وکلا کو پولیس گردی کے تحت ٹارگٹ کیا جا رہا ہے جو کسی طور برداشت نہیں کریں گے، ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن ملتان
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن ملتان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر اظہر مغل کا کہنا تھا کہ متعلقہ پولیس آفیسرز کو فی الفور معطل کیا جائے، جب تک وہ گرفتار نہیں ہوتے ہماری تحریک جاری رہے گی، 4دسمبر 2025بروز جمعرات کو ہائیکورٹ بار ہال میں جنوبی پنجاب کے تینوں ڈویثرن کی بارز کا نمائندہ اجلاس منعقد کیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وہاڑی میں پولیس کے ہاتھوں وکیل کے قتل کے خلاف احتجاجی تحریک کے لائحہ عمل کے سلسلہ میں ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن ملتان کی ایگزیکٹیو کمیٹی کے اجلاس سے صدر محمد اظہر خان مغل اور جنرل سیکرٹری صفدر سرسانہ سیال نے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں کے مطابق خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ وکلا کو پولیس گردی کے تحت ٹارگٹ کیا جا رہا ہے جو کسی طور برداشت نہیں کریں گے، متعلقہ پولیس آفیسرز کو فی الفور معطل کیا جائے جب تک وہ گرفتار نہیں ہوتے ہماری تحریک جاری رہے گی، اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا ہے کہ 4دسمبر کو ہائیکورٹ بار ہال میں جنوبی پنجاب کے تینوں ڈویثرن کی بارز کا نمائندہ اجلاس منعقد کیا جائے گا، جس میں آئندہ کے لائحہ عمل پر غور اور فیصلے ہونگے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم سے نہ لاہور دور ہے اور نہ اسلام آباد و سپریم کورٹ دور ہے، ہم نہ آئی جی پنجاب کے آفس کا محاصرہ کریں گے بلکہ سپریم کورٹ، لاہور ہائیکورٹ کے سامنے بھی دھرنے دیں گے، ہم مکمل طور پر وہاڑی بار کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اجلاس میں ممبر پنجاب بار کونسل کاشف منظور چوہدری، سابق صدر ملک سجاد حیدر میتلا، نائب صدر حافظ شعیب قریشی اور ممبران ایگزیکٹیو کمیٹی صائمہ کنول، امتیاز مرالی، زوہیب حسن، منظر بلال ملانہ، منیبہ المانی بلوچ، نادرہ نورو دیگر موجود تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ہائیکورٹ بار کیا جائے
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔