کابل کو شدت پسندوں کو روکنا ہوگا تبھی جنگ بندی برقرار رہ سکے گی، وزیردفاع
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ اسلام آباد اور کابل کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی کا انحصار اس بات پر ہے کہ حاکم طالبان انتظامیہ افغانستان میں موجود ایسے شدت پسند عناصر کو روکے جو سرحد پار کر کے پاکستان پر حملے کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خواجہ آصف کی خفیہ ملاقات، فیلڈ مارشل کی امریکا میں کھڑے ہو کر بھارت کو وارننگ
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ دونوں ہمسایہ ممالک نے دوحہ میں جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا، مگر اس معاہدے کی بنیاد یہی شرط ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے کسی بھی قسم کی دراندازی نہ ہو۔ اگر افغانستان کی طرف سے کچھ بھی آئے گا تو وہ معاہدے کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ سب کچھ اسی شق پر منحصر ہے۔
انہوں نے کہا کہ تیز رفتار سرحدی جھڑپوں اور فضائی کارروائیوں کے بعد یہ معاہدہ طے پایا، جو پچھلے برسوں میں حاکم طالبان کے اقتدار کے بعد ہونے والی بدترین کشیدگی ہے، وزیر دفاع نے کہا کہ تحریکِ طالبانِ پاکستان سمیت مختلف جماعتیں افغانستان سے کارروائیاں کر رہی ہیں، اور اسلام آباد کا مطالبہ تھا کہ کابل انہیں پناہ گاہیں نہ دے۔
یہ بھی پڑھیں: دہشتگردوں کے لیے کسی قسم کی لچک قابلِ برداشت نہیں، وزیردفاع کا افغانستان کو واضح پیغام
وزارتِ دفاع افغانستان اور طالبان حکومت کی جانب سے فوری طور پر اس حوالے سے رائے نہیں موصول ہوئی۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ دوحا مذاکرات میں فیصلہ ہوا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف دشمنانہ کارروائیاں نہیں کریں گے اور کسی بھی ایسے گروپ کی حمایت نہیں کی جائے گی جو پاکستان کے خلاف سرگرم ہو،تاہم ان بیانات کو مشترکہ اعلامیہ قرار نہیں دیا گیا۔
وزیر دفاع نے خبردار کیا کہ کابل ‘نو گو ایریا’ نہیں ہے اور جہاں بھی شدت پسند ہوں، پاکستانی افواج کارروائی کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے جواب میں فضائی کارروائیاں بھی کی ہیں اور جہاں دشمن ہیں وہاں انہیں نشانہ بنایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: جن افغانوں کو ہم نے پناہ دی آج وہی بھارت کی گود میں بیٹھ کر پاکستان کیخلاف پروپیگینڈا کررہے ہیں، خواجہ آصف
اگلے مذاکراتی مرحلے کا انعقاد 25 اکتوبر کو استنبول میں متوقع ہے جس کا مقصد معاہدے کے نفاذ اور اس کے نفاذ کے طریقہ کار تیار کرنا ہے۔ میزبان ممالک قطر اور ترکی نے کہا ہے کہ فالو اپ اجلاس معاہدے کی پائیداری اور اس کے نفاذ کی جانچ پڑتال کے لیے ضروری ہیں۔
معاہدے کے تحت واضح طور پر کہا گیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے کسی قسم کی دراندازی نہیں ہو گی اور اگر یہ شرط برقرار رہی تو جنگ بندی برقرار رکھی جا سکے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news افغانستان پاکستان جنگ بندی خواجہ آصف وزیردفاع.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغانستان پاکستان خواجہ ا صف وزیردفاع خواجہ ا صف نے کہا کہ
پڑھیں:
ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، امریکی اخبار کا دعویٰ
تہران / واشنگٹن: امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے عراق کے ذریعے امریکا کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق تہران نے واضح کیا ہے کہ عارضی جنگ بندی اس وقت تک قابل قبول نہیں جب تک بنیادی تنازعات، خصوصاً آبنائے ہرمز کے معاملے، کا حل پیش نہ کیا جائے۔
رپورٹ کے مطابق عراقی وزیراعظم علی الزیدی حالیہ دورۂ واشنگٹن کے بعد تہران پہنچے، جہاں انہوں نے ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں اور امریکا کی جانب سے جنگ بندی سے متعلق پیغام پہنچایا۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی تجویز کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں، تاہم ایرانی حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ مختصر یا عارضی جنگ بندی سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، کیونکہ اس میں آبنائے ہرمز کے کنٹرول اور دیگر اہم معاملات پر کوئی واضح پیش رفت شامل نہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس حوالے سے کہا کہ عراقی وزیراعظم نے واشنگٹن میں ہونے والی ملاقاتوں اور اپنے مشاہدات سے ایران کو آگاہ کیا، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان پہلے ہی مختلف ممالک ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ اصل مسئلہ پیغامات کی ترسیل نہیں بلکہ امریکا کا رویہ ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن کا غیرمنطقی، لالچی اور دوسروں پر کنٹرول قائم کرنے والا طرزِ عمل موجودہ بحران کی بنیادی وجہ ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران اب بھی اپنے بنیادی مطالبات پر قائم ہے اور کسی ایسے معاہدے پر آمادہ نہیں جو اس کے اسٹریٹجک مفادات کو نظر انداز کرے۔
دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکی حکومت نے نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ یا ایران کے مؤقف پر باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا تھا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عراق، قطر، پاکستان اور دیگر علاقائی ممالک کی ثالثی کی کوششیں بدستور جاری ہیں، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان اہم اختلافات برقرار رہنے کے باعث فوری پیش رفت کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔