اسرائیل نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غزہ میں انسانی امداد کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کردی ہے، جب کہ جنوبی رفح میں ایک حملے کے دوران 2 اسرائیلی فوجی ہلاک اور 3 زخمی ہوگئے۔ اس صورتِ حال نے جنگ بندی کے مستقبل کو غیر یقینی بنادیا ہے اور خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھنے لگی ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق حکومت نے فوج کو ہدایت دی ہے کہ غزہ میں کسی بھی قسم کی انسانی امداد کو تاحکمِ ثانی داخل نہ ہونے دیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کی جانب سے غزہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی پر حماس کا ردعمل آگیا

رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ حماس کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی مبینہ خلاف ورزی کے بعد کیا گیا ہے۔ اس سے قبل اسرائیلی فضائیہ نے غزہ کے مختلف علاقوں میں شدید بمباری کی جس کے نتیجے میں کم از کم 20 افراد شہید ہوگئے۔

اسرائیلی فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائیاں اتوار کی صبح حماس کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے جواب میں کی گئیں۔ فوج کے مطابق جنوبی غزہ کے مختلف علاقوں میں درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی سے طے پانے والی جنگ بندی 10 اکتوبر کو نافذ ہوئی تھی، جس کے بعد اسرائیل اور حماس کے درمیان 2 سال سے جاری تباہ کن جنگ عارضی طور پر رک گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی فوج کا غزہ پر نیا حملہ، جنگ بندی خطرے میں پڑ گئی

میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی توپ خانے نے جنوبی غزہ کے خان یونس کے مشرقی علاقوں عبسان اور الزنہ پر بھی گولہ باری کی، جبکہ رفح میں ایک حملے کے دوران 2 اسرائیلی فوجی ہلاک اور 3 زخمی ہوگئے۔

اسرائیلی فوج نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی شناخت میجر یانیو کولا اور اسٹاف سارجنٹ ایتائے یاویٹس کے طور پر ہوئی ہے، جو ناحل بریگیڈ کی 932ویں بٹالین سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ واقعہ آج صبح جنوب مشرقی رفح میں صلاح الدین روڈ کے قریب پیش آیا، جو جنگ بندی کے تحت اسرائیلی کنٹرول میں واقع علاقہ ہے۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ آور ایک سرنگ سے نکلے اور آر پی جی راکٹ سے ایک ایکسکویٹر کو نشانہ بنایا، جس سے 2 فوجی موقع پر جاں بحق ہوئے۔ بعد ازاں اسنائپر فائر سے مزید 3 فوجی زخمی ہوئے جن میں ایک کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کی جانب سے غزہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی، حملے میں 9 فلسطینی شہید

اسرائیلی فوج کے مطابق یہ اہلکار علاقے میں حماس کی زیرِ زمین سرنگوں کے خاتمے کے آپریشن پر مامور تھے۔ حملے کے بعد اسرائیلی فضائیہ اور زمینی دستوں نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے جنوبی غزہ کے مختلف حصوں میں شدید بمباری کی۔

حماس کا حملے سے لاتعلقی کا اظہار

دوسری جانب حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے واقعے سے لاعلمی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ تنظیم جنگ بندی معاہدے پر قائم ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ انہیں رفح کے علاقے میں کسی جھڑپ یا کارروائی کی معلومات نہیں، کیونکہ یہ علاقے قابض اسرائیلی افواج کے کنٹرول میں ہیں اور وہاں موجود مزاحمت کاروں سے رابطہ کئی ماہ سے منقطع ہے۔

ماہرین کے مطابق غزہ میں امدادی پابندی اور بڑھتے فضائی حملے خطے میں نئی انسانی بحران کی راہ ہموار کر سکتے ہیں، جبکہ جنگ بندی کے مستقبل پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news اسرائیل اسرائیلی فوجی ہلاک امدادی کارروائیاں معطل بمباری توپ خانہ جنگ بندی حماس خان یونس غزہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل اسرائیلی فوجی ہلاک امدادی کارروائیاں معطل توپ خانہ خان یونس جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی اسرائیلی فوج کی جانب سے کے مطابق غزہ کے

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم