Express News:
2026-06-03@01:09:01 GMT

پاکستان اور افغانستان میں کشیدگی

اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT

کیا پاکستان اور افغانستان کے درمیان قطر کے شہر دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں جنگ بندی کی خبریں دونوں ملکوں میں کشیدگی کو ختم کرنے کا سبب بن سکے گی ؟کیونکہ اس وقت جو حالات ہیں، ان میں اعتماد کا فقدان ہے اور ایسے لگتا ہے کہ سفارت کاری کے محاذ پر بہت سے مسائل حل طلب ہیں ۔

البتہ دوحہ مذاکرات میں ایک دوسرے کی سرزمین دہشت گردی کے خلاف استعمال نہ کرنے اور جنگ بندی پر اتفاق رائے ہو گیا ہے،جو خوش آیند ہے۔ یہ اعتماد سازی ہی کا فقدان ہے کہ دونوں ممالک کے وفود تیسری جگہ مذاکرات کا حصہ بنے۔ پاکستان کا موقف بالکل واضح ہے کہ افغانستان کی طالبان حکومت نے پاکستان کے تمام تر تحفظات پر جو یقین دہانی کرائی اور وعدے کیے گئے تھے۔

 اس پر عملدرآمد کرنے میں ناکام رہی ہے ۔بنیادی نقطہ یہ ہی تھا کہ افغانستان کے اقتدار پر قابض ہونے سے پہلے طالبان کی قیادت نے دوحہ ہی میں امریکیوں کے ساتھ معاہدہ کیا تھا جس میں یہ عہد بھی کیا تھا کہ طالبان کے اقتدار میں افغانستان کی سرزمین پاکستان سمیت کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی، نہ دہشت گردوں کی کسی بھی سطح پر سرپرستی یا سہولت کاری ہی کی جائے گی۔لیکن ایسا کچھ نہیں ہوسکا ، طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردوں کی کارروائیوں میں تیزی آئی اور یہ دہشت گرد افغانستان سے آتے رہے ہیں ۔

 مستقل جنگ بندی تب ہی ہوسکتی ہے، جب افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونا بند ہوگا اور کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی کے خلاف افغان حکومت کا سخت ایکشن اور مطلوب افراد کی پاکستان کو حوالگی پر کوئی بڑی پیش رفت سامنے آئے گی۔

پاکستان علاقائی ممالک، چین ، امریکا یا قطر سے افغانستان کی جانب سے کیے گئے وعدوں پر ضمانت چاہتا ہے ۔کیونکہ پاکستان کو اس بات کا تجربہ ہے کہ افغانستان کی طالبان حکومت ماضی میں بار بار یقین دہانیوں کے باوجود اپنی روش سے باز نہیں آئی اور دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے تیار نہیں رہی۔یہ سوال بھی اہمیت رکھتا تھا کہ اگر حالیہ دوحہ مذاکرات میں افغان حکومت دہشت گردی کے خاتمہ میں ضمانت دیتی ہے تو اس کی پاسداری کیسے ممکن ہوگی اور کون اس پر عمل کرائے گا؟ موجودہ حالات میں یہ امکان کم نظر آتا ہے ۔اس میں امریکا،چین ،سعودی عرب اور قطر کی ثالثی اور بڑے کلیدی کردار کے بغیر امن ممکن نہیں ۔ ایک مسئلہ بھارت اور افغانستان کی طالبان قیادت کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات ہیں ، دہلی اور کابل میں امیر متقی اور جے شنکر کے درمیان جو حالیہ مذاکرات ہوئے اور جومشترکہ اعلامیہ سامنے آیا ہے، وہ پاکستان مخالفت کی بنیاد پر نظر آتا ہے اور اس میں کشمیر کے مسئلہ پر افغان حکومت نے بھارت کے موقف کی حمایت کی ہے۔

مشترکہ اعلامیہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ افغانستان کے اقتدار پر قابض طالبان کی قیادت کہاں کھڑی ہے اور ان کا اسٹرٹیجک پارٹنر کون ہے؟ موجودہ حالات میں اگر افغانستان پاکستان سے بہتر تعلقات چاہتا ہے تو یہ اس کی بڑی ذمے داری بنتی ہے کہ وہ اس تاثر کی کھل کر نفی کرے کہ وہ پاکستان مخالف سرگرمیاں اور جارحانہ عزائم نہیں رکھتا ہے ۔

اس کی ایک شکل ہمیں حالیہ دوحہ مذاکرات کے نتائج ہی کی صورت میں دیکھنے کو ملے گی کہ پاکستان کے تناظر میں افغان پالیسی مستقبل میں کیسی ہوگی اور وہ کیسے خود کو پاکستان کی مخالفت میں بھارت کے حصار سے باہر نکال سکے گا۔افغانستان کو نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر علاقائی اور عالمی ممالک کو بھی اپنے طرز عمل سے یہ یقین دہانی کرانی ہوگی کہ وہ پاکستان مخالف سرگرمیوں سے خود کو دور رکھے گا۔

کیونکہ سب سے اہم نقطہ یہ ہے جس پر پاکستانی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے کہ جب افغانستان کے وزیر خارجہ دہلی میں تھے تو عین اس وقت ہی پاکستان کے خلاف جنگ کیوں چھیڑی گئی اور اس کا مقصد کیا تھا۔یہ عالمی برادری کی بھی ناکامی ہے جو دوحہ مذاکرات میں دونوںممالک کے درمیان طے ہوا تھا اس کی خلاف ورزی پر کیونکر افغانستان کی عبوری حکومت کو جوابدہ نہیں بنایا گیا۔دونوں ممالک کے درمیان جنگ کا ہونا مسائل کا حل نہیں ۔اگر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات جنگ کی طرف بڑھیں گے تو خطہ دہشت گردی اور عدم استحکام سے دوچار ہوسکتا ہے۔ اس لیے گیند آج بھی افغانستان کی کورٹ میں ہے اور خود اس کی اپنی داخلی سلامتی کے لیے پاکستان سے بہتر تعلقات ناگزیر ہیں۔ افغان حکومت تضادات اور دوغلی سیاست سے باہر نکلے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: دوحہ مذاکرات افغانستان کی کہ افغانستان افغانستان کے دہشت گردی کے افغان حکومت پاکستان کے کے اقتدار کے درمیان ممالک کے کے خلاف کے لیے ہے اور

پڑھیں:

ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کے امکانات روشن ہیں اور ایران بعض ایسے نکات پر بات چیت کے لیے آمادہ ہو گیا ہے جن پر وہ ماضی میں گفتگو سے انکار کرتا رہا تھا تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ مذاکرات کسی قابل قبول معاہدے پر منتج ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام

سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بعض پہلوؤں پر بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے جو چند ماہ قبل تک ممکن نہیں سمجھی جا رہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ایران ایسے معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہوا ہے جن کا ذکر کرنے سے بھی وہ پہلے گریز کرتا تھا تاہم یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ بالآخر کوئی ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔

روبیو کے مطابق ایرانی قیادت کے اندر پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔

تاہم امریکی وزیر خارجہ کی امید افزا باتیں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں نئی رکاوٹیں پیدا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بیروت پر حملوں کی دھمکیوں کے بعد ایران نے ثالثوں کے ساتھ رابطے معطل کر دیے ہیں۔

ادھر امریکا کی میزبانی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیاسی مذاکرات کا نیا دور بھی جاری ہے جبکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پہلے سے موجود نازک جنگ بندی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔

مزید پڑھیے: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

مارکو روبیو نے کانگریس میں 2 روزہ بریفنگ کے دوران ایران، مشرق وسطیٰ، کیوبا، غیر ملکی امداد اور دیگر خارجہ پالیسی امور پر قانون سازوں کے سوالات کے جوابات دیے۔

ایران جنگ پر سوالات

کانگریس میں اپنی پہلی عوامی پیشی کے دوران روبیو کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں سے متعلق سخت سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

متعدد ڈیموکریٹ ارکان نے جنگ کے آغاز سے قبل کانگریس کی منظوری نہ لینے پر تنقید کی جبکہ بیشتر ریپبلکن ارکان نے ایران کے خلاف کارروائی کی حمایت کی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے پر بھی بحث جاری ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب انہوں نے ماضی میں مشرق وسطیٰ میں طویل جنگوں سے گریز کا وعدہ کیا تھا۔

جنگ کے معاشی اثرات

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ایران جنگ بندی معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دیں، تہران کے جواب کا انتظار، امریکی میڈیا

ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی تجارت آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے اس لیے خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

کیوبا سے متعلق بھی سخت مؤقف

مارکو روبیو کو سماعت کے دوران کیوبا کے حوالے سے بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ سماعت کے آغاز پر چند مظاہرین نے ’کیوبا کو جینے دو‘ اور ’کیوبن عوام کا قتل بند کرو‘ جیسے نعرے لگائے جنہیں بعد ازاں کمرے سے باہر نکال دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: ایران ڈیل کے قریب ہیں، مگر جلد بازی نقصان دہ ہوگی، صدر ٹرمپ کا فوکس نیوز کو انٹرویو میں دعویٰ

روبیو، جو کیوبن تارکین وطن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، طویل عرصے سے کیوبا کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیوبا کے امریکا کے مخالف ممالک کے ساتھ تعلقات واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔

امریکی انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو کے خلاف فوجداری الزامات بھی عائد کیے ہیں جس پر کیوبا کی حکومت نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدہ تیار، ٹرمپ کی منظوری باقی، امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ

مارکو روبیو بدھ کے روز بھی کانگریس کی مختلف کمیٹیوں کے سامنے پیش ہو کر امریکی محکمہ خارجہ کے بجٹ اور خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات پر بریفنگ دیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ایران امریکا تنازع ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا معاہدہ

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟