فرانس میں ہر تیسرا مسلمان تعصب اور امتیازی سلوک کا شکار ہے: رپورٹ میں انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
فرانس میں مذہبی بنیادوں پر امتیازی سلوک میں اضافہ دیکھا گیا ہے اور تازہ رپورٹ کے مطابق ہر تین میں سے ایک مسلمان خود کو اس کا شکار قرار دیتا ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی کے مطابق فرانس کی حقوق کی محتسب کلیئر ہیدون کی جانب سے جاری رپورٹ میں 2024 کے ایک سروے کا حوالہ دیا گیا ہے، جس میں پانچ ہزار افراد نے حصہ لیا۔
فرانسیسی قانون کے تحت نسلی، لسانی یا مذہبی بنیادوں پر ڈیٹا اکٹھا کرنے پر پابندی ہے، جس کے باعث امتیازی سلوک سے متعلق جامع اعداد و شمار حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے۔ تاہم سروے کے مطابق سات فیصد افراد نے گزشتہ پانچ برسوں میں مذہبی بنیادوں پر امتیاز کا سامنا کرنے کا اعتراف کیا، جو 2016 میں پانچ فیصد تھا۔
مسلمان، یا وہ افراد جنہیں مسلمان سمجھا جاتا ہے، اس امتیاز کا سب سے زیادہ شکار پائے گئے۔ رپورٹ کے مطابق 34 فیصد مسلمانوں نے خود کو متاثرہ قرار دیا ہے، جبکہ دیگر مذاہب کے افراد میں یہ شرح 19 فیصد اور مسیحیوں میں صرف چار فیصد رہی۔
مسلمان خواتین میں امتیازی سلوک کی شرح مزید بلند ہے، جو 38 فیصد تک جا پہنچی ہے۔ رپورٹ کے مطابق حجاب پہننے والی خواتین کو اکثر ملازمتوں میں رکاوٹوں، کیریئر میں تعطل اور بعض اوقات کھیلوں میں شرکت پر پابندی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فرانسیسی سیکولرزم کے متعلق عوامی غلط فہمیاں امتیاز میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں، کیونکہ بہت سے لوگ اسے “عوامی مقامات پر مذہبی علامتوں پر پابندی” کے طور پر سمجھتے ہیں، حالانکہ قانون کا اصل مقصد ریاست کی غیرجانبداری اور مذہبی آزادی کا تحفظ ہے۔
حقوق گروپس کے مطابق سرکاری سطح پر حجاب پر پابندیاں دراصل مذہبی آزادی کے برعکس ہیں اور خواتین کو یہ حق ہونا چاہیے کہ وہ اپنی مرضی سے لباس کا انتخاب کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: امتیازی سلوک کے مطابق
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔