فٹبال ورلڈ کپ 2026: ہر ہاف کے 22 ویں منٹ میں لازمی وقفہ، لیکن کیوں؟
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
فیفا نے کھلاڑیوں کی فلاح کو مقدم رکھتے ہوئے ہر ہاف کے 22ویں منٹ میں میچ روک کر پانی پینے کا وقفہ لازمی قرار دے دیا۔
اگلے سال کینیڈا، میکسیکو اور امریکا میں ہونے والے فٹبال ورلڈ کپ میں کھلاڑیوں کو ہر ہاف میں 3 منٹ کا ہائیڈریشن بریک دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے: فیفا ورلڈ کپ 2026 کے لیے ٹکٹس کی فروخت کا آج سے آغاز، اس بار قیمتیں کیا رکھی گئیں؟
فیفا کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ کھلاڑیوں کی صحت کو بہتر طور پر محفوظ بنانے کے لیے کیا گیا ہے، خاص طور پر ایسے ماحول میں جہاں گرمی یا نمی کا اثر زیادہ ہو۔
کلَب ورلڈ کپ کے تجربات کے بعد فیصلہاس سال امریکا میں ہونے والے کلب ورلڈ کپ کے دوران شدید گرمی اور نمی نے کھلاڑیوں کی کارکردگی متاثر کی۔ اس صورتحال کے بعد فیفا نے نہ صرف کولنگ بریک کے معیار کو نرم کیا بلکہ میدان کے کناروں پر پانی اور تولیوں کی تعداد بھی بڑھائی۔
ہر میچ میں لازمی بریک، چاہے موسم کیسا بھی ہویہ ہائیڈریشن بریک اب ہر میچ میں ہوگا، خواہ موسم گرم ہو یا نہ ہو even اگر اسٹیڈیم میں چھت یا ایئر کنڈیشنگ کیوں نہ موجود ہو۔
میچ کا ریفری ہر ہاف کے 22 منٹ مکمل ہونے پر کھیل روک کر کھلاڑیوں کو پانی پینے کا وقت دے گا۔
فیفا کے مطابق اس تبدیلی سے ٹی وی براڈکاسٹرز کو بھی فائدہ ہوگا کیونکہ اس سے میچ کے دوران وقفوں کا وقت پہلے سے معلوم ہوگا اور شیڈول زیادہ پیش گوئی کے قابل ہو جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے ڈونلڈ ٹرمپ نے ورلڈ کپ شائقین کے لیے ’فیفا پاس‘ متعارف کرنے کا اعلان کردیا
یہ اعلان فیفا کے چیف ٹورنامنٹ آفیسر مانولو زبیریا کی براڈکاسٹرز کے ساتھ میٹنگ میں کیا گیا، جہاں انہوں نے واضح کیا کہ اگر 22ویں منٹ سے ذرا پہلے ہی کوئی چوٹ یا دیگر وجہ سے کھیل رکا ہو تو ریفری حالات دیکھ کر فیصلہ کرے گا۔
پرانی پالیسی کا آسان ورژنفیفا کا کہنا ہے کہ یہ نیا اصول دراصل پرانی پالیسی کا ’سادہ اور مربوط‘ ورژن ہے، جس میں 30 منٹ کے بعد وقفہ صرف اس وقت دیا جاتا تھا جب درجہ حرارت ایک خاص حد 32 ڈگری سیلسیس سے اوپر جاتا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
فیفا ورلڈ کپ 2026.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: فیفا ورلڈ کپ 2026 ورلڈ کپ ہر ہاف کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔