الیکشن کے بعد پیپلز پارٹی نے بذریعہ خورشید شاہ و ندیم چن پی ٹی آئی کو حکومت بنانے کی آفر کی تھی: مصدق ملک
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
وفاقی وزیر سینیٹر مصدق ملک کا کہنا ہے کہ فروری 2024ء کے الیکشن کے بعد پیپلز پارٹی نے خورشید شاہ اور ندیم افضل چن کے ذریعے پی ٹی آئی کو ووٹ دے کر حکومت بنانے کی آفر کی تھی۔
’جیو نیوز‘ کے پروگرام ’کیپیٹل ٹاک‘ میں مصدق ملک اور پی ٹی آئی رہنما شفیع اللّٰہ جان نے شرکت کی۔
پروگرام میں وفاقی وزیر مصدق ملک نے کہا کہ نے تحریکِ انصاف سے مذاکرات کا عندیہ دیا ہے اور ساتھ ہی کہہ دیا کہ پی ٹی آئی کو اپنی لگائی آگ خود بجھانا ہو گی۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو مشورہ دیا ہے کہ وہ صوبے کا مقدمہ اڈیالہ میں نہ لڑیں، سرکاری اداروں میں لڑیں۔
انہوں نے کہا کہ آؤٹ آف کنٹرول معاملات میں ٹھہراؤ آ جائے تو پی ٹی آئی سے بات چیت شروع ہو سکتی ہے۔
مصدق ملک نے کہا کہ خورشید شاہ نے پی ٹی آئی کو فون کر کے کہا تھا کہ ہم آپ کو ووٹ دیتے ہیں، آپ حکومت بنا لیں اور اپنی زیرِ نگرانی فارم 45 اور 47 کھول کر دیکھ لیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ندیم افضل چن بھی پی ٹی آئی کے پاس گئے اور کہا کہ پیپلز پارٹی آپ کو بلا مشروط سپورٹ کرتی ہے، آئیے آپ حکومت بنائیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ٹی آئی نے دو بار پی پی کی پیشکش ٹھکرا دی، یہ نہ حکومت چلانا چاہتے ہیں اور نہ کسی کو چلنے دینا چاہتے ہیں، پی ٹی آئی خود بتا دے کہ وہ آخر چاہتی کیا ہے؟
انہوں نے کہاکہ وزیرِ اعظم نےایوان میں کہا کہ وہ پی ٹی آئی سے بات کرنا چاہتے ہیں، پی ٹی آئی نے وزیرِ اعظم کی مذاکرات کی پیش کش کو ٹھکرا دیا تھا۔
اڈیالہ جیل راولپنڈی میں آج ملاقات کا وقت ختم ہو گیا۔
مصدق ملک نے کہا کہ آپ حکومت سے بات کرنا بھی نہیں چاہتے لوگوں کو بے اختیار سمجھتے ہیں، اگر پی ٹی آئی سمجھتی ہے کہ ہمارے پاس اختیار نہیں، بات نہیں کرنی تو گلہ کس بات کا ہے؟
اُن کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کو اپنا بیانیہ بدلنا ہو گا، ایک عجیب سا جال بُنا جا رہا ہے، جس میں کئی بیانیے سامنے آ رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی کو نے کہا کہ مصدق ملک
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔