ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی پاور شیئرنگ کمیٹی کا 8 ماہ سے اجلاس نہ ہونے کی وجہ کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
حکمران جماعت مسلم لیگ ن اور اس کی اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان پنجاب میں پاور شئیرنگ کے فارمولے پر سیاسی کشمکش شدت اختیار کرگئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ن لیگ اور پیپلز پارٹی آمنے سامنے، صہیب بھرتھ کا ندیم افضل چن کیخلاف قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ
دونوں جماعتوں کی جانب سے قائم کی گئی پاور شئیرنگ کمیٹی کی میٹنگز پچھلے 8 ماہ سے معطل ہیں حالانکہ ابتدائی معاہدے کے تحت ہر ماہ باقاعدہ اجلاس کا انعقاد طے ہوا تھا۔
پچھلے سال 10 دسمبر کو دونوں جماعتوں کی پہلی باضابطہ ملاقات ہوئی تھی جو بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گئی۔
اس کے بعد کمیٹی کے 5 اجلاس ہو چکے ہیں جن میں نئی نہروں کی تعمیر، پولیس کی ضلعی سطح پر کوآرڈینیشن، افسران کی تقرریوں اور ترقیاتی فنڈز کی تقسیم جیسے اہم ایشوز زیر بحث آئے۔
آخری میٹنگ اپریل2025 میں ہوئی تھی جس میں آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور اور ایڈیشنل چیف سیکریٹری احمد رضا سرور بھی شریک تھے۔
مزید پڑھیے: وفاقی وزرا کی صدر زرداری سے اہم ملاقات، پیپلز پارٹی اور ن لیگ بیان بازی روکنے پر متفق
پیپلزپارٹی وسطی پنجاب کے جنرل سیکریٹری حسن مرتضیٰ نے وی نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ن لیگ کے کمیٹی ممبران ہمارے مطالبات تسلیم کرتے ہیں لیکن عملدرآمد نہیں ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز پنجاب میں پاور شئیرنگ فارمولے پر چلنے کو تیار نہیں دکھائی دیتیں۔
حسن مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ گزشتہ 8 ماہ سے کوئی اجلاس نہیں ہوا حالانکہ طے تھا کہ ماہانہ میٹنگز ہوں گی۔
حسن مرتضیٰ نے مزید بتایا کہ کمیٹی کا اجلاس نہ ہونے کی وجہ بھی واضح نہیں کی جا رہی۔ پنجاب اسمبلی میں پارلیمانی پارٹی کو دیا گیا ایڈیشنل سیکریٹری احمد رضا سرور کو ہٹا دیا گیا جبکہ یوسف رضا گیلانی کے بیٹوں سے سیکیورٹی واپس لے لی گئی۔
انہوں نے کہا کہ ایسی کارروائیاں اختلافات بڑھاتی ہیں، کم نہیں کرتیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں سیلاب آیا تو پنجاب حکومت کی جانب سے پیپلزپارٹی کو نشانہ بنایا جاتا رہا۔
کچھ عرصہ قبل پی پی پی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو بریف کیا گیا کہ پاور شئیرنگ کمیٹی کے فیصلوں پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔
بلاول بھٹو نے شدید ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ن لیگ کی اعلیٰ قیادت سے دوبارہ بات ہوگی۔
حسن مرتضیٰ نے بتایا کہ بلاول بھٹو، وزیر اعلیٰ مریم نواز کے رویے سے شدید نالاں ہیں۔
مزید پڑھیں: ن لیگ اور پیپلزپارٹی میں کشیدگی کم نہ ہوسکی، پنجاب اور سندھ حکومت کے ترجمان آمنے سامنے
پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر علی حیدر گیلانی، کچھ عرصہ پہلے وی نیوز کو بتایا تھا کہ تحریری معاہدے کے باوجود ن لیگ خصوصاً ملتان اور رحیم یار خان جیسے اضلاع میں منتقلیوں اور پوسٹنگز پر پیچھے ہٹ رہی ہے۔
پاور شئیرنگ فارمولا پر عمل ہونے پر ن لیگ کا موقف کیا ہے؟مسلم لیگ ن کی قیادت نے پی پی پی کے مطالبات کو ‘غیر معقول اور غیر عملی’ قرار دیا ہے۔ ن لیگ کے ایک سینیئر رہنما نے کہا کہ ہم اتحاد کی پاسداری کر رہے ہیں لیکن پنجاب کی انتظامیہ کو کمزور کرنے والے مطالبات قبول نہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ن لیگ اور پیپلزپارٹی میں کشیدگی کم نہ ہوسکی، پنجاب اور سندھ حکومت کے ترجمان آمنے سامنے
پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کچھ روز قبل میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ پی پی پی ہماری اتحادی ہے لیکن ان کی بعض مطالبات صوبے کی مجموعی ترقی کے منافی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے سنہ 2024 میں ایک معاہدہ کیا تھا جس میں ترقیاتی فنڈز کی 30 فیصد شیئرنگ، یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کی سرچ کمیٹی میں نمائندگی اور ضلعی ڈویلپمنٹ کمیٹیوں میں شمولیت شامل تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اس پر عمل جاری ہے پیپلزپارٹی کے ساتھ جو معاملات طے گئے تھے ان پر عمل ہورہا ہے۔
عظمیٰ بخاری نے مزید کہا تھا کہ مریم نواز کی حکومت پنجاب کی عوام کی خدمت پر فوکس کر رہی ہے نہ کہ سیاسی دباؤ پر۔
مزید پڑھیں: سیاسی کشیدگی: مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کا افہام و تفہیم کے ذریعے مسائل حل کرنے پر اتفاق
سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق ن لیگ کی طرف سے اس طرح پاور شئیرنگ فارمولے کے معاملات میں فقدان رہا تو آنے والے دنوں میں پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے سیاسی اتحاد کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پنجاب میں پاور شیئرنگ پی پی اور پنجاب پیپلز پارٹی ن لیگ ن لیگ اور پی پی اختلافات ن لیگ اور پی پی پاور شیئرنگ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پنجاب میں پاور شیئرنگ پی پی اور پنجاب پیپلز پارٹی ن لیگ ن لیگ اور پی پی اختلافات ن لیگ اور پی پی پاور شیئرنگ
پڑھیں:
دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
سٹی 42:سہیل آفریدی نے احتجاج کی کال دیتےہوئے کہا اگر اس مرتبہ بھی دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو ملک بھر سے پارلیمنٹرین 10جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ بھی پاس نہیں ہونے دیں گے۔
وزیر اعلی کے پی فیکٹری ناکہ سے واپس روانہ ہو گئے ۔ وزیر اعلی سہیل آفریدی کی فیکٹری ناکہ سے روانگی سے قبل میڈیا ٹاک میں کہا اگر اس مرتبہ بھی دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو ملک بھر سے پارلیمنٹرین 10جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ بھی پاس نہیں ہونے دیں گے۔2026-27کا بجٹ پیش کرنے جا رہے ہیں،مطالبہ کے کہ کے پی حکومت بانی کی ہے۔کے پی عوام نے بانی کو ووٹ دیا وہ انکو چاہتی ہے ۔کے پی عوام چاہے گی کہ بجٹ بانی کی خواہشات کے مطابق بنے ۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
بجٹ کے حوالے سے میری اور وزیر خزانہ سے ملاقات ہو تاکہ ان سے بجٹ کی اپروول لے سکیں۔ہم کل اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک پٹیشن دائر کرنے جا رہے ہیں،امید ہے اس دفعہ ہمیں ملاقات کی اجازت دی جائے گی،آج بھی بانی کی فیملی سے ملاقات نہیں ہونے دی گئی۔بانی نے کوئی جرم نہیں کیا،انکو اغوا کرکے ناحق قید رکھا گیا ہے۔
پنجاب کی جعلی حکومت،جیل انتظامیہ کی وجہ سے بانی کی آنکھ میں مسئلہ ہوا،عوام میں تشویش ہے کہ بانی کی ملاقات بند ہے،وہ اندر کیا کر رہے ہیں کہ تمام چیزیں روکی ہوئی ہیں۔یہ کیوں ملاقات نہیں کروا رہے،کے پی سے امتیازی سلوک کیوں کیا جا رہا ہے،میں نے ملاقات کا مطالبہ کرکےکوئی غلط ڈیمانڈ نہیں کی۔کے پی میں عوام نے بانی کو مینڈیٹ دیا یہ انکا حق ہے کہ بجٹ بانی کی مرضی کے مطابق ہو ۔ کے پی کا وزیر اعلی بانی تبدیل کر سکتے ہیں باقی کسی میں جرات نہیں،وہ ہلا بھی سکے ۔محسن نقوی سے ملاقات بیرسٹر گوہر کے کہنے پر ہوئی ۔افغانستان ہمارا برادر اسلامی ملک ہے،وہاں پر کیا انٹرسٹ ہو سکتا ہے اگر ہم ان سے لڑائی کریں ۔کسی کی خوشنودی کے لئے ان سے تعلقات خراب ہو رہے ہیں،
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
بجٹ میں بانی کی ہدایات کو شامل کیا گیا ہے،سوشل ویلفیئرتعلیم،صحت کو شامل کیا گیا ۔بانی نے کہا تھا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں پاکستان کو ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیئے
2026میں پاکستان انکے مشورے پر عمل کرتا ہے تو دنیا میں اسکی واہ واہ ہوتی ہے ۔ہر بندہ بولتا ہے کہ کرپشن ہو رہی ہے میں نے وزیراعلی کے دروازے کھلے رکھے ہیں کرپشن کے ثبوت لائیں۔