پروفیسر شاداب احمد صدیقی
دنیا کے ہر میدان میں سیاست کے اثرات دیکھنے کو ملتے ہیں، مگر کرکٹ وہ واحد کھیل سمجھا جاتا تھا جہاں باہمی عزت، اصول اور کھیل کا جذبہ سیاست پر غالب رہتا تھا۔ برصغیر میں کرکٹ محض کھیل نہیں بلکہ ایک ثقافتی روایت، جذبے اور شائستگی کی علامت تھی۔ مگر آج وہی کھیل، جو دوستیوں کو مضبوط کرنے کا ذریعہ بنتا تھا، اب نفرت، تعصب اور سیاسی اثر و رسوخ کی زد میں آ چکا ہے ۔ بھارت کی موجودہ قیادت نے کرکٹ کو اپنی سیاسی اثر انگیزی کا ذریعہ بناتے ہوئے اسے سفارتی اور نظریاتی کشمکش کا حصہ بنا دیا ہے ۔ اب بھارتی کھلاڑی امن کے نمائندے نہیں رہے بلکہ قومی بیانیے کے پرچار کرنے والے بن چکے ہیں، جہاں ہر میچ کو سیاسی برتری سے جوڑا جا رہا ہے ۔
پاکستان نے ہمیشہ کرکٹ کو ایک کھیل کے طور پر دیکھا، دشمنی کے طور پر نہیں۔ مگر گزشتہ چند برسوں میں بھارت کے رویے نے یہ تاثر ختم کر دیا ہے کہ کھیل سیاست سے پاک رہ سکتا ہے ۔ بھارتی میڈیا، اسٹیڈیم کے نعرے ، اور بورڈ کے فیصلے سب ایک سمت اشارہ کرتے ہیں کہ اب کرکٹ کی باگ ڈور صرف کھیل کے ماہرین کے ہاتھ میں نہیں رہی بلکہ سیاسی ایجنڈوں کے تابع ہو گئی ہے ۔ جب کسی ملک کا کرکٹ بورڈ اپنی حکومت کی نظریاتی سوچ کا ترجمان بن جائے ، تو پھر غیر جانبداری کا تصور دم توڑ دیتا ہے ۔
آج یہی صورتحال آئی سی سی میں دکھائی دے رہی ہے جہاں بھارت کا جے شاہ بطور چیئرمین اپنا اثر و رسوخ بڑھا کر کھیل کی روح پر سیاست کا سایہ ڈال رہا ہے ۔ ان کے اقدامات اور بیانات نے عالمی سطح پر یہ احساس پیدا کر دیا ہے کہ ایشیائی کرکٹ اب صرف کھیل نہیں بلکہ ایک نظریاتی جنگ کا نیا محاذ ہے ۔ کھیل کا وہ اصول جسے ”جینٹلمین گیم” کہا جاتا تھا، اب سیاسی نفرت کے ہتھیار میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔
ہندتوا سوچ والے جے شاہ نے جینٹلمین کھیل کو تعصب کی بھینٹ چڑھا دیا ہے ۔ جے شاہ نے کرکٹ کو ہائی جیک کر لیا ہے ۔ وہ جس عہدے پر فائز ہے ، وہاں غیر جانبداری اور وقار سب سے بڑی شرط ہوتی ہے ، مگر ان کے بیانات اور فیصلے بین الاقوامی کرکٹ میں سیاسی تقسیم کو بڑھا رہے ہیں۔ پاکستان جیسا ملک، جو خود سرحد پار دہشت گردی کا شکار ہے ، کے خلاف تعصب پر مبنی بیانات اور اقدامات سے کھیل کی روح مجروح ہو رہی ہے ۔ کھیل کبھی بھی سیاست کا میدان نہیں رہا، مگر بدقسمتی سے ایشیا میں کرکٹ اب سیاست کا ہتھیار بنتی جا رہی ہے ۔حال ہی میں پاکستان نے بین الاقوامی کرکٹ کونسل (ICC) کے ایک متنازع اور قبل از وقت تبصرے کو مسترد کیا ہے جس میں افغانستان کے کھلاڑیوں کی ہلاکت سے متعلق غیر مصدقہ معلومات پر مبنی موقف اختیار کیا گیا۔ پاکستان نے بالکل درست طور پر کہا ہے کہ آئی سی سی نے افغان کھلاڑیوں کی ہلاکت کی کوئی آزادانہ تصدیق نہیں کی۔ اس طرح کے بیانات کھیل کو سیاسی رنگ دینے اور مخصوص ملکوں کے خلاف عالمی فضا خراب کرنے کے مترادف ہیں۔پاکستان نے واضح طور پر آئی سی سی کے متعصبانہ اور قبل از وقت بیان کو مسترد کر دیا ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف ایک بیان نہیں، بلکہ کھیل کی غیر جانبداری پر حملہ ہے ۔ جے شاہ، جو بھارتی کرکٹ بورڈ کا سیکریٹری اور آئی سی سی کا چیئرمین ہے ، اس کے اثر و رسوخ نے پورے ادارے کی شفافیت پر سوال کھڑا کر دیا ہے ۔ جب ایک ملک کے نمائندے کو اتنا بڑا عالمی عہدہ مل جائے تو اسے تمام ممالک کے ساتھ یکساں سلوک کرنا چاہیے ، مگر جے شاہ کے رویے نے یہ تاثر زائل کر دیا ہے ۔بھارت کی ہندتوا پالیسی اب کھیل کے میدانوں میں بھی دکھائی دینے لگی ہے ۔ پاکستان کے کھلاڑیوں کو ویزے نہ دینا، ان کے پرچموں پر پابندیاں لگانا، اور میچز کے دوران تعصب پر مبنی نعرے لگوانا، یہ سب ایک منظم حکمتِ عملی کا حصہ ہے ۔کھیل قوموں کو جوڑنے کا ذریعہ ہونا چاہیے ، توڑنے کا نہیں، مگر جے شاہ کی پالیسیوں نے کرکٹ کو نفرت، تعصب اور سیاست کے شکنجے میں قید کر دیا ہے ۔
آئی سی سی کا بنیادی مقصد عالمی سطح پر کھیل کے اصولوں کی پاسداری اور غیر جانبدارانہ ماحول کا فروغ ہے ، لیکن حالیہ برسوں میں دیکھا جا رہا ہے کہ فیصلوں میں طاقتور ممالک کا اثر بڑھتا جا رہا ہے ۔ مثال کے طور پر 2023 کے ورلڈ کپ میں پاکستان کے میچز کو جان بوجھ کر متنازعہ وقت اور مقام پر رکھا گیا۔ حتیٰ کہ پاکستان کے کپتان کو میڈیا رسائی سے بھی محدود رکھا گیا۔ یہ سب جے شاہ کی زیرِ نگرانی ہونے والے فیصلے تھے ، جنہوں نے شفافیت پر سنگین سوال اٹھا دیے ۔ایشیا میں کرکٹ کا توازن بگڑتا جا رہا ہے ۔ پہلے یہ کھیل باہمی عزت، دوستی اور مقابلے کا نشان تھا، مگر اب یہ بھارت کی سیاسی طاقت کے مظاہرے کا ایک پلیٹ فارم بنتا جا رہا ہے ۔ بھارتی میڈیا، جو جے شاہ کے زیرِ اثر ہے ، ہر ایشیائی میچ کو قومی انا کے مسئلے میں بدل دیتا ہے ۔ اس فضا میں پاکستان کا مؤقف کہ آئی سی سی کو فوری اپنی غیر جانبداری اور شفافیت بحال کرنی چاہیے ، بالکل بجا ہے ۔
پاکستانی کرکٹ بورڈ نے بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کھیل کو سیاسی اثرات سے بچائیں۔ افغانستان اور بھارت کے ساتھ تنازعات کو کھیل کے بجائے سفارتی سطح پر حل کیا جائے ، کیونکہ کھلاڑی دشمنی کے سفیر نہیں بلکہ امن کے نمائندے ہوتے ہیں۔ جب جے شاہ جیسا عہدے دار اپنی قومی اور سیاسی وابستگیوں کو فیصلوں میں شامل کرتا ہے تو نہ صرف کھیل بلکہ ادارے کی ساکھ بھی خطرے میں پڑ جاتی ہے ۔
کرکٹ ایک شریفوں کا کھیل ہے، سیاسی ہتھیار نہیں۔مگر آج کے حالات میں یہ جملہ ایک تلخ طنز بن گیا ہے ۔ بھارتی اثر نے نہ صرف ایشیائی ٹورنامنٹس بلکہ عالمی کرکٹ کے ڈھانچے کو بھی جھنجھوڑ دیا ہے ۔ چھوٹے ممالک کے بورڈز اب فیصلوں پر کھل کر تنقید نہیں کر سکتے کیونکہ فنڈنگ اور مستقبل کے دورے سب بھارت کے زیرِ اثر ہیں۔دنیا بھر کے کرکٹ شائقین کو یاد ہے کہ 2019 میں جب بھارت نے پاکستان کے ساتھ ورلڈ کپ میچ میں فوجی کیپ پہن کر کھیلنے کا مظاہرہ کیا تو یہ کھیل کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی تھی۔ مگر آئی سی سی نے
آنکھیں بند کر لیں۔ اگر یہی عمل کسی دوسرے ملک نے کیا ہوتا تو سخت جرمانے اور معطلی کی سزا دی جاتی۔ اس دوہرے معیار نے آئی سی سی
کے کردار پر ہمیشہ کے لیے دھبہ لگا دیا ہے ۔اب وقت آ گیا ہے کہ ایشیائی ممالک، خصوصاً پاکستان، سری لنکا، بنگلہ دیش اور نیپال مشترکہ طور
پر ایک مضبوط موقف اپنائیں تاکہ کھیل کی روح کو دوبارہ زندہ کیا جا سکے ۔ ان ممالک کو چاہیے کہ وہ آئی سی سی میں اصلاحات کے لیے ٹھوس
تجاویز پیش کریں، شفافیت کے اصول بحال کریں، اور کسی ایک ملک کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے نئے قواعد بنائیں۔ میڈیا اور کھیلوں کے تجزیہ کاروں کو بھی تعصبات سے بالا ہو کر کھیل کی غیرت مندانہ روح کی حفاظت کرنی چاہیے ۔
یہ لمحہ محض پاکستان کے لیے نہیں، بلکہ عالمی کھیل کے وقار کے لیے فیصلہ کن ہے ۔ اگر جے شاہ اور ان کے حمایتی کھیل کو سیاسی مقصد کے لیے استعمال کرتے رہے تو کرکٹ کا وہ سنہرا دور کبھی واپس نہیں آئے گا جب میدان میں صرف کھیل بولتا تھا، سیاست نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی کرکٹ کے تمام فریق ایک غیر جانب دار نظام کے قیام پر متفق ہوں، تاکہ ایشیا اور دنیا بھر میں کرکٹ دوبارہ امن، دوستی اور عزت کا استعارہ بن سکے ۔کھیل امن، محبت اور بھائی چارے کا پیغام دیتے ہیں۔ ان کی کوئی سرحد نہیں ہوتی، کوئی قوم یا مذہب ان کی روح کو محدود نہیں کر سکتا۔ کھیل انسانوں کے درمیان دیواریں نہیں، بلکہ دلوں کے درمیان پُل بناتے ہیں۔ ایک کھلاڑی جب میدان میں اترتا ہے تو وہ صرف اپنی ٹیم کا نہیں، پوری انسانیت کا نمائندہ ہوتا ہے ۔ کرکٹ جیسے کھیل نے برسوں قوموں کو قریب کیا، دشمنیوں کو کم کیا اور نفرتوں کو دوستیوں میں بدلا۔ مگر افسوس کہ آج یہی کھیل، جسے دنیا ”جینٹلمین گیم ”کہتی تھی، سیاسی اثر و رسوخ، تعصب اور طاقت کے کھیل کا شکار بنتا جا رہا ہے ۔ کھیل اگر سیاست کے تابع ہو جائیں تو ان کی اصل روح مر جاتی ہے ، اور یہی وہ لمحہ ہے جس کا سامنا آج عالمی کرکٹ کر رہی ہے جہاں محبت کے بجائے مفادات، اور اصولوں کے بجائے تعصب کا بول بالا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: پاکستان نے پاکستان کے سیاسی اثر کر دیا ہے جا رہا ہے میں کرکٹ صرف کھیل کو سیاسی کھیل کی کرکٹ کو کھیل کو کھیل کے رہی ہے کی روح جے شاہ کے لیے
پڑھیں:
فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
دنیا ایک بار پھر ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایک غلط فیصلہ، ایک غلط اندازہ یا ایک بے قابو فوجی کارروائی پورے مشرقِ وسطی کو جنگ کی آگ میں جھونک سکتی ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری عسکری کشیدگی اب صرف دو ممالک کا تنازع نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات پورے خطے اور عالمی معیشت تک پھیلنے لگے ہیں۔ ایسے نازک ماحول میں ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی کا اسلام آباد کا دورہ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ان کی ون آن ون ملاقات معمول کی سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ ایک اہم علاقائی پیش رفت کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔اطلاعات کے مطابق اس ملاقات میں خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال، پاک ایران تعلقات، سرحدی تعاون اور موجودہ جنگی ماحول پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اگرچہ ملاقات کی مکمل تفصیلات سرکاری سطح پر جاری نہیں کی گئیں، تاہم اس وقت کا انتخاب خود اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان کو خطے میں ایک اہم رابطہ کار اور ممکنہ ثالث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔اگر ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ مزید پھیلتی ہے تو اس کے اثرات خلیج تک محدود نہیں رہیں گے۔ بحیرہ احمر، آبنائے ہرمز، عراق، شام، لبنان اور یمن پہلے ہی کشیدگی کا شکار ہیں۔ اگر اس تنا میں حوثی تحریک اور سعودی عرب براہِ راست آمنے سامنے آ جاتے ہیں تو پورا خطہ ایک نئے بحران میں داخل ہو سکتا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں کئی علاقائی اور عالمی طاقتوں کے مفادات ایک دوسرے سے ٹکرا سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں جنگ کا دائرہ غیر معمولی حد تک وسیع ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ایسی صورتِ حال لازما “منی ورلڈ وار” میں تبدیل ہو جائے گی، لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اگر متعدد علاقائی اور بین الاقوامی فریق براہِ راست اس تنازع میں شامل ہو گئے تو اس کے اثرات عالمی سلامتی، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر انتہائی گہرے ہوں گے۔ایسے حالات میں پاکستان کی اہمیت کئی وجوہات کی بنا پر بڑھ جاتی ہے۔ پاکستان کے ایران، سعودی عرب، چین، امریکہ اور دیگر مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی روابط موجود ہیں۔ یہی متوازن تعلقات اسلام آباد کو ایسے ممالک میں شامل کرتے ہیں جو کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔گزشتہ مہینوں میں بھی پاکستان نے سفارتی سطح پر ایران اور امریکہ کے درمیان رابطوں کی حمایت اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا اظہار کیا تھا۔ اب جبکہ ایرانی وزیر داخلہ براہِ راست اسلام آباد پہنچے ہیں اور انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت پاکستانی قیادت سے ملاقاتیں کی ہیں، تو یہ تاثر مزید مضبوط ہوا ہے کہ پاکستان کو خطے میں ایک اہم شراکت دار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔فیلڈ مارشل عاصم منیر کی عسکری اور سفارتی سطح پر ہونے والی سرگرمیوں پر بھی خطے کے دارالحکومتوں کی نظریں مرکوز ہیں۔ اگرچہ کسی نئی ثالثی یا معاہدے کے بارے میں ابھی تک کوئی سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا، تاہم پاکستان کے لیے یہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ اپنے متوازن خارجہ تعلقات کو امن کے فروغ کے لیے استعمال کرے۔دنیا کو اس وقت جنگی نعروں سے زیادہ امن کے پیغام کی ضرورت ہے۔ مشرقِ وسطی پہلے ہی کئی دہائیوں سے تنازعات کا شکار ہے، اور ایک نئی وسیع جنگ نہ صرف لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے بلکہ عالمی معیشت، تیل کی فراہمی اور بین الاقوامی استحکام کو بھی شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔آج اسلام آباد صرف ایک دارالحکومت نہیں بلکہ امید کی ایک ممکنہ کرن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگر پاکستان اپنی سفارتی صلاحیت، متوازن پالیسی اور تمام فریقوں کے ساتھ موجود روابط کو مثر انداز میں بروئے کار لاتا ہے تو وہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں ایک مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔تاریخ میں بعض اوقات جنگیں طاقت سے نہیں بلکہ بروقت سفارت کاری سے رکی ہیں۔ شاید یہ بھی ایسا ہی ایک لمحہ ہے، جہاں بندوقوں کی گھن گرج سے زیادہ اہمیت مذاکرات کی میز کو حاصل ہو سکتی ہے۔مشرقِ وسطی کی موجودہ جنگ کا سب سے خطرناک پہلو صرف میزائلوں کا تبادلہ نہیں بلکہ عالمی توانائی کی شہ رگوں پر منڈلاتا ہوا خطرہ ہے۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی پہلے ہی عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ چکی ہے اور اگر حالات مزید بگڑتے ہیں یا وہاں سے تیل کی ترسیل بری طرح متاثر ہوتی ہے، جبکہ دوسری طرف باب المندب بھی حوثی کارروائیوں کے باعث غیر محفوظ ہو جاتا ہے، تو دنیا ایک غیر معمولی تیل و گیس بحران سے دوچار ہو سکتی ہے۔پاکستان کے لیے یہ خطرہ محض عالمی خبروں تک محدود نہیں۔ سعودی عرب سے آنے والے خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کا ایک اہم حصہ بحیرہ احمر اور باب المندب کے بحری راستے سے گزرتا ہے۔ اگر ان آئل ٹینکروں پر حملے شروع ہو جاتے ہیں یا جہاز رانی شدید متاثر ہوتی ہے تو پاکستان کو ایندھن کی سپلائی، درآمدی لاگت، مہنگائی، زرمبادلہ کے ذخائر اور توانائی کے بحران جیسے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اسی لیے پاکستان اس وقت ایک انتہائی نازک سفارتی توازن پر کھڑا ہے۔ ایک طرف ایران ہمارا برادر اور ہمسایہ اسلامی ملک ہے، دوسری طرف سعودی عرب پاکستان کا دیرینہ دوست، اہم اقتصادی شراکت دار اور توانائی کی ضروریات پوری کرنے والا بڑا ملک ہے۔ اسلام آباد کے لیے دونوں ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھنا محض خارجہ پالیسی نہیں بلکہ قومی سلامتی اور اقتصادی استحکام کا تقاضا ہے۔ایران اور یمن کے حوثی رہنماں کو بھی پاکستان کی اس مجبوری اور حساس پوزیشن کا ادراک ہونا چاہیے۔ اگر ایسے اقدامات کیے جاتے ہیں جن سے پاکستان آنے والے توانائی کے بحری راستے متاثر ہوں یا پاکستان کے مفادات براہِ راست خطرے میں پڑ جائیں، تو خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور غیر متوقع رخ اختیار کر سکتی ہے۔ ایسی صورت میں صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پورا مشرقِ وسطی ایک وسیع تر بحران کی لپیٹ میں آ سکتا ہے، جس کے اثرات ایشیا، یورپ اور عالمی معیشت تک محسوس کیے جائیں گے۔یہی وجہ ہے کہ آج دنیا کی نظریں ایک مرتبہ پھر اسلام آباد پر لگی ہوئی ہیں۔ اگر پاکستان اپنی متوازن سفارت کاری، علاقائی اعتماد اور تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ موجود روابط کو مثر انداز میں استعمال کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو ممکن ہے کہ وہ ایک بار پھر جنگ کے شعلوں کو پھیلنے سے روکنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں مثبت کردار ادا کر سکے۔ کیونکہ اگر یہ تنازع مزید پھیل گیا تو اس کی تپش صرف خلیج تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورا خطہ واقعی آگ کے الا میں تبدیل ہو سکتا ہے۔