی پی کی خواہش پوری ہونے نہیں دے رہی، اسی لیے پی پی نے وفاقی حکومت کو ایک ماہ کا نوٹس دیا ہے۔ پی پی کو شکایات پنجاب حکومت سے ہیں اور نوٹس وفاقی حکومت کو دیا ہے تاکہ وزیر اعظم کے ذریعے پنجاب حکومت پر دباؤ ڈلوائے کیا پنجاب حکومت دباؤ میں آ جائے گی، اس لیے اب صدر مملکت معاملہ متعلقہ حلقوں کے ساتھ اٹھائیں گے اور وقت بتائے گا کہ یہ فیصلہ پی پی کا کامیاب دباؤ ہوگا یا سیاسی دکھاوا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی پنجاب حکومت وفاقی حکومت اور پنجاب اجلاس میں رہنماو ں مسلم لیگ حکومت کو حکومت کے پی پی کے کے ساتھ کے بعد میں پی
پڑھیں:
پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
لاہور (نوائے وقت رپورٹ+ نیوز رپورٹر) وزیراعلیٰ مریم نواز نے’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو یو این گلوبل چیمپئن قرار دئیے جانے پر اظہار تشکر کیا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار وزیراعلیٰ کے وژنری اقدامات کی بدولت پاکستان کے دو پراجیکٹس کواقوام متحدہ کی ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی نے ٹاپ لسٹ میں شامل کیا۔ مریم نواز کے ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل کیا گیا ہے۔ پنجاب کا ورچوئل ویمن پولیس سٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پراجیکٹس میں شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کی ٹیم کو ڈبلیو ایس آئی ایس کی طرف سے گلوبل چیمپئن قرار دیئے جانے پر شاباش دی ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ عوامی خدمات کے معتبر فورم اقوام متحدہ کے تحت (WSIS) پرائزز ڈیجیٹل گورننس پر پنجاب کے دو پروگرامز کا شامل کیا جانا اعزاز ہے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ نے 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے کیس کی مثال قائم کی۔ ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کے تحت 54 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے لئے مؤثر کارروائی قابل تحسین ہے۔ ’’میرا پنجاب‘‘ سے بچوں کے استحصال آن لائن ہراسگی اور دیگر معاملات میں معاونت کی گئی۔ ’’میرا پنجاب‘‘ کی عالمی سطح پر پذیرائی ٹیکنالوجی پر مبنی پبلک سروسز کی عالمی سطح پر اعتراف کا ثبوت ہے۔ گمشدہ افراد کے لئے میرا پیارا ایپ دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت تشخص نمایاں ہوا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پنجاب کے پراجیکٹس کی بدولت پاکستان ڈبلیو ایس آئی ایس کیٹیگری میں دو شارٹ لسٹ شدہ پراجیکٹس کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی (VCCS) کے ذریعے بچوں سے متعلق 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد کیسز نمٹائے گئے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب کرایا گیا۔ مریم نواز کی قیادت میں پنجاب حکومت حکومت نے 3 ہزار سپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا۔ ڈبلیو ایس آئی ایس کی رپورٹ کے مطابق پراجیکٹ کے تحت گمشدہ یا اغوا ہونے والے بچوں کے 54 ہزار سے زائد کیسز پر کارروائی کی گئی۔ 77 ہزار سے زائد بچے خاندانوں سے ملوائے گئے جن میں تین ہزار سپیشل بچے بھی شامل ہیں۔ مربوط ڈیجیٹل رسپانس کے ذریعے بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب بھر میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے کل 1,45,772 کیسز رپورٹ، ریکارڈ 1,36,157کیسز کو کامیابی سے حل کر لیا گیا۔ رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے مجموعی طور پر 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ جبکہ 7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741بچوں میں سے 53,811بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملایا گیا۔ ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989بچے ملے،جن میں سے 21,178 کو فوری طور پر خاندانوں کے حوالے کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت سسٹم میں 930بچے لاپتہ اور1,811بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں جن کے لیے روزانہ کی بنیاد پر فالو اپ جاری ہے۔ بچوں پر تشدد اور بدسلوکی کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، جن پر فوری کارروائی کرتے ہوئے 5,075ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ چائلڈ بدسلوکی کیسز میں اب تک 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں۔ بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل بد سلوکی کے 191کیسز سامنے آئے، جن پر 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزموں کو گرفتار کیا گیا۔