پیپلز پارٹی نے خورشید شاہ اور ندیم افضل چن کے ذریعے پی ٹی آئی کو حکومت بنانے کی پیشکش کی، مصدق ملک
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور وفاقی وزیر مصدق ملک نے انکشاف کیا ہے کہ پیپلز پارٹی نے خورشید شاہ اور ندیم افضل چن کے ذریعے پی ٹی آئی کو حکومت بنانے کی پیشکش کی لیکن اسے ٹھکرا دیا گیا۔
نجی ٹی وی جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خورشید شاہ نے پی ٹی آئی کو فون کرکے کہا تھا کہ ہم آپ کو ووٹ دیتے ہیں آپ حکومت بنالیں لیکن پی ٹی آئی نے پیپلزپارٹی کی خورشید شاہ کے ذریعےدی گئی پیشکش کو ٹھکرادیا تھا۔
وفاقی وزیر مصدق ملک کا کہنا تھا کہ ندیم افضل چن بھی پی ٹی آئی کے پاس گئے اورکہا کہ پیپلزپارٹی آپ کو بلامشروط سپورٹ کرتی ہے آئیے آپ حکومت بنائیں لیکن پی ٹی آئی نے یہ پیشکش بھی ٹھکرادی۔
احتسابی اداروں اور سیاست میں آنے والے پیسےسے متعلق عوام کیا رائے رکھتے ہیں ؟ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان این سی پی ایس 2025 کے مزید اہم نکات سامنے آ گئے
مصدق ملک نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت بھی نہیں بنانا چاہتی اور چلانا بھی نہیں چاہتی اور نہ ہی چلنے دینا چاہتی ہےتو آخرچاہتی کیا ہے؟
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: خورشید شاہ پی ٹی آئی مصدق ملک
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔