پنجاب اسمبلی: کورم پورا نہ ہونے پر اظہار برہمی، ایک اجلاس پر 5 کروڑ خرچ آتا ہے، کچھ خیال کریں: سپیکر
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
لاہور (نوائے وقت رپورٹ) سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے اسمبلی اجلاس پونے تین گھنٹے کی تاخیر سے شروع کرایا تاہم کورم تب بھی پورا نہ ہو سکا۔ سپیکر ملک احمد خان کورم پورا نہ ہونے پر حکومتی بنچوں سے نالاں نظر آئے اور کہا کہ ایک نشست پر پانچ کروڑ روپے خرچ آتا ہے اور ارکان کی دلچسپی کی حالت یہ ہے کہ کوئی ایوان میں نہیں آتا۔ یہ اجلاس حکومت نے بلایا ہے یہ قومی خزانے سے ظلم ہے، ارکان اسمبلی کی تنخواہیں چھ چھ سات سات لاکھ روپے ہیں، درخواست کرتا ہوں کہ عوام کا نہیں تو قومی خزانہ کا ہی خیال کر لیں، پانچ کروڑ روپے ایک اجلاس پر خرچ آ رہا ہے کچھ خیال کریں، اجلاس تین تین گھنٹے تاخیر سے شروع ہونا افسوسناک ہے۔ اپوزیشن رکن رانا آفتاب احمد خان نے کہا کہ اجلاس جلد اور وقت پر شروع کیا جائے، ہم کوئی تیسری کلاس کے سکول کے بچے ہیں جو ادھر بیٹھے رہیں؟ کوئی وزیر یا پارلیمانی سیکرٹری ایوان میں ہی موجود نہیں، یہ ایوان چلانے کا کوئی طریقہ نہیں جواب میں وزیر قانون رانا محمد اقبال نے کہا کہ تھوڑا وقت دیدیں شاید ہمارے دور سے آنیوالے ساتھی پہنچ جائیں، چیف وہپ مسلم لیگ ن رانا ارشد نے کہا کہ ایوان میں سو کے قریب ممبران موجود ہیں، کچھ دیر میں دونوں جانب کے ارکان ایوان میں پہنچ جائیں گے۔ تین گھنٹے تاخیر سے اجلاس شروع ہونے پر سپیکر پنجاب اسمبلی حکومتی ارکان پر برس پڑے اور کہا کہ یہ اجلاس حکومت نے بلایا ہے انہیں اپنے ارکان کی حاضری یقینی بنانا چاہیے۔ سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا گزشتہ دو روز سے انتہائی غلط روایت چل رہی ہے، وقفہ سوالات سے پہلے کورم کی نشاندہی ہوجاتی ہے، کبھی بھی ایسا نہیں ہوا،درخواست کرتا ہوں کہ وقفہ سوالات سے پہلے کورم کی نشاندہی مت کی جائے،سپیکر پنجاب اسمبلی نے ایوان کے تمام ارکان کو پارلیمانی کیلنڈر دینے کی ہدایت جاری کی اور کہا کہ تین سو اکہتر کا ایوان ہے ہر رکن کو پارلیمانی کیلنڈر سے آگاہ ہونا چاہیے۔اپوزیشن رکن رانا آفتاب احمد خان نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ ہر صوبائی اسمبلی ممبر جیل کی انسپکشن کرسکتا ہے لیکن ہمیں ہمارے لیڈر سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، ہمیں درخواست دینے کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، آپ اسمبلی میں گپیں مارکر زمینی حقائق کو تبدیل نہیں کر سکتے، سرکاری سکولوں کے بجائے پرائیویٹ سکولوں میں طلبہ کی تعداد زیادہ ہے۔ انیس سے اکیسویں گریڈ تک افسران کی مراعات میں کٹ لگائیں، صوبہ میں ان مراعات کو محکمہ ایجوکیشن پر خرچ کریں، جواب میں صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے کہا کہ میں سپرمین نہیں اپنی جانب سے محکمہ تعلیم میں بہتر ی کی کوشش کررہا ہوں،تعلیم میں سیاست نہیں ہونی چاہیے،23 لاکھ پچاس ہزار بچے سرکاری سکولوں میں داخلہ ہوئے،سپیکر ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ آپ تو صاحب ثروت انسان ہیں آپ تنخواہ عطیہ کر سکتے ہیں، پرائیویٹ سکولز سسٹم بیکن ہاؤسز، امریکن سکولز ہیں ایک بچے پر ساٹھ ہزار روپے ہفتہ وار خرچ آتا ہے،تمام صوبوں کے حکومتی سکولوں میں 87 ڈالرز 97فیصد بچوں پر سالانہ خرچ ہوتا ہے،دوران اجلاس حکومتی رکن اسمبلی صلاح الدین کھوسہ کی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات پر تنقیدی اور جملہ بازی سے ایوان کشت زعفران بن گیا۔ سپیکر نے کہا کہ اپوزیشن ممبر کو بات کرنے کی اجازت اس لئے دی کیونکہ وقفہ سوالات میں ان کانام درج تھا،وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ آئندہ تین ماہ میں ہائرایجوکیشن میں دس بچوں کے پاس ایک کمپوٹر ہوگا، تمام ہائرسکول جن کی تعداد نو ہزار ہے اگلے سکولز میں جدید لیبز بنانے جا رہے ہیں،گریڈ نو میں پچاس ہزار بچیاں میٹرک میں اے آئی کمپیوٹر پڑھ رہی ہیں،سپیکر کا کہناتھا کہ 2035ء تک نوجوان کی تعداد کل آبادی سے 70 فیصد ہوجائے گا،نوجوان جو ستر فیصد سے اب بڑھ جائے گی تو اس میں سے ڈھائی کروڑ نوجوان سکولوں سے باہر ہیں،اے آئی کا کوئی افسانہ سرکاری سکولوں میں نہیں ہے، اس موقع پر اپوزیشن رکن شیخ امتیاز نے ایوان میں کورم کی نشاندہی کردی، کورم پورا نہ ہونے پرسپیکر نے پانچ منٹ تک گھنٹیاں بجانے کا حکم دیا،یوں دوسرے روز بھی حکومت کا اپنا طلب کردہ اجلاس کورم کی نذر ہوگیا اور سپیکر نے اجلاس آج بروز جمعہ5 دسمبر دوپہر دو بجے تک ملتوی کر دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سپیکر پنجاب اسمبلی سکولوں میں ایوان میں نے کہا کہ پورا نہ ہونے پر کورم کی
پڑھیں:
وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
ویب ڈیسک :وفاقی بجٹ پانچ جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ اب پانچ جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، وفاقی بجٹ 8 یا 12 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے، حتمی تاریخ کا تعین ابھی نہیں ہو سکا۔
آئی ایم ایف کے ساتھ پی ایس ڈی پی اور بجٹ مذاکرات ابھی جاری ہیں جس کی وجہ سے بجٹ پیش کرنے کی تاریخ میں تبدیلی کی جا رہی ہے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
ذرائع کے مطابق کل وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والا قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا ہے جس میں وفاقی اور صوبائی ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی جانا تھی۔
قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں چاروں وزرائے اعلیٰ اور وزرائے خزانہ کی شرکت متوقع تھی، وزیراعظم آزادکشمیر نے بھی اجلاس میں شرکت کرنا تھی۔
وزیراعظم کی ہدایت پر پی ایس ڈی پی میں 200 ارب روپے کا اضافہ بھی کیا جارہا ہے، ترقیاتی بجٹ میں 200 ارب کے اضافے پر آئی ایم ایف کو بھی آگاہ کیا جائے گا، مختلف مالیاتی اقدامات کے ذریعے200 ارب کی ایڈجسٹمنٹ کی کوشش کی جائے گی۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
قومی اقتصادی کونسل میں 4715 ارب کا ترقیاتی بجٹ پیش کئے جانے کا امکان ہے، وفاقی ترقیاتی بجٹ 1126کے بجائے 1326 ارب روپے ہونے کا امکان ہے۔
اجلاس میں صوبوں کیلئے 3138 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ بھی پیش کیا جائے گا، قومی اقتصادی کونسل میں پنجاب کا 1450 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا، سندھ کیلئے 816، خیبرپختونخوا کیلئے 564 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا، بلوچستان کیلئے 308 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ