Islam Times:
2026-06-02@23:19:22 GMT

پاک افغان جنگ کے حوالے سے قبائل رضاکاروں کی دفاعی تیاریاں

اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT

پاک افغان جنگ کے حوالے سے قبائل رضاکاروں کی دفاعی تیاریاں

اسلام ٹائمز: کرم کے سرحدی علاقوں، تری منگل، بغدے، خرلاچی، شنہ درگہ (جھنڈو سر) اور شورکی بارڈر پر جھڑپیں سامنے آرہی ہیں۔ پہلے دن حملے میں دو مقامات پر پاکستانی چیک پوسٹوں پر رات کو حملہ ہوا۔ ایک تری کے علاقے میں، دوسرا مالی خیل کے علاقے میں واقع تھا۔ تری کے قریب چیک پوسٹ میں 7 فوجی جان بحق ہوئے، جبکہ جھنڈو سر مالی خیل چیک پوسٹ میں دو افراد جاں بحق جبکہ ایک زخمی ہوگیا۔ دونوں پر طالبان نے قبضہ کرلیا۔ تاہم مقامی رضاکاروں کی فوری امداد پر دونوں چیک پوسٹوں پر دوبارہ قبضہ کرلیا گیا۔ تحریر: ایس این حسینی

وطن عزیز پاکستان کے مغربی بارڈر پر گذشتہ ایک ہفتے سے تعلقات کشیدہ ہیں۔ جگہ جگہ جھڑپوں کی خبریں سامنے آرہی ہیں۔ کے پی کے تمام قبائلی علاقہ جات اس صورتحال سے متاثر ہوچکے ہیں۔ کے پی کے علاوہ بلوچستان کا بارڈر بھی متاثر ہے۔ دونوں جانب سے اپنی کامیابی اور فریق مخالف کے نقصان کے دعوے سامنے آرہے ہیں، جبکہ عوام کو حقیقت کا کوئی علم نہیں ہوتا، وہ میڈیا ہی کے توسط سے معلومات حاصل کرتے ہیں۔ کونسی خبر درست، کونسی غلط ہے، اس کا صحیح اندازہ لگانا بہت مشکل ہے۔

کرم بارڈر کے حالات:
آتے ہیں کرم کے سرحدی حالات کی جانب، کرم کے سرحدی علاقوں، تری منگل، بغدے، خرلاچی، شنہ درگہ (جھنڈو سر) اور شورکی بارڈر پر جھڑپیں سامنے آرہی ہیں۔ پہلے دن حملے میں دو مقامات پر پاکستانی چیک پوسٹوں پر رات کو حملہ ہوا۔ ایک تری کے علاقے میں، دوسرا مالی خیل کے علاقے میں واقع تھا۔ تری کے قریب چیک پوسٹ میں 7 فوجی جان بحق ہوئے، جبکہ جھنڈو سر مالی خیل چیک پوسٹ میں دو افراد جاں بحق جبکہ ایک زخمی ہوگیا۔ دونوں جگہوں پر طالبان نے قبضہ کرلیا۔ تاہم مقامی رضاکاروں کی فوری امداد پر دونوں چیک پوسٹوں پر دوبارہ قبضہ کرلیا گیا۔ جھنڈو سر چیک پوسٹ کے ساتھ باڑ لگی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق طالبان نے آدھی رات کو سیڑھی لگا کر باڑ کراس کی۔ چیک پوسٹ کے اندر نفری کم ہونے کی وجہ سے کما حقہ مزاحمت نہ ہوسکی۔ دو افراد نے قریب واقع مالی خیل کی آبادی میں آکر حالات کی اطلاع پہنچائی، مالی خیل نے 40 جوانوں کا لشکر لیکر مورچہ طالبان سے واپس لیا۔

اسی دوران حکومت نے کرم کے طوری بنگش قبائل کے عمائدین خصوصاً انجمن اور تحریک حسینی کے ساتھ مشترکہ جرگے رکھے اور ان سے رضاکاروں کی فوری فراہمی کی گزارش کی۔ 17 اکتوبر کو خرلاچی بارڈر کے قریب طالبان کی بھاری نفری کے ساتھ نقل و حرکت اور انٹیلی جنس کے توسط سے اندازہ لگایا گیا کہ خرلاچی این ایل سی پر حملہ ہونے والا ہے، جبکہ وہاں پر تعینات فوجی نفری ان کے مقابلے کے لئے ناکافی ہے، چنانچہ کچکینہ، شنگک، بوڑکی، بغدے اور خرلاچی سے تقریباً 2000 رضاکار فورس تشکیل دیکر بارڈر پہنچائی گئی۔ سرحد پر مضبوط دفاعی پوزیشن پاکر رات کا ممکنہ خطرہ ٹل گیا اور کوئی جھڑپ نہیں ہوئی۔

ادھر پیواڑ علی منگولہ قلعے میں فوجی افسران کی پیواڑ کے مقامی عمائدین کے ساتھ مشترکہ میٹنگ ہوئی اور گوی سرحد پر پیواڑ کے طوری قبائل کی کمک طلب کی گئی، تاہم اہلیان پیواڑ نے اس خاص مقام پر کمک سے معذرت کرتے ہوئے وضاحت کی، کہ یہ علاقہ منگل کے وسط میں واقع ہے۔ منگل ایک طرف افغان اور طالبان نواز قبیلہ ہے، دوسری جانب پیواڑ کے طوری قبیلے کے ساتھ ان کی دیرینہ دشمنی رہی ہے۔ چنانچہ اس وقت انہیں افغان طالبان سے کچھ زیادہ ان مقامی منگلان سے خطرہ محسوس ہوتا ہے۔ تاہم اہلیان پیواڑ نے فوج کو یہ پیشکش کی کہ گوی کے علاوہ ملکی دفاع کیلئے جہاں کہیں ضرورت پڑے، وہ ہر دم تیار ہونگے۔

موجودہ سرحدی معاملات کے حوالے سے کنج علی زئی میں بھی عمائدین اور کمیٹی ممبران کا مشترکہ جرگہ ہوا اور خرلاچی تا بغدے ملکی سرحد کی حفاظت کے لئے روزانہ کی بنیاد پر 40 تا 50 رضاکاروں کا شیڈول ترتیب دیا گیا۔ دوسری جانب اہم اور ذمہ دار افراد نے طوری قبیلہ سے کمک کی خصوصی گزارش کرتے ہوئے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ طالبان کے مقابلے میں طوریوں کے علاوہ دیگر قبائل پر اتنا اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔ لہذا آپ اپنی نفری چوبیس گھنٹے آمادہ اور چوکس رکھیں۔ طوری بنگش عمائدین نے ملکی دفاع کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اپنی سرحدوں کا دفاع ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ خدا نخواستہ اگر فوج یہاں سے پسپائی اختیار کرتی ہے، یا یہ علاقہ چھوڑتی ہے، تو بھی بیرونی حملہ آوروں سے ہم اپنے علاقے کا دفاع کریں گے۔ خیال رہے کہ کل سے سرحدی حالات پرسکون ہیں۔ تاہم تجارت کیلئے سرحد مکمل طور پر بند ہے۔ سامان سے لدی بڑی گاڑیاں مالی کلے سے لیکر شنگک تک سڑک پر کھڑی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: چیک پوسٹوں پر کے علاقے میں چیک پوسٹ میں رضاکاروں کی قبضہ کرلیا مالی خیل جھنڈو سر کے ساتھ کرم کے تری کے

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان