Express News:
2026-07-24@07:46:42 GMT

سیاسی دباؤ یا دکھاوا

اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT

پیپلز پارٹی نے حکومت کو ایک ماہ کا نوٹس دے دیا ہے کہ وہ اس عرصے میں پی پی کے تحفظات دورکریں، ورنہ سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوگا اور اس سلسلے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ بلاول ہاؤس کراچی میں منعقدہ اس اجلاس میں صدر مملکت آصف زرداری بھی شریک تھے جنھوں نے پنجاب حکومت کے رویے پر پی پی رہنماؤں کے گلے شکوے بھی سنے اور اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ مسلم لیگ (ن) کی وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے جائیں گے۔

اجلاس کے بعد یہ بھی معلوم ہوا کہ صدر زرداری پنجاب میں پی پی اور (ن) لیگ اختلافات کا معاملہ متعلقہ حلقوں کے ساتھ اٹھائیں گے اور وہ میاں نواز شریف کے ساتھ بھی اس سلسلے میں بات کر سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ پی پی کی سینٹرل کمیٹی کے اجلاس سے قبل بلاول بھٹو کی قیادت میں پی پی کے وفد نے وزیر اعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کی تھی اور پنجاب حکومت کے بیانات اور رویے پر پی پی کے تحفظات کا اظہار کیا تھا جس پر وزیر اعظم نے پی پی وفد کو شکایات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی جس پر پیپلز پارٹی مطمئن نہیں تھی جس کے بعد یہ مسئلہ سینٹرل کمیٹی کے اجلاس میں زیر غور آیا اور حکومت کو ایک ماہ کی مہلت دی گئی۔

 اطلاع کے مطابق اجلاس میں پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی دو آراء تھیں کہ اگر حکومت پی پی کے تحفظات دور نہیں کرتی تو اپوزیشن میں بیٹھا جائے۔ ایک رائے حکومت میں شامل ہو کر وزارتیں لینے کی بھی تھی مگر اجلاس کے بعد بتایا گیا کہ پیپلز پارٹی وفاقی کابینہ میں شامل نہیں ہو رہی۔ مسلم لیگ (ن) کی وفاقی اور پنجاب حکومتوں کے سلسلے میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ پی پی کو وفاقی حکومت سے اتنی شکایات نہیں جتنی پنجاب حکومت کے ساتھ ہیں۔

پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے مطابق پی پی اور (ن) لیگ کے درمیان اختلافات پیدا ہونے میں ایک دوسرے پر تنقید کا بڑا کردار ہے ۔

دونوں جانب سے متنازع بیانات سے معاملات کو مزید خراب کیا گیا کہ بعد میں وزیر اعظم کو مداخلت کرنا پڑی اور ان کی ہدایت پر اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی سربراہی میں مسلم لیگ (ن) کا وفد صدر زرداری سے ملنے نواب شاہ گیا تھا جس میں دونوں پارٹیوں کے مابین بیان بازی پر بات ہوئی اور دونوں طرف سے آیندہ متنازع بیانات نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا جس کے بعد پی پی رہنماؤں اور سندھ و پنجاب کے وزیروں کے ایک دوسرے کے خلاف بیانات رک گئے تھے۔

وفاق اور پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومتیں ڈیڑھ سال سے اقتدار میں ہیں۔ اس عرصے میں ملک کے عوام کو مہنگائی سے نجات دلانے کی بھرپور کوشش ضرور ہوئی مگر مہنگائی قابو میں نہیں آ رہی اور عوام کو ریلیف دینے کے وعدے بہت ہوئے جب کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو اپنے عوام کی فلاح و بہبود اور پنجاب کی ترقی کا خیال رہتا ہے۔ انھوں نے عوام کی ترقی کے لیے بہت سے منصوبے پیش کیے ہیں۔

اسلام آباد میں تعمیری و ترقیاتی منصوبے وزیر داخلہ کے سپرد ہیں جو اسلام آباد کی انتظامیہ اور سی ڈی اے سے بھی کام لے رہے ہیں اور ملک بھر میں ترقیاتی کام اب وزرائے اعلیٰ کا اختیار ہے جن سے وفاقی حکومت کا کوئی تعلق نہیں۔ پنجاب میں وزیر اعلیٰ اپنے صوبے کی تعمیر و ترقی کی ذمے داری بخوبی نبھا رہی ہیں اور ترقیاتی منصوبوں پر بھرپور توجہ دے رہی ہیں ، اسی لیے ترقی صرف پنجاب میں اور عوام کی حالت دوسرے صوبوں سے بہتر نظر آتی ہے جو ان کا فرض بھی ہے۔

پیپلز پارٹی کو وفاق سے شکایت ہے کہ اس نے حالیہ سیلاب میں بیرونی امداد کیوں طلب نہیں کی جب کہ وفاقی حکومت کی ترجیح ملک کے لیے قرضوں کا حصول رہا ہے۔ ن لیگ اپنے طویل دور اقتدار میں عوامی ترقیاتی منصوبے خوب پیش کرتی رہی ہے۔ مگر وہ اپنی کچن کابینہ، مخصوص وزیروں اور بیورو کریسی کے کہنے پر چلنے کی پالیسی اپنائے رہے ہیں جس کی وجہ سے کچھ ارکان اسمبلی ان سے خفا بھی رہے ہیں کیونکہ انھیں پوچھا تک نہیں جاتا۔ یہی حال پی پی اور پی ٹی آئی حکومتوں میں تھا جہاں صرف ان کے سربراہوں کی من مانی تھی۔

پیپلز پارٹی حالیہ سیلاب متاثرین کی فوری امداد پنجاب میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے کرانا چاہتی تھی جس سے پنجاب حکومت متفق نہیں تھی جو اب بھی سروے کرا رہی ہے اور متاثرین کو فوری طور پر امداد نہ مل سکی جو پیپلز پارٹی چاہتی تھی۔

پی پی تو پنجاب حکومت میں بھی شامل ہونا چاہتی ہے اور بعض علاقوں میں اپنے لوگوں کی مرضی کے کاموں کی خواہاں ہے۔ پیپلز پارٹی پنجاب حکومت کو دباؤ میں لانا چاہتی ہے مگر ن لیگ پی پی کی خواہش پوری ہونے نہیں دے رہی، اسی لیے پی پی نے وفاقی حکومت کو ایک ماہ کا نوٹس دیا ہے۔ پی پی کو شکایات پنجاب حکومت سے ہیں اور نوٹس وفاقی حکومت کو دیا ہے تاکہ وزیر اعظم کے ذریعے پنجاب حکومت پر دباؤ ڈلوائے کیا پنجاب حکومت دباؤ میں آ جائے گی، اس لیے اب صدر مملکت معاملہ متعلقہ حلقوں کے ساتھ اٹھائیں گے اور وقت بتائے گا کہ یہ فیصلہ پی پی کا کامیاب دباؤ ہوگا یا سیاسی دکھاوا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی پنجاب حکومت وفاقی حکومت اور پنجاب اجلاس میں رہنماو ں مسلم لیگ حکومت کو حکومت کے پی پی کے کے ساتھ کے بعد میں پی

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں تیز، نواز شریف آج میرپور میں جلسے سے خطاب کریں گے
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر