آزاد کشمیر سیاسی منظرنامہ بڑی تبدیلی کے دہانے پر، فریال تالپور کی اسلام آباد بیٹھک
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مظفرآباد:۔ آزاد کشمیر کا سیاسی منظرنامہ بڑی تبدیلی کے دہانے پر ہے، جہاں پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر نے حکومت کی تبدیلی کے لیے پاور شو کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔
ذرائع کے مطابق پارٹی قیادت کی ہدایت پر فریال تالپور اہم سیاسی ملاقاتوں کے لیے اسلام آباد پہنچ رہی ہیں، جبکہ آزاد کشمیر میں پارٹی رہنما اور اراکین اسمبلی سرگرم ہو چکے ہیں۔
باوثوق ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پیپلز پارٹی کو آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں 27 سے زائد اراکین کی حمایت حاصل ہو چکی ہے، جس میں تین مختلف سیاسی دھڑوں سے تعلق رکھنے والے 11 ارکان بھی شامل ہیں۔ ان میں بیرسٹر گروپ کے 6، مہاجرین سیٹوں سے 3 اور فارورڈ بلاک کے 4 ارکان کی شمولیت کی اطلاعات ہیں۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ فریال تالپور کی آمد پر تمام حمایتی اراکین اسمبلی کی ایک اجتماعی ملاقات کا بھی امکان ہے، جس کے بعد آئندہ کی سیاسی حکمت عملی اور ممکنہ اقدام کا فیصلہ کیا جائے گا۔ پیپلز پارٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ عددی اکثریت کے قریب پہنچ چکی ہے اور بہت جلد آزاد کشمیر میں ایک بڑا سیاسی سرپرائز سامنے آئے گا۔ اگر نمبرز مکمل ہو جاتے ہیں تو روایتی پارلیمانی عمل کے تحت صدر پیپلز پارٹی آزاد کشمیر چوہدری یاسین کو قائد ایوان کے لیے نامزد کیا جانا متوقع ہے۔
فریال تالپور موجودہ سیاسی پوزیشن پر حتمی رپورٹ پارٹی قیادت، آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کو پیش کریں گی، جس کے بعد پیپلز پارٹی کی جانب سے باضابطہ اعلان کیے جانے کا امکان ہے۔ آزاد کشمیر میں جاری سیاسی سرگرمیوں نے حکومت اور اپوزیشن دونوں کی صفوں میں ہلچل مچا دی ہے، اور سیاسی صورتحال ہر لمحہ نئے رخ اختیار کر رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فریال تالپور پیپلز پارٹی
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔