پاک افغان کشیدگی میں دونوں ممالک کا جانی و مالی نقصان ہورہا ہے، بیرسٹر سیف
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
پی ٹی آئی رہنماء کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے باعث کئی دنوں سے تجارتی سرگرمیاں معطل ہیں، جس کے نتیجے میں خیبر پختون خوا اور افغانستان کے تاجروں کے اربوں روپے ڈوب چکے ہیں جبکہ بارڈر پر کنٹینرز کی لمبی قطاریں کھڑی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث نہ صرف دونوں ممالک کو جانی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے بلکہ معاشی اعتبار سے بھی سنگین صورتحال پیدا ہوچکی ہے، دہشت گردی پر قابو پانے کیلیے پی ٹی آئی حکومت کی پالیسیوں پر عمل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے باعث کئی دنوں سے تجارتی سرگرمیاں معطل ہیں، جس کے نتیجے میں خیبر پختون خوا اور افغانستان کے تاجروں کے اربوں روپے ڈوب چکے ہیں جبکہ بارڈر پر کنٹینرز کی لمبی قطاریں کھڑی ہیں۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان برادر اسلامی ممالک ہیں، اس لیے جنگ یا کشیدگی کسی کے بھی مفاد میں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بانی تحریک انصاف عمران خان نے بھی پاک افغان کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں دونوں ممالک کے تعلقات بہترین سطح پر تھے، جس کے نتیجے میں پاکستان خصوصاً خیبر پختون خوا میں مثالی امن قائم ہوا تھا۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان نے پاک افغان کشیدگی کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی پیشکش بھی کی ہے۔ عمران خان کے مطابق اگر انہیں پے رول پر رہائی دی جائے تو وہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی ختم کرکے خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مؤثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔ بیرسٹر سیف نے کہا کہ عمران خان نے کہا کہ پاکستان کے عوام دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عظیم قربانیاں پیش کر رہے ہیں، تاہم وفاقی حکومت کی ناقص پالیسیوں کے باعث دہشت گردی کا خطرہ بدستور موجود ہے۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کے دور کی پالیسیوں پر عمل کیا جائے۔ انہوں نے کاہ کہ پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں ہم نے افغانستان کو مذاکرات کے عمل میں شامل کیا تھا اور بات چیت کے ذریعے خطے میں امن قائم رکھا تھا۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ موجودہ پاک افغان کشیدگی وفاقی حکومت کی ناقص اور ناکام پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے بقول جعلی وفاقی حکومت کی نااہلی کے باعث پورے خطے کا امن خطرے میں ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پاک افغان کشیدگی دونوں ممالک کے اور افغانستان کہ پاکستان سیف نے کہا کے درمیان کشیدگی کے نے کہا کہ انہوں نے حکومت کی کے باعث کہ پاک
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔