این ایف سی اجلاس: ایف بی آر نے ٹیکس وصولیوں کا 5 فیصد صوبوں کو دینے کی مخالفت کردی
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
اسلام آباد:
گیارہویں این ایف سی اجلاس میں وسائل کی تقسیم پر ورکنگ گروپ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، وفاق نے مالی مطالبات کے بجائے صوبوں سے اخراجات کی تفصیلات مانگ لیں جس پر سندھ نے تفصیلات دینے سے انکار کردیا، صوبوں کے فنڈز میں کٹوتی کی بات نہیں ہوئی مگر ایف بی آر نے ٹیکس وصولیوں کا 5 فیصد صوبوں کو دینے کی مخالفت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق گیارہویں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے افتتاحی اجلاس میں سندھ اور خیبر پختونخوا کے وزرائے اعلیٰ بطور صوبائی وزیر خزانہ شریک ہوئے جب کہ بلوچستان اور پنجاب کے وزرائے خزانہ اور پرائیویٹ ارکان بھی اجلاس میں شریک تھے۔
قومی مالیاتی کمیشن کے اجلاس میں وزارت خزانہ کی جانب سے وفاقی مالی معاملات پر بریفنگ دی گئی، جس کے بعد چاروں صوبوں کی جانب سے بھی صوبائی مالی صورت حال پر اجلاس کے شرکا کو تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
وسائل کی تقسیم پر ورکنگ گروپ قائم کرنے کا فیصلہ
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کے لیے ورکنگ گروپ قائم کیا جائے، صوبوں میں ٹیکس وصولی کے معاملے پر بھی ورکنگ گروپ قائم ہوگا، سابق فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام اور فنڈز کے تعین پر گروپ بنے گا۔
وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کے معاملے پر اٹارنی جنرل سے رائے لینے کا فیصلہ کیا گیا۔
سندھ کا وفاق کو اخراجات کی تفصیل دینے سے انکار
وفاقی حکومت نے مالی مطالبات کے بجائے صوبوں سے اخراجات کی تفصیلات مانگ لیں تاہم این ایف سی اجلاس میں سندھ نے وفاق کو اخراجات کی تفصیل دینے سے انکار کردیا، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے موقف پیش کیا کہ یہ ریونیو کا فورم ہے اخراجات کا نہیں ہے۔
ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں کا پانچ فیصد صوبوں کو دینے کی مخالفت
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے فی الحال صوبوں کے فنڈز میں کٹوتی کی بات نہیں کی مگر ایف بی آر نے ٹیکس وصولیوں میں سے پانچ فیصد صوبوں کو دینے کی مخالفت کردی۔
آج کا اجلاس آئینی ذمہ داری اور باہمی تعاون کا اہم موقع ہے، وزیر خزانہ
گیارہویں این ایف سی کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ نے وزرائے اعلیٰ، صوبائی وزرائے خزانہ، سیکرٹریز اور دیگر ارکان کا شرکت پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کا یہ اجلاس ہمارے لیے آئینی ذمہ داری اور باہمی تعاون کا اہم موقع ہے۔
وزیر خزانہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ معزز فورم آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 150 کے تحت قائم کیا گیا تھا۔ 10ویں این ایف سی ایوارڈ کی مدت 21 جولائی 2025 کو پوری ہو چکی ہے۔ اس پس منظر میں اس اجلاس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ وفاقی حکومت کا واضح اور پُختہ عزم تھا کہ 11ویں این ایف سی کا افتتاحی اجلاس کسی تاخیر کے بغیر بلایا جائے۔ وزیراعظم نے خود اس بات میں گہری دلچسپی لی کہ یہ اجلاس جلد از جلد ہو۔
انہوں نے کہا کہ صوبوں نے بھی اس آئینی ذمہ داری کو بروقت ادا کرنے کا بھرپور ارادہ ظاہر کیا۔ پنجاب، خیبر پختونخوا اور سندھ میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے باعث یہ اجلاس مؤخر کرنا پڑا۔ این ایف سی کے حوالے سے قیاس آرائیوں اور خدشات کا بہترین حل مخلصانہ اور شفاف مکالمہ ہے۔ آج ہم یہاں کھلے ذہن اور بغیر کسی تعصب کے موجود ہیں۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ ہماری پہلی ترجیح ایک دوسرے کی بات سننا ہے۔ وفاقی حکومت یہاں صوبوں کے مؤقف کو سننے کے لیے موجود ہے۔ مجھے امید ہے کہ صوبے بھی ایک دوسرے کے ساتھ تعمیری تعاون کے جذبے سے آگے بڑھیں گے۔ صوبوں کی جانب سے نیشنل فِسکل پیکٹ پر دستخط انتہائی قابلِ قدر ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ یہ ہمارے مشترکہ عزم اور قومی مفاد میں مل کر کام کرنے کی صلاحیت کا ثبوت ہے۔ صوبوں کی جانب سے لازمی سرپلسز کے حصول اور آئی ایم ایف پروگرام پر عمل درآمد کو یقینی بنانے پر تعاون قابلِ تحسین ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سال ملک کو بھارت کی جانب سے غیر معمولی خطرات اور شدید سیلابوں جیسے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کٹھن حالات میں ہم ایک مضبوط وفاق کی صورت میں متحد کھڑے رہے۔ یہی وہ جذبہ ہے جسے ہم 11ویں این ایف سی ایوارڈ کے عمل میں بھی برقرار دیکھنا چاہتے ہیں۔ این ایف سی کا کردار ملک میں وسائل کی منصفانہ تقسیم، مالیاتی استحکام اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ یہ فورم ہمیں موقع دیتا ہے کہ ہم بہترین حکومتی ذہنوں کو ایک جگہ جمع کر کے مشترکہ سوچ اور باہمی سیکھنے کے عمل کو آگے بڑھائیں۔ آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں یہ بامقصد اور تعمیری مباحث جاری رہیں گے۔ امید ہے تمام اراکین بامعنی اور جامع مکالمے کے لیے بھرپور عزم کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ ایک دوسرے کی بات سننے اور باہمی اتحاد، تعاون اور باہمی احترام کے جذبے کے ساتھ معاملات کو آگے بڑھائیں گے۔ 11ویں این ایف سی ایوارڈ کے معاملات کو کامیابی سے پایۂ تکمیل تک پہنچانا ہماری منزل ہے۔
صوبوں کے حصے میں کمی کی کوئی بات نہیں ہوئی، مشیر کے پی کے
اس حوالے سے مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے میڈیا کو بتایا کہ الگ الگ گروپس بنانے کی تجویز ہے جو مختلف امور کو طے کرے گا، چھ سے سات گروپس بنیں گے ان کے اوپر ایک الگ سے گروپ ہے، ایک ورکنگ گروپ فاٹا کے حوالے سے ہے کہ کیسے اس کو مالیاتی ڈھانچے میں شامل کیا جائے، تمام نے اتفاق کیا ہے کہ معاملات کو مل کر آگے لے کر چلیں گے، صوبوں کے حصے میں کمی کی کوئی بات نہیں ہوئی، بہت اچھے ماحول میں اجلاس ہوا، کسی پر دباؤ نہیں ڈالا گیا، سب کی بات سنی گئی۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل فیصد صوبوں کو دینے کی مخالفت ورکنگ گروپ قائم وسائل کی تقسیم ٹیکس وصولیوں وفاقی حکومت اخراجات کی کی جانب سے ایف سی اجلاس میں اور باہمی ایف بی آر نے کہا کہ صوبوں کے بات نہیں کیا گیا کی بات کے لیے
پڑھیں:
وزیراعظم کا آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند