راولپنڈی، مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا اڈیالہ جیل سے رہا
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
راولپنڈی (نیوزڈیسک) مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا کو اڈیالہ جیل سے رہا کردیا گیا۔ لاہورہائی کورٹ راولپنڈی بنچ نے مذہبی منافرت کے مقدمے میں مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا کی ضمانت منظور کرتے ہوئے فوری رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ کے جج جسٹس صداقت خان نے ضمانت منظور کرتے ہوئے انجینئر محمد علی مرزا کو 5 ، 5 لاکھ روپے مالیت کے 2 ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دے دیا۔
ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے انجینئر محمد علی مرزا کیخلاف مقدس ہستیوں کی توہین کے الزام میں مقدمہ درج کیا تھا۔ وکیل ایف آئی اے کے مطابق ملزم کیخلاف باقاعدہ فتویٰ جاری ہوچکا ہے۔ عدالت نے کہا کہ فتوے لیکر ٹرائل کورٹ جائیں یہاں صرف ضمانت سے متعلق دلائل دیں۔
تفصیلات، شواہد اور فتوے ٹرائل کورٹ نے دیکھنے ہیں۔ دریں اثنا مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا نے ایف آئی اے کی تحقیقات کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی۔
ایڈووکیٹ نبیل جاوید کاہلوں کی وساطت سے دائر درخواست میں ایف آئی اے اور پنجاب قرآن بورڈ کو فریق بنایا گیا ہے۔ محمد علی مرزا نے درخواست میں موقف اختیار کیا کہ ایف آئی اے نے انہیں نوٹس جاری کیے بغیر تحقیقات شروع کر دی ہیں، ایف آئی اے نے سوشل میڈیا سے ویڈیو پر فتویٰ کے لیے پنجاب قرآن بورڈ بھجوا دی۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ پنجاب قرآن بورڈ نے پرانی ویڈیو پر درخواست گزار کو گنہگار قرار دیا ہے، پنجاب قرآن بورڈ کو کسی طرح کا فتویٰ جاری کرنے کا اختیار نہیں ہے، پنجاب قرآن بورڈ صرف قرآن پاک کی اشاعت کو دیکھتی ہے۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت درخواست گزار کے خلاف جاری فتویٰ کو کالعدم قرار دے کر تحقیقات ختم کرنے کا حکم دے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا درخواست میں ایف ا ئی اے
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔