Express News:
2026-07-24@08:48:39 GMT

پاکستان اور افغانستان میں کشیدگی

اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT

کیا پاکستان اور افغانستان کے درمیان قطر کے شہر دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں جنگ بندی کی خبریں دونوں ملکوں میں کشیدگی کو ختم کرنے کا سبب بن سکے گی ؟کیونکہ اس وقت جو حالات ہیں، ان میں اعتماد کا فقدان ہے اور ایسے لگتا ہے کہ سفارت کاری کے محاذ پر بہت سے مسائل حل طلب ہیں ۔

البتہ دوحہ مذاکرات میں ایک دوسرے کی سرزمین دہشت گردی کے خلاف استعمال نہ کرنے اور جنگ بندی پر اتفاق رائے ہو گیا ہے،جو خوش آیند ہے۔ یہ اعتماد سازی ہی کا فقدان ہے کہ دونوں ممالک کے وفود تیسری جگہ مذاکرات کا حصہ بنے۔ پاکستان کا موقف بالکل واضح ہے کہ افغانستان کی طالبان حکومت نے پاکستان کے تمام تر تحفظات پر جو یقین دہانی کرائی اور وعدے کیے گئے تھے۔

 اس پر عملدرآمد کرنے میں ناکام رہی ہے ۔بنیادی نقطہ یہ ہی تھا کہ افغانستان کے اقتدار پر قابض ہونے سے پہلے طالبان کی قیادت نے دوحہ ہی میں امریکیوں کے ساتھ معاہدہ کیا تھا جس میں یہ عہد بھی کیا تھا کہ طالبان کے اقتدار میں افغانستان کی سرزمین پاکستان سمیت کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی، نہ دہشت گردوں کی کسی بھی سطح پر سرپرستی یا سہولت کاری ہی کی جائے گی۔لیکن ایسا کچھ نہیں ہوسکا ، طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردوں کی کارروائیوں میں تیزی آئی اور یہ دہشت گرد افغانستان سے آتے رہے ہیں ۔

 مستقل جنگ بندی تب ہی ہوسکتی ہے، جب افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونا بند ہوگا اور کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی کے خلاف افغان حکومت کا سخت ایکشن اور مطلوب افراد کی پاکستان کو حوالگی پر کوئی بڑی پیش رفت سامنے آئے گی۔

پاکستان علاقائی ممالک، چین ، امریکا یا قطر سے افغانستان کی جانب سے کیے گئے وعدوں پر ضمانت چاہتا ہے ۔کیونکہ پاکستان کو اس بات کا تجربہ ہے کہ افغانستان کی طالبان حکومت ماضی میں بار بار یقین دہانیوں کے باوجود اپنی روش سے باز نہیں آئی اور دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے تیار نہیں رہی۔یہ سوال بھی اہمیت رکھتا تھا کہ اگر حالیہ دوحہ مذاکرات میں افغان حکومت دہشت گردی کے خاتمہ میں ضمانت دیتی ہے تو اس کی پاسداری کیسے ممکن ہوگی اور کون اس پر عمل کرائے گا؟ موجودہ حالات میں یہ امکان کم نظر آتا ہے ۔اس میں امریکا،چین ،سعودی عرب اور قطر کی ثالثی اور بڑے کلیدی کردار کے بغیر امن ممکن نہیں ۔ ایک مسئلہ بھارت اور افغانستان کی طالبان قیادت کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات ہیں ، دہلی اور کابل میں امیر متقی اور جے شنکر کے درمیان جو حالیہ مذاکرات ہوئے اور جومشترکہ اعلامیہ سامنے آیا ہے، وہ پاکستان مخالفت کی بنیاد پر نظر آتا ہے اور اس میں کشمیر کے مسئلہ پر افغان حکومت نے بھارت کے موقف کی حمایت کی ہے۔

مشترکہ اعلامیہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ افغانستان کے اقتدار پر قابض طالبان کی قیادت کہاں کھڑی ہے اور ان کا اسٹرٹیجک پارٹنر کون ہے؟ موجودہ حالات میں اگر افغانستان پاکستان سے بہتر تعلقات چاہتا ہے تو یہ اس کی بڑی ذمے داری بنتی ہے کہ وہ اس تاثر کی کھل کر نفی کرے کہ وہ پاکستان مخالف سرگرمیاں اور جارحانہ عزائم نہیں رکھتا ہے ۔

اس کی ایک شکل ہمیں حالیہ دوحہ مذاکرات کے نتائج ہی کی صورت میں دیکھنے کو ملے گی کہ پاکستان کے تناظر میں افغان پالیسی مستقبل میں کیسی ہوگی اور وہ کیسے خود کو پاکستان کی مخالفت میں بھارت کے حصار سے باہر نکال سکے گا۔افغانستان کو نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر علاقائی اور عالمی ممالک کو بھی اپنے طرز عمل سے یہ یقین دہانی کرانی ہوگی کہ وہ پاکستان مخالف سرگرمیوں سے خود کو دور رکھے گا۔

کیونکہ سب سے اہم نقطہ یہ ہے جس پر پاکستانی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے کہ جب افغانستان کے وزیر خارجہ دہلی میں تھے تو عین اس وقت ہی پاکستان کے خلاف جنگ کیوں چھیڑی گئی اور اس کا مقصد کیا تھا۔یہ عالمی برادری کی بھی ناکامی ہے جو دوحہ مذاکرات میں دونوںممالک کے درمیان طے ہوا تھا اس کی خلاف ورزی پر کیونکر افغانستان کی عبوری حکومت کو جوابدہ نہیں بنایا گیا۔دونوں ممالک کے درمیان جنگ کا ہونا مسائل کا حل نہیں ۔اگر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات جنگ کی طرف بڑھیں گے تو خطہ دہشت گردی اور عدم استحکام سے دوچار ہوسکتا ہے۔ اس لیے گیند آج بھی افغانستان کی کورٹ میں ہے اور خود اس کی اپنی داخلی سلامتی کے لیے پاکستان سے بہتر تعلقات ناگزیر ہیں۔ افغان حکومت تضادات اور دوغلی سیاست سے باہر نکلے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: دوحہ مذاکرات افغانستان کی کہ افغانستان افغانستان کے دہشت گردی کے افغان حکومت پاکستان کے کے اقتدار کے درمیان ممالک کے کے خلاف کے لیے ہے اور

پڑھیں:

مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس نفسیاتی حد سے اوپر پہنچی ہے۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق جمعرات کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت میں 6 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر خطے میں فوجی کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث خریداری میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

رپورٹس کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملے ہیں۔ بحیرہ احمر اور باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر تجارتی سامان کی ترسیل کی جاتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ذمہ دار سمجھتا ہے، کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف سخت فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔

توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں پیٹرول، ڈیزل، بجلی، ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عالمی مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔

ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر کشیدگی آبنائے ہرمز تک پھیل گئی، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے، تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • کوہاٹ ٹول پلازہ کے قریب دہشت گردوں کا کسٹمز حکام پر حملہ، 2 اہلکار شہید، ایک زخمی
  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا