افغانستان میں طالبان حکومت کا مقصد امن تھا‘ یہ مقصد پورا ہو گیا‘ افغانستان میں واقعی امن ہو گیا لیکن اس امن سے ایک نئے بحران نے جنم لے لیا‘ طالبان اپنی سوچ پورے خطے میں پھیلانے لگے‘ پاکستان‘ ازبکستان‘ تاجکستان اور چین کا مسلم اکثریتی صوبہ سنکیانگ ان کے بڑے ہدف تھے‘ پاکستان میں افغان وار کے دوران بے شمار مذہبی سیاسی جماعتیں بنی تھیں۔
یہ 1980کی دہائی کی ضرورت تھیں مگر یہ 1990میں غیر ضروری ہو گئیں تاہم اس وقت تک ان کا سائز اتنا بڑا ہو چکا تھا کہ انھیں سمیٹنا یاختم کرنا مشکل تھا‘ طالبان حکومت نے ان میں نئی روح پھونک دی اور انھیں محسوس ہونے لگا اگر افغانستان میں اسلامی حکومت بن سکتی ہے تو پھر پاکستان‘ ازبکستان‘ تاجکستان اور سنکیانگ میں کیوں نہیں؟ طالبان کے ساتھ القاعدہ بھی تھی‘ یہ عرب تھے اور افغانستان میں رہتے تھے۔
انھیں بھی شہہ مل گئی اور انھوں نے بھی عرب ملکوں میں طالبان طرز کی حکومت کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا‘ یہ کام پاکستان میں بہت آسان تھا‘ یونیورسٹی آف نبراسکا کی مہربانی سے پاکستان میں کروڑوں سلطان صلاح الدین ایوبی اور محمود غزنوی جنم لے چکے تھے‘فوج کے اندر بھی ایسے آفیسر اور جوان موجود تھے‘ یہ سب طالبان کے ساتھ جڑ گئے اور یوں انقلاب درہ خیبر‘ دریائے آمو اور واہ خان سے آگے بڑھنے لگا‘ یہ عربوں کے دروازے پر بھی دستک دینے لگا‘ القاعدہ نے اس زمانے میں سعودی عرب میں چندہ جمع کرنا شروع کر دیا۔
حج کے دوران انھیں کروڑوں ڈالر مل جاتے تھے‘ خواتین اپنی بچیوں کے کانوں کی بالیاں تک القاعدہ کے باکس میں ڈال دیتی تھیں‘ طالبان اسے اپنی کام یابی سمجھنے لگے اور انھوں نے نہ صرف آگے بڑھ کر افغانستان میں خواتین کی تعلیم پر پابندی لگا دی بلکہ یہ سرعام لوگوں کو سنگسار بھی کرنے لگے‘ دنیا بھر کے مطلوب لوگ بھی افغانستان کا رخ کرنے لگے‘ اس بیک گراؤنڈ میں 24 دسمبر 1999کو ائیرانڈیا کا ایک طیارہ کھٹمنڈو سے ہائی جیک ہو گیا۔
یہ آئی سی 814 فلائیٹ تھی جس میں 179 مسافر اور عملے کے 11 افراد سوار تھے‘ ہائی جیکرز جہاز کو پہلے امرتسر‘ پھر دوبئی اور پھر قندہار لے گئے‘ طیارہ حرکت المجاہدین نے اغواء کیا تھا اور اس کا مقصد بھارت کی قید میں موجود مولانا مسعود اظہر اور ان کے ساتھیوں کی رہائی تھی‘ یہ آپریشن مولانا کے دو بھائیوں ابراہیم اطہر اور جہانگیر نے کیا‘ اس کے لیے پانچ کروڑ روپے کی رقم کراچی کے بزنس مینوں نے دی تھی‘ ہائی جیکرز میں کراچی کے تین نوجوان شاہد اختر سید‘ سنی احمد قاضی اور ظہور مستری شامل تھے جب کہ چوتھا شخص شاکر احمد سکھر اور ابراہیم اطہر بہاولپور سے تعلق رکھتا تھا‘ ابراہیم اطہر مولانا مسعود کا بھائی تھا۔
ان پانچ لوگوں نے 190 مسافروں کا جہاز اغواء کیا اور انھیں طالبان کی بھرپور مدد حاصل تھی‘ ہائی جیکرز سے ڈیل کرنے والی مذاکراتی ٹیم میں بھارت کے آج کے نیشنل سیکیورٹیایڈوائزر اجیت دوول بھی شامل تھے‘ بہرحال قصہ مختصر انڈیا نے ہائی جیکرز کے مطالبے پر مولانا مسعود اظہر‘ مشتاق احمد زرگر اور احمد عمر سعید شیخ کو رہا کر دیا اور یوں یہ معاملہ نبٹ گیا مگر اس نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا‘ پاکستان اور امریکا کو پہلی بار محسوس ہوا طالبان کے اثرات کراچی تک پہنچ چکے ہیں۔
دوسرا مولانا مسعود اظہر کو پرائیویٹ لوگ ایمبولینس میں ڈال کر قندہار سے کراچی لے آئے اور سی آئی اے اور آئی ایس آئی کو کانوں کان خبر نہیں ہوئی‘ یہ بہت بڑا انٹیلی جنس فیلیئر تھا اور یہ ثابت کرتا تھا اداروں میں ان کے لوگ موجود ہیں اور تیسرا ہائی جیکرز رہائی کے بعد غائب ہوگئے‘ امریکی اور پاکستانی انھیں تلاش ہی کرتے رہ گئے‘ سی آئی اے کو 11 ستمبر 2001 کے ٹوئن ٹاورز حملوں کے بعد پتا چلا پانچوں ہائی جیکرز کابل میں طالبان کے پاس تھے‘ وہ پاکستان آئے ہی نہیں تھے اور انھوں نے بعدازاں نائین الیون کے ہائی جیکرز کو طیارے اغواء کرنے اور مسافروں کو قابو کرنے کی تکنیکس سکھائی تھیں۔
وہ مہینوں اسامہ بن لادن اور القاعدہ کو ٹریننگ دیتے رہے‘ یہ انکشاف لرزہ خیز ثابت ہوا‘ طالبان صرف افغانستان تک محدود رہتے‘ یہ اپنا نظریہ دوسرے ملکوں میں اسمگل نہ کرتے‘ یہ کراچی کے بزنس مینوں تک نہ پہنچتے‘ یہ ائیر انڈیا کی ہائی جیکنگ میں شامل نہ ہوتے یا ہائی جیکرز کو پناہ نہ دیتے اور یہ اگر نائین الیون میں ملوث نہ ہوتے تو دنیا شاید انھیں برداشت کر لیتی لیکن جب ان کا ماڈل سرحدوں سے باہر نکلنے لگا اور یہ ہائی جیکنگ جیسی وارداتوں میں ملوث ہو گئے تو پھر یہ ناقابل برداشت ہو گئے‘ آپ اگر اس سیناریو کو ذہن میں رکھیں تو آپ کو میاں نواز شریف کی دوسری حکومت کی رخصتی اور جنرل پرویز مشرف کی آمد کی وجہ سمجھ آ جائے گی۔
میاں نواز شریف جنرل ضیاء الحق کی جہادی سوچ کی ایکسٹینشن تھے اور یہ 1997 میں دو تہائی اکثریت کے بعد امیرالمومنین بننے کے بارے میں بھی سوچ رہے تھے‘ میاں صاحب نے 1998 میں ایٹمی دھماکے بھی کر دیے تھے لہٰذا افغانستان میں طالبان‘ پاکستان میں آگے بڑھتی ہوئی طالبان سوچ‘ میاں نواز شریف کی دو تہائی اکثریت اور اوپر سے ایٹمی طاقت دنیا ڈر گئی اور اسے اب جنرل پرویز مشرف جیسا کوئی لبرل جنرل چاہیے تھا چناں چہ جنرل پرویز مشرف آ گیا اور اس نے نائن الیون کے بعد جنرل ضیاء الحق کی بچھائی جائے نماز لپیٹنا شروع کر دی‘ اس نے افغانستان اور پاکستان دونوں سے جہادی سوچ کے لوگ پکڑ کر امریکا کے حوالے کرنا شروع کر دیے۔
ہم اگر آج تجزیہ کریں تو ہمیں ماننا پڑے گا جنرل ضیاء الحق کی جہادی اور جنرل پرویز مشرف کی لبرل دونوں سوچیں غلط تھیں‘ دونوں میں شدت تھی اور ہمارا معاشرہ دونوں کے لیے نہیں بنا ‘ پاکستان جنگ کے بجائے جمہوری عمل کے ذریعے بنا تھا‘ برصغیر کے مسلمان کسی حدتک جمہوریت پسند اور لبرل تھے‘ آپ اس کا اندازہ دو حقیقتوں سے لگا لیجیے‘ ہندوستان کے مسلمانوں کی اکثریت سنی العقیدہ تھی لیکن آل انڈیا مسلم لیگ کے پہلے صدر اسماعیلیوں کے مذہبی رہنما آغا خان سوم تھے اور یہ اس کے تاحیات صدر رہے۔
مسلم لیگ کے 80 فیصد قائدین اہل تشیع تھے اور انھوں نے سنی اکثریت کے لیے ملک بنایا اور سنی مسلمان آج بھی ان کی تصویریں چومتے ہیں‘ علامہ اقبال اور قائداعظم کے مسلک مختلف تھے لیکن علامہ نے اس کے باوجود 1937 میں خط لکھ کر قائداعظم کو لندن سے واپس بلایا اور انھیں مسلمانوں کی قیادت کے لیے قائل کیا لیکن جنرل ضیاء الحق نے ایسے لبرل جمہوری ملک کو جہادی سوچ میں دھکیل دیا جس نے ملک کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں‘دوسری حقیقت پاکستانی لبرل اور جمہوری ہونے کے ساتھ ساتھ معتدل مسلمان بھی ہیں۔
یہ جس طرح مذہبی شدت سے دور ہیں یہ بالکل اسی طرح ایکسٹریم لبرل ازم کے بھی خلاف ہیں‘ یہ مسجد میں تفرقہ اور نفرت پسند نہیں کرتے تھے اور کسی کو مسجد شہیدبھی نہیں کرنے دیتے تھے جب کہ جنرل مشرف جنرل ضیاء الحق کی مکمل ضد تھے‘ یہ ایکسٹریم لبرل تھے اور انھوں نے جہادی گود میں پلنے والے بچے کو ماں کی چھاتی سے کھینچ کر کلب میں کھڑا کر دیا‘ یہ دوسری ایکسٹریم تھی اور اگر ان دونوں حدوں کے درمیان تیس چالیس سال کا فاصلہ ہوتا تو شاید معاشرہ اسے ہضم کر لیتا لیکن بدقسمتی سے یہ تبدیلی ایک نسل میں لانے کی کوشش کی گئی‘ ہم بچے تھے تو ملک میں جمعہ کے دن چھٹی ہوتی تھی۔
مسجدوںمیں باقاعدہ نمازیوں کی حاضری لگتی تھی اور ہمیں یونیورسٹی آف نبراسکا کی تیار شدہ اسلامیات اور مطالعہ پاکستان پڑھایا جاتا تھا‘ تعلیمی اداروں میں مذہبی جماعتیں بھی تھیں اور جو اسٹوڈنٹ ان کی محفلوں میں نہیں جاتا تھا اسے پھینٹا لگایاجاتا تھا لیکن ہم جب جوان ہوئے تو چھٹی اتوار پر شفٹ ہو گئی‘ جہاد کے ذکر پر پابندی لگ گئی‘ پولیس داڑھی والوں کو گرفتار کر کے تھانے لے جانے لگی‘ مسجدوں پر ریاستی حملے شروع ہو گئے یہاں تک کہ لال مسجد کے خلاف فوجی آپریشن ہو گیا لہٰذا میری نسل کنفیوز ہو گئی‘ میں آج بھی جنرل ضیاء اور جنرل مشرف کی سوچ کے درمیان پنڈولم بنا ہوا ہوں‘ میرا دل مذہبی اور دماغ لبرل ہے اور میں روز ان دونوں کے درمیان توازن پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہوں اور ناکام ہو جاتا ہوں۔
میں کیا کروں میری پرورش اور پروفیشنل گروتھ دونوں ایک ہی ملک میں مختلف سوچ کے ساتھ ہوئی اور میں دونوں کے درمیان تقسیم ہو کر رہ گیاہوں اور یہ تضاد صرف مجھ تک محدود نہیں‘ ہماری ریاست‘ افغانستان اور مدارس بھی اس عمل سے گزر رہے ہیں‘ ہم کبھی افغانستان کے لیے جہادی فیکٹری ہوتے تھے‘ ہم پھر ان کے دشمن ہو گئے‘ ہم پھر ان کے دوست بنے اور ہم اب ایک بار پھر ان کے دشمن بن گئے ہیں‘ سوچ کی اس شفٹنگ نے پورے خطے کو ہلا کر رکھ دیا‘ میں اگر آج اس کا تجزیہ کروں تو مجھے اس کا ذمے دار صرف ایک ملک ملتا ہے اور اس کا نام امریکا ہے۔
امریکا کو ضرورت تھی تو اس نے ہمیں جہادی بنا دیا‘ اسے ضرورت پڑی تو اس نے ہمیں لبرل بنا دیا‘ اسے تیسری مرتبہ ضرورت پڑی تو اس نے 2021 میں ہمیں ایک بار پھر طالبان کا ہمدرد بنا دیا اور ہم طالبان کو لے کر دوحا پہنچ گئے اور ان کے امریکا سے 165 مذاکرات کرا دیے‘ ہم نے انھیں امریکا کے حکم پر ایک بار پھر افغانستان کے تخت پر بٹھا دیا‘ آپ ذرا خود ٹھنڈے دماغ سے سوچیے اگر کوئی قوم 45 سال میں چار مرتبہ اپنی سوچ میں 180 درجے تبدیلی لائے گی وہ جہادی بنے گی‘ پھر لبرل ہو گی‘ پھر سیمی جہادی ہو گی اور آخر میں جہادیوں کے خلاف جہاد کرے گی تو اس کا کیا نتیجہ نکلے گا اور یہ نتیجہ اس وقت نکل رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جنرل ضیاء الحق کی جنرل پرویز مشرف افغانستان میں مولانا مسعود اور انھوں نے پاکستان میں میں طالبان ہائی جیکرز کے درمیان طالبان کے تھے اور ہو گیا ہو گئے کے بعد اور یہ اور ان اور اس اور ہم کر دیا
پڑھیں:
عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔
ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔
ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔
ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔
اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔
نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔
لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔
سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔
بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔
پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔