Islam Times:
2026-07-24@03:27:08 GMT

پاک افغان جنگ کے حوالے سے قبائل رضاکاروں کی دفاعی تیاریاں

اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT

پاک افغان جنگ کے حوالے سے قبائل رضاکاروں کی دفاعی تیاریاں

اسلام ٹائمز: کرم کے سرحدی علاقوں، تری منگل، بغدے، خرلاچی، شنہ درگہ (جھنڈو سر) اور شورکی بارڈر پر جھڑپیں سامنے آرہی ہیں۔ پہلے دن حملے میں دو مقامات پر پاکستانی چیک پوسٹوں پر رات کو حملہ ہوا۔ ایک تری کے علاقے میں، دوسرا مالی خیل کے علاقے میں واقع تھا۔ تری کے قریب چیک پوسٹ میں 7 فوجی جان بحق ہوئے، جبکہ جھنڈو سر مالی خیل چیک پوسٹ میں دو افراد جاں بحق جبکہ ایک زخمی ہوگیا۔ دونوں پر طالبان نے قبضہ کرلیا۔ تاہم مقامی رضاکاروں کی فوری امداد پر دونوں چیک پوسٹوں پر دوبارہ قبضہ کرلیا گیا۔ تحریر: ایس این حسینی

وطن عزیز پاکستان کے مغربی بارڈر پر گذشتہ ایک ہفتے سے تعلقات کشیدہ ہیں۔ جگہ جگہ جھڑپوں کی خبریں سامنے آرہی ہیں۔ کے پی کے تمام قبائلی علاقہ جات اس صورتحال سے متاثر ہوچکے ہیں۔ کے پی کے علاوہ بلوچستان کا بارڈر بھی متاثر ہے۔ دونوں جانب سے اپنی کامیابی اور فریق مخالف کے نقصان کے دعوے سامنے آرہے ہیں، جبکہ عوام کو حقیقت کا کوئی علم نہیں ہوتا، وہ میڈیا ہی کے توسط سے معلومات حاصل کرتے ہیں۔ کونسی خبر درست، کونسی غلط ہے، اس کا صحیح اندازہ لگانا بہت مشکل ہے۔

کرم بارڈر کے حالات:
آتے ہیں کرم کے سرحدی حالات کی جانب، کرم کے سرحدی علاقوں، تری منگل، بغدے، خرلاچی، شنہ درگہ (جھنڈو سر) اور شورکی بارڈر پر جھڑپیں سامنے آرہی ہیں۔ پہلے دن حملے میں دو مقامات پر پاکستانی چیک پوسٹوں پر رات کو حملہ ہوا۔ ایک تری کے علاقے میں، دوسرا مالی خیل کے علاقے میں واقع تھا۔ تری کے قریب چیک پوسٹ میں 7 فوجی جان بحق ہوئے، جبکہ جھنڈو سر مالی خیل چیک پوسٹ میں دو افراد جاں بحق جبکہ ایک زخمی ہوگیا۔ دونوں جگہوں پر طالبان نے قبضہ کرلیا۔ تاہم مقامی رضاکاروں کی فوری امداد پر دونوں چیک پوسٹوں پر دوبارہ قبضہ کرلیا گیا۔ جھنڈو سر چیک پوسٹ کے ساتھ باڑ لگی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق طالبان نے آدھی رات کو سیڑھی لگا کر باڑ کراس کی۔ چیک پوسٹ کے اندر نفری کم ہونے کی وجہ سے کما حقہ مزاحمت نہ ہوسکی۔ دو افراد نے قریب واقع مالی خیل کی آبادی میں آکر حالات کی اطلاع پہنچائی، مالی خیل نے 40 جوانوں کا لشکر لیکر مورچہ طالبان سے واپس لیا۔

اسی دوران حکومت نے کرم کے طوری بنگش قبائل کے عمائدین خصوصاً انجمن اور تحریک حسینی کے ساتھ مشترکہ جرگے رکھے اور ان سے رضاکاروں کی فوری فراہمی کی گزارش کی۔ 17 اکتوبر کو خرلاچی بارڈر کے قریب طالبان کی بھاری نفری کے ساتھ نقل و حرکت اور انٹیلی جنس کے توسط سے اندازہ لگایا گیا کہ خرلاچی این ایل سی پر حملہ ہونے والا ہے، جبکہ وہاں پر تعینات فوجی نفری ان کے مقابلے کے لئے ناکافی ہے، چنانچہ کچکینہ، شنگک، بوڑکی، بغدے اور خرلاچی سے تقریباً 2000 رضاکار فورس تشکیل دیکر بارڈر پہنچائی گئی۔ سرحد پر مضبوط دفاعی پوزیشن پاکر رات کا ممکنہ خطرہ ٹل گیا اور کوئی جھڑپ نہیں ہوئی۔

ادھر پیواڑ علی منگولہ قلعے میں فوجی افسران کی پیواڑ کے مقامی عمائدین کے ساتھ مشترکہ میٹنگ ہوئی اور گوی سرحد پر پیواڑ کے طوری قبائل کی کمک طلب کی گئی، تاہم اہلیان پیواڑ نے اس خاص مقام پر کمک سے معذرت کرتے ہوئے وضاحت کی، کہ یہ علاقہ منگل کے وسط میں واقع ہے۔ منگل ایک طرف افغان اور طالبان نواز قبیلہ ہے، دوسری جانب پیواڑ کے طوری قبیلے کے ساتھ ان کی دیرینہ دشمنی رہی ہے۔ چنانچہ اس وقت انہیں افغان طالبان سے کچھ زیادہ ان مقامی منگلان سے خطرہ محسوس ہوتا ہے۔ تاہم اہلیان پیواڑ نے فوج کو یہ پیشکش کی کہ گوی کے علاوہ ملکی دفاع کیلئے جہاں کہیں ضرورت پڑے، وہ ہر دم تیار ہونگے۔

موجودہ سرحدی معاملات کے حوالے سے کنج علی زئی میں بھی عمائدین اور کمیٹی ممبران کا مشترکہ جرگہ ہوا اور خرلاچی تا بغدے ملکی سرحد کی حفاظت کے لئے روزانہ کی بنیاد پر 40 تا 50 رضاکاروں کا شیڈول ترتیب دیا گیا۔ دوسری جانب اہم اور ذمہ دار افراد نے طوری قبیلہ سے کمک کی خصوصی گزارش کرتے ہوئے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ طالبان کے مقابلے میں طوریوں کے علاوہ دیگر قبائل پر اتنا اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔ لہذا آپ اپنی نفری چوبیس گھنٹے آمادہ اور چوکس رکھیں۔ طوری بنگش عمائدین نے ملکی دفاع کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اپنی سرحدوں کا دفاع ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ خدا نخواستہ اگر فوج یہاں سے پسپائی اختیار کرتی ہے، یا یہ علاقہ چھوڑتی ہے، تو بھی بیرونی حملہ آوروں سے ہم اپنے علاقے کا دفاع کریں گے۔ خیال رہے کہ کل سے سرحدی حالات پرسکون ہیں۔ تاہم تجارت کیلئے سرحد مکمل طور پر بند ہے۔ سامان سے لدی بڑی گاڑیاں مالی کلے سے لیکر شنگک تک سڑک پر کھڑی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: چیک پوسٹوں پر کے علاقے میں چیک پوسٹ میں رضاکاروں کی قبضہ کرلیا مالی خیل جھنڈو سر کے ساتھ کرم کے تری کے

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔

اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان