Jasarat News:
2026-06-03@05:17:33 GMT

انصار اللہ نے اقوام متحدہ کے 20 ملازمین کو حراست میں لے لیا

اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

برطانوی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق یمن میں حوثی اکثریتی تنظیم “انصارُ اللہ” نے اقوام متحدہ کے بیس (20) ملازمین کو حراست میں لے لیا ہے، جن میں اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے یونیسف کے اعلیٰ نمائندہ پیٹر ہاکنز بھی شامل ہیں۔ یہ واقعہ یمنی دارالحکومت صنعا میں پیش آیا، جہاں انصار اللہ کے جنگجوؤں نے اقوام متحدہ کے کمپاؤنڈ پر اچانک چھاپہ مارا۔

رپورٹ کے مطابق حراست میں لیے گئے افراد میں پانچ مقامی اور پندرہ بین الاقوامی اہلکار شامل ہیں، جو مختلف اقوام متحدہ کی ایجنسیوں جیسے کہ ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP)، یونیسف، اور دفتر برائے رابطہ انسانی امور (OCHA) کے ساتھ کام کر رہے تھے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ترجمان جین عالم کے مطابق، ابتدائی طور پر تمام اہلکاروں سے سوال و جواب کیے گئے، جس کے بعد 11 اہلکاروں کو رہا کر دیا گیا ہے۔ تاہم اقوام متحدہ دیگر زیرِ حراست ملازمین کی رہائی کے لیے انصار اللہ اور متعلقہ حکام سے رابطے میں ہے، اور کوشش کی جا رہی ہے کہ باقی ملازمین کو جلد از جلد رہا کرایا جا سکے۔

رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، اس سے قبل بھی انصار اللہ کی جانب سے اقوام متحدہ کے اہلکاروں کو حراست میں لینے کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔ جنوری میں پیش آنے والے ایک ایسے ہی واقعے کے بعد اقوام متحدہ کو مجبوراً یمن کے صوبے سعدہ میں اپنی امدادی سرگرمیاں معطل کرنا پڑی تھیں۔

تازہ واقعے نے ایک بار پھر یمن میں بین الاقوامی امدادی اداروں کی سکیورٹی اور آزادیِ عمل پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جبکہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

ویب ڈیسک مقصود بھٹی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اقوام متحدہ کے انصار اللہ

پڑھیں:

واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار

واشنگٹن میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل کے درمیان ایک وسیع تر سیاسی و سیکیورٹی معاہدے کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، تاہم زمینی صورتحال اب بھی نازک ہے اور جنوبی لبنان میں جھڑپوں اور فضائی حملوں کا سلسلہ مکمل طور پر نہیں رک سکا۔ ان مذاکرات کا مقصد لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ بندی کو مضبوط بنانا، سرحدی سلامتی کے معاملات حل کرنا اور ایک ایسے فریم ورک پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے جو مستقبل میں ایک جامع سیاسی سمجھوتے کی بنیاد بن سکے۔

یہ بھی پڑھیں:لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

اس سلسلے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حزب اللہ اسرائیل کی جانب سے متبادل اقدامات کی صورت میں مکمل جنگ بندی کے لیے آمادہ ہے، کیونکہ لبنانی قیادت جزوی یا محدود سیز فائر کے بجائے ایک جامع اور مستقل معاہدے کی حامی ہے۔ یاد رہے کہ اپریل 2026 میں واشنگٹن میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان کئی دہائیوں بعد براہِ راست مذاکرات کا آغاز ہوا تھا، جن میں سرحدی تنازعات، جنوبی لبنان کی سلامتی، جنگ بندی کے نفاذ اور طویل المدتی سیاسی انتظامات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

Day one of direct Israel–Lebanon talks in Washington, DC has concluded, US State Department spokesperson Tommy Pigott says, adding “progress continues” on political and security tracks, with another round scheduled for tomorrow.

???? LIVE coverage ⤵️ https://t.co/tsxQueIYdS

— Al Jazeera English (@AJEnglish) June 3, 2026

تاہم سفارتی پیشرفت کے باوجود زمینی حقائق اب بھی پیچیدہ ہیں۔ اسرائیل نے حالیہ دنوں میں جنوبی لبنان میں فضائی حملے جاری رکھے جبکہ حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، یہی وجہ ہے کہ مذاکراتی عمل کو ابھی حتمی کامیابی قرار نہیں دیا جا رہا۔ اگرچہ امریکی قیادت کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا تھا کہ اسرائیل اور حزب اللہ نے فائرنگ روکنے پر اتفاق کر لیا ہے، تاہم بعد میں دونوں جانب سے متضاد بیانات اور بعض مقامات پر جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جس سے واضح ہوا کہ مستقل امن کے لیے مزید مذاکرات درکار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:اسرائیل کا لبنانی شہر ’صور‘ خالی کرنیکا حکم، شدید حملوں سے کشیدگی بڑھ گئی

اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو ممکنہ معاہدے میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا، لبنانی فوج کی تعیناتی، سرحدی سلامتی کے نئے انتظامات اور اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 پر عمل درآمد جیسے نکات شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم حزب اللہ کے اسلحے اور اس کے مستقبل کے کردار کا معاملہ اب بھی سب سے بڑا اختلافی نکتہ تصور کیا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر واشنگٹن مذاکرات مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ضرور ہیں، لیکن لبنان، اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان دیرپا امن کے لیے ابھی کئی سیاسی اور سیکیورٹی رکاوٹیں عبور کرنا باقی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا لبنان واشنگٹن

متعلقہ مضامین

  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت