اسرائیل نے غزہ میں امداد کا داخلہ روک دیا، قابض فوجیوں پر حملے میں 2 اہلکار ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
اسرائیل نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غزہ میں انسانی امداد کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کردی ہے، جب کہ جنوبی رفح میں ایک حملے کے دوران 2 اسرائیلی فوجی ہلاک اور 3 زخمی ہوگئے۔ اس صورتِ حال نے جنگ بندی کے مستقبل کو غیر یقینی بنادیا ہے اور خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھنے لگی ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق حکومت نے فوج کو ہدایت دی ہے کہ غزہ میں کسی بھی قسم کی انسانی امداد کو تاحکمِ ثانی داخل نہ ہونے دیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کی جانب سے غزہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی پر حماس کا ردعمل آگیا
رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ حماس کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی مبینہ خلاف ورزی کے بعد کیا گیا ہے۔ اس سے قبل اسرائیلی فضائیہ نے غزہ کے مختلف علاقوں میں شدید بمباری کی جس کے نتیجے میں کم از کم 20 افراد شہید ہوگئے۔
اسرائیلی فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائیاں اتوار کی صبح حماس کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے جواب میں کی گئیں۔ فوج کے مطابق جنوبی غزہ کے مختلف علاقوں میں درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی سے طے پانے والی جنگ بندی 10 اکتوبر کو نافذ ہوئی تھی، جس کے بعد اسرائیل اور حماس کے درمیان 2 سال سے جاری تباہ کن جنگ عارضی طور پر رک گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی فوج کا غزہ پر نیا حملہ، جنگ بندی خطرے میں پڑ گئی
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی توپ خانے نے جنوبی غزہ کے خان یونس کے مشرقی علاقوں عبسان اور الزنہ پر بھی گولہ باری کی، جبکہ رفح میں ایک حملے کے دوران 2 اسرائیلی فوجی ہلاک اور 3 زخمی ہوگئے۔
اسرائیلی فوج نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی شناخت میجر یانیو کولا اور اسٹاف سارجنٹ ایتائے یاویٹس کے طور پر ہوئی ہے، جو ناحل بریگیڈ کی 932ویں بٹالین سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ واقعہ آج صبح جنوب مشرقی رفح میں صلاح الدین روڈ کے قریب پیش آیا، جو جنگ بندی کے تحت اسرائیلی کنٹرول میں واقع علاقہ ہے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ آور ایک سرنگ سے نکلے اور آر پی جی راکٹ سے ایک ایکسکویٹر کو نشانہ بنایا، جس سے 2 فوجی موقع پر جاں بحق ہوئے۔ بعد ازاں اسنائپر فائر سے مزید 3 فوجی زخمی ہوئے جن میں ایک کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کی جانب سے غزہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی، حملے میں 9 فلسطینی شہید
اسرائیلی فوج کے مطابق یہ اہلکار علاقے میں حماس کی زیرِ زمین سرنگوں کے خاتمے کے آپریشن پر مامور تھے۔ حملے کے بعد اسرائیلی فضائیہ اور زمینی دستوں نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے جنوبی غزہ کے مختلف حصوں میں شدید بمباری کی۔
حماس کا حملے سے لاتعلقی کا اظہاردوسری جانب حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے واقعے سے لاعلمی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ تنظیم جنگ بندی معاہدے پر قائم ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ انہیں رفح کے علاقے میں کسی جھڑپ یا کارروائی کی معلومات نہیں، کیونکہ یہ علاقے قابض اسرائیلی افواج کے کنٹرول میں ہیں اور وہاں موجود مزاحمت کاروں سے رابطہ کئی ماہ سے منقطع ہے۔
ماہرین کے مطابق غزہ میں امدادی پابندی اور بڑھتے فضائی حملے خطے میں نئی انسانی بحران کی راہ ہموار کر سکتے ہیں، جبکہ جنگ بندی کے مستقبل پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اسرائیل اسرائیلی فوجی ہلاک امدادی کارروائیاں معطل بمباری توپ خانہ جنگ بندی حماس خان یونس غزہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل اسرائیلی فوجی ہلاک امدادی کارروائیاں معطل توپ خانہ خان یونس جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی اسرائیلی فوج کی جانب سے کے مطابق غزہ کے
پڑھیں:
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
فائل فوٹو۔بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 17دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے یہ آپریشنز 24 مئی کے ٹرین واقعہ کے بعد کیے، جو مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے اضلاع میں کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی ہلاکت سے ان علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو بہت زیادہ نقصان ہوا، ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بڑی مقدار میں بارودی مواد اور آئی ای ڈیز برآمد کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ ان علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی ملک گیر انسدادِ دہشت گردی مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی اور ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔