Express News:
2026-06-03@07:34:09 GMT

افغانستان میں دہشت گردوں کا خاتمہ ضروری

اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT

پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوحہ میں ہونے والے 13 گھنٹے طویل مذاکرات کامیابی کے ساتھ مکمل ہوگئے، جن کے نتیجے میں دونوں ممالک نے فوری جنگ بندی پر اتفاق کر لیا۔ اس معاہدے کے تحت افغانستان سے پاکستان کی سرزمین پر دہشت گردی کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے گا۔ فریقین نے اس بات پر بھی اتفاق کیا ہے کہ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ طے شدہ نکات پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔

افغانستان اور پاکستان کے درمیان حالیہ جنگ بندی ایک وقتی اطمینان کا باعث ضرور بنی ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک ناپائیدار سکون ہے جو ایک آتش فشاں کے دہانے پرکھڑا ہے۔

مسئلے کی جڑیں اس سے کہیں گہری ہیں، جنھیں نظر انداز کرنا دانشمندی نہیں بلکہ غفلت کے مترادف ہوگا۔ افغانستان کی سرزمین اس وقت بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہ بنی ہوئی ہے۔

پاکستانی حکام متعدد بار اس امر کی نشان دہی کر چکے ہیں کہ افغان سرزمین سے پاکستان پر حملے کیے جا رہے ہیں اور یہ حملے محض انفرادی یا غیر منظم کارروائیاں نہیں بلکہ منظم منصوبہ بندی کا نتیجہ ہیں۔ یہ حقیقت اس قدر عیاں ہے کہ اس سے آنکھیں بند رکھنا خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔ یہ خطرہ صرف پاکستان کے لیے نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے ہے، کیونکہ شدت پسندی کی یہ آگ جب بھڑکے گی تو نہ صرف پاکستان بلکہ ایران، چین، وسطی ایشیائی ریاستیں اور روس جیسے ممالک بھی اس کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔

یہ بات کتنی تکلیف دہ ہے کہ جس ملک کی لاکھوں عوام کو چالیس سال سے زائد عرصے تک اپنی سرزمین پر سر چھپانے کی جگہ دی اور جس طالبان کے جتھے کو دوبارہ اقتدار تک لانے کی راہ ہموار کی، اسی ملک کا عاقبت نا اندیش ٹولہ پاکستان کو ہی آنکھیں دکھا کر مودی اور نئی دہلی کے ایجنٹ ہونے کا خود ہی ثبوت دے رہا ہے۔ سب سے زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ افغانستان اب بھارت کی پراکسی بننے کے راستے پر گامزن ہے۔ بھارت، جو ہمیشہ پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف رہا ہے،

اب افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔ یہ ایک گھناؤنا کھیل ہے جس کا خمیازہ بالآخر افغان عوام کو بھگتنا پڑے گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ بھارت نے کبھی کسی ملک کا وفادار دوست ہونے کا ثبوت نہیں دیا۔ افغانستان کو سمجھنا ہوگا کہ بھارت صرف اپنے مفادات کے لیے افغانستان کو استعمال کر رہا ہے۔ جب وہ مفادات پورے ہو جائیں گے، تو بھارت پیچھے ہٹ جائے گا اور افغانستان ایک بار پھر تنہائی اور بدامنی کا شکار ہوگا۔

 پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پر حالیہ عسکری جھڑپیں اور اس سے پیدا ہونے والی کشیدگی ایک گہرے سیاسی و سلامتی بحران کی علامت ہیں۔ جب 2021میں طالبان نے کابل پر کنٹرول حاصل کیا، تو پوری دنیا نے اپنے سفارتخانے بند کردیے جب کہ پاکستان نے اپنا مشن کھلا رکھا اور انخلا کے مشکل دورانیے میں لوگوں کے محفوظ راستے کو بھی یقینی بنایا۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر انخلا کے بعد ہونے والی ہر بحث میں، پاکستان نے افغان عوام کی مدد کے لیے ان کے9 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کو جاری کرنے کی اپیلیں بھی کیں، تاکہ افغانستان اپنے پیروں پہ کھڑا ہو سکے۔

پاکستان نے ہر علاقائی پلیٹ فارم جیسے معاشی تعاون کی تنظیم (ECO) کا استعمال کرتے ہوئے افغان عوام کے حق میں امدادی اقدامات کی بھر پور وکالت بھی کی۔ پاکستان ہر مشکل وقت میں افغانستان میں امن اور استحکام کے لیے کھڑا ہوا، لیکن بدلے میں افغانستان ٹی ٹی پی کی مسلح آماجگاہ بنا کر پاکستان ہی کے خلاف استعمال ہونے لگا ہے۔ بار بار اشتعال انگیزیوں کے باوجود، پاکستان نے مذہبی، قبائلی اور سرکاری چینلز کے ذریعے پرامن کوششیں جاری رکھیں۔ اس وقت صورتحال انتہائی نازک ہے اور اس کے مزید بگڑنے کے خطرناک امکانات ہیں۔

 افغان طالبان کے رویے میں تضاد صاف جھلکتا ہے۔ ایک طرف وہ بین الاقوامی برادری سے سفارتی تسلیم اور امداد کے خواہاں ہیں، دوسری جانب پاکستان کے بار بار مطالبے کے باوجود وہ کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خلاف کوئی واضح قدم نہیں اٹھاتے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف سفارتی سطح پر غیر ذمے داری کا مظہر ہے بلکہ تاریخی احسان فراموشی کی جھلک بھی رکھتا ہے۔ افغان قیادت کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ جب سوویت یونین نے افغانستان پر یلغار کی، تو پاکستان ہی وہ ملک تھا جس نے اپنی معیشت، معاشرت اور سلامتی کو قربان کر کے افغان عوام کی مدد کی۔ اس وقت پاکستان کے شہروں، اسکولوں، اسپتالوں اور بازاروں نے لاکھوں افغان پناہ گزینوں کو پناہ دی، ان کے لیے اپنے دروازے کھول دیے۔ نہ صرف یہ کہ ان پناہ گزینوں کو انسانی بنیادوں پر تحفظ فراہم کیا گیا بلکہ انھیں ایک شہری کی حیثیت سے زندگی گزارنے کے مواقع بھی دیے گئے، ایسا برادرانہ سلوک دنیا کی کسی اور ریاست نے کسی پناہ گزین قوم کے ساتھ نہیں کیا۔

 جب کوئی قوم اپنے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے سے انکار کر دے، تو اس کا حال داؤ پر لگ جاتا ہے اور مستقبل تاریکی میں گم ہو جاتا ہے۔ یہ ایک افسوسناک امر ہے کہ عبوری افغان حکومت، جو خود دہشت گردی کے خلاف ایک طویل جنگ کے بعد ابھری تھی، آج انھی عناصر کو پناہ دے رہی ہے جنھوں نے دہائیوں تک اس سرزمین کو خون میں نہلائے رکھا۔

طالبان قیادت نے عالمی برادری کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ وہ افغانستان کی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ مگر حالات اور زمینی حقائق ان دعوؤں کی نفی کر رہے ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان، داعش خراسان، اور القاعدہ جیسے عناصر نہ صرف افغانستان میں سرگرم ہیں بلکہ انھیں منظم انداز میں تحفظ دیا جا رہا ہے۔ ان گروہوں کو تربیت، وسائل، پناہ اور نظریاتی پشت پناہی فراہم کی جا رہی ہے۔

اگر افغانستان کی عبوری حکومت یہ سمجھتی ہے کہ دہشت گردوں کی سرپرستی کرکے وہ پاکستان پر دباؤ ڈال سکتی ہے یا کسی حکمت عملی میں کامیابی حاصل کر سکتی ہے، تو یہ ایک سنگین غلط فہمی ہے۔ پاکستان ایک منظم ریاست ہے، جس نے دہشت گردی کے خلاف اپنی تاریخ میں عظیم قربانیاں دی ہیں۔ اس کی فوج، عوام اور ریاستی ادارے دہشت گردی کے خلاف یکجہت ہیں۔

ایسی ریاست کو غیر مستحکم کرنا نہ صرف ایک خطرناک خیال ہے بلکہ خطے میں خود افغان حکومت کی سلامتی کو بھی خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ دہشت گردوں کی پشت پناہی کرتے ہوئے افغان حکومت کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ وہ عالمی برادری کی نظروں میں کیا مقام حاصل کر رہی ہے، اگر یہی روش جاری رہی تو نہ صرف بین الاقوامی امداد رُک جائے گی بلکہ افغانستان تنہا رہ جائے گا۔

 یہ لمحہ افغان حکومت کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ ہے۔ وہ چاہے تو ایک ذمے دار ریاست کے طور پر دنیا کے ساتھ کھڑی ہو سکتی ہے، اور چاہے تو دہشت گردوں کا ساتھ دے کر دنیا سے کٹ سکتی ہے۔ لیکن یہ بات طے ہے کہ دہشت گردوں کی پشت پناہی کرتے ہوئے افغانستان کبھی بھی ایک مستحکم، خود مختار اور قابل احترام ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے پر برقرار نہیں رہ سکے گا۔ اگر طالبان واقعی اسلامی نظام کے نفاذ کے خواہاں ہیں تو انھیں چاہیے کہ وہ اسلام کی اصل روح کو سمجھیں۔ اسلام ہمیں امن، رواداری، حسنِ سلوک اور ہمسایوں کے حقوق کی پاسداری کا درس دیتا ہے۔

کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف دہشت گردی کی اجازت دینا نہ صرف اسلامی اصولوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ خود اپنے عوام کے مستقبل سے خیانت ہے۔پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات کو ترجیح دی ہے، اور آج بھی اس بات کا خواہاں ہے کہ افغانستان کے ساتھ مل کر ایک ایسا راستہ نکالا جائے جو دونوں ممالک کے لیے امن، ترقی اور استحکام کی نوید ہو۔ افغانستان کو چاہیے کہ وہ پاکستان کے ساتھ سنجیدہ، باضابطہ اور نتیجہ خیز مذاکرات پر عمل درآمد کرے۔ سرحدی نگرانی، انٹیلی جنس شیئرنگ، اور دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ کارروائیاں وقت کی اہم ضرورت ہیں۔یہ محض ایک دو طرفہ مسئلہ نہیں بلکہ عالمی برادری کی بھی ذمے داری ہے کہ وہ افغانستان پر دباؤ ڈالے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔

افغان حکومت کو سوچنا ہوگا کہ وہ کس سمت جانا چاہتی ہے، اگر اس نے دہشت گردوں سے لاتعلقی اختیار نہ کی، تو نہ صرف خطہ عدم استحکام کا شکار ہوگا بلکہ افغانستان خود بھی دنیا میں تنہا ہو جائے گا، اور اگر اس نے ہوش مندی کا مظاہرہ کیا، پاکستان سے مل کر امن و استحکام کی راہ اپنائی، تو یہ صرف دو ملکوں کے لیے نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے ایک نئی صبح کا آغاز ہو سکتا ہے۔ اب وقت فیصلے کا ہے۔ یہ فیصلہ افغانستان کی عبوری حکومت کو کرنا ہے کہ وہ امن کا ساتھ دیتی ہے یا دہشت گردی کا۔ اس فیصلے پر اس ملک کا مقدر، خطے کی سلامتی اور لاکھوں بے گناہ انسانوں کا مستقبل منحصر ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بین الاقوامی کہ افغانستان افغانستان کی دہشت گردی کے افغان حکومت پاکستان کے افغان عوام پاکستان نے نہیں بلکہ سرزمین کو کی سرزمین کہ افغان چاہیے کہ ہیں بلکہ کے ساتھ سکتی ہے جائے گا کے خلاف اور اس یہ ایک کے لیے رہا ہے

پڑھیں:

صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 

سٹی 42:صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  نے بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش  کی 

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ   نے  بلوچستان میں 17 بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں کی ہلاکت پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ملک دشمن عناصر کو سختی سے کچلا جائے گا۔سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔پوری قوم کو اپنے  جوانوں پر فخر کرتی ہے۔آخری دہشتگرد کے خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا۔وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے  بلوچستان کے  مختلف اضلاع  میں بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف کامیاب آپریشنز پر سکیورٹی فورسز کی ستائش  کی ۔ وزیرداخلہ محسن نقوی نے 17 بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کو جہنم واصل کرنے پر سکیورٹی فورسز کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو سراہا ۔ محسن نقوی نے کہا سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائیاں کرکے بلوچستان میں بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا۔  17 بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کو عبرتناک انجام تک پہنچانے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ پوری قوم کو سکیورٹی فورسز کے بہادر سپوتوں پر مان ہے ۔ دہشتگردی کے خلاف قوم سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

وزیراعظم محمد شہباز شریف  نے بلوچستان میں کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا ۔ انہوں نے  بلوچستان کے مختلف اضلاع میں کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز پر سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور بہادری کو سراہا۔ وزیراعظم نے بھارتی سرپرستی میں سرگرم 17  فتنتہ الھندوستان کے دہشت گردوں کو ہلاک کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا  قوم اپنی بہادر افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں اور خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کی کامیابیاں پوری قوم کے عزم اور اتحاد کی عکاس ہیں، بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد عناصر کے ناپاک عزائم کو ہر قیمت پر ناکام بنایا جائے گا۔پاکستان سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے کے لیے حکومت سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔پاکستان کے امن، استحکام اور ترقی کے خلاف ہر سازش کو ناکام بنایا جائے گا۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے  بلوچستان میں فتنۂ الہندوستان کے خلاف کامیاب کارروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا ۔ صدرِ مملکت نے مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائیوں میں 17 دہشت گردوں کی ہلاکت کو سراہا ۔ صدر مملکت نے کہا ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کے ناسور کا جڑ سے خاتمہ کیا جانا اولین ترجیح ہے۔فتنۂ ہندوستان اور اس کے سہولت کاروں کے مذموم عزائم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

متعلقہ مضامین

  • اٹلی میں پاکستانی اور افغان تارکین وطن کو وین میں آگ لگا کر قتل کرنے کے الزام میں دو پاکستانی گرفتار
  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی