حجاز مقدس میں مذاکرات افغانستان خارجی فتنے کی سرپرستی سے تائب نہیں ہوا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
سٹی42: پاکستان اور افغانستان کے درمیان سعودی عرب میں ہوئے مذاکرات ب کا بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلا تاہم پاکستان نے فی الحال جنگ بندی برقرار رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
سعودی عرب میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان سنگین مسائل حل کرنے کے لئے مذاکرات کسی پیش رفت کے بغیر ختم ہوگئے۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی روئٹرز نے پاکستان اور افغانستان کےحکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک نے جنگ بندی کو برقرار رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
سوشل میڈیا کیلئے رِیل بنانے والا نوجوان 50 فٹ بلندی سے گر کر ہلاک
روئٹرز کے مطابق سعودی عرب میں ہونے والے یہ مذاکرات قطر، ترکیے اور سعودی عرب کی میزبانی میں ہونے والےاجلاسوں کا حصہ تھے۔
پاکستان کو افغانستان کی حکومت سے سب سے بڑی شکایت یہ ہے کہ افغانستان سے خارجی دہشتگردوں کے جتھے افغان طالبان کی سرپرستی میں چھپ کر پاکستان کا بارڈر عبور کر کے ادھر آتے ہین اور چھپ چھپ کر دہشتگردی کرتے ہیں۔ یہ دہشتگردی کا سلسلہ ایک دن بھی نہیں رک رہا۔ کل شمالی وزیرستان کے اسسٹنٹ کمشنر شاہ ولی اللہ کو خارجی گروہ نے سفر کرتے ہوئے گاڑی پر حملہ کر کے شہید کیا تھا، آج خارجی گروہ نے ڈیرہ اسمعیل خان میں پولیس کے اہلکاروں کو ایسا ہی چھپ کر حملہ کر کے شہید کیا۔
دنیا کے محفوظ ترین ممالک کی فہرست جاری
پاکستان اس مسئلے کو لے کر خود افغانستان کے اندر دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کرنے کی حد تک مجبور ہو چکا ہے۔ اس دوران افغان طالبان نے پاکستان کے ساتھ طویل سرحد پر کئی مقامات پر اچانک حملے کرنے کی کوشش کی اور منہ کی کھائی۔ افغان طالبان نے یہ حملے عین اس وقت کئے جب طالبان کی عبوری حکومت کا وزیر انڈیا مین کئی دن سے موجود تھا۔
ان واقعات کے بعد ترکئیے اور قطر نے پہلے دوحہ، پھر استنبول اور اب بعد ازاں سعودی عرب نے افظان طالبان کے نمائندوں کو پاکستانی حکام کے سامنے مذاکرات کے لئے بٹھایا، ان مذاکرات مین پاکستان کا مرکزی مطالبہ افغانستان کے اندر پاکستان کے دشمن خارجی گروہوں اور فتنہ الہندوستان کے گروہوں کا خاتمہ کرنا ہے۔
وائلیشن کے عادی گروہ نے ٹریفک پولیس کے چالانوں سے بچنے کے لئے ہڑتال کی سنگین دھمکی دے دی
استنبول مذاکرات میں غیرجانبدار ممالک نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی تھی۔ استنبول مین مذاکرات کے کئی ادوار میں اس کے سوا کوئی نتیجہ نہیں نکلا کہ دونوں ملک عارضی جنگ بندی پر متفق ہو گئے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان استنبول میں ہونے والے مذاکرات میں عملاً ڈیڈلاک ہوگیا تھا۔ آج آنے والی اطلاعات کے مطابق عملی پیش رفت سعودی عرب جا کر بھی نہیں ہوئی۔
دوحہ میں طے پانے والی جنگ بندی اب تک بڑی حد تک برقرار ہے تاہم گزشتہ ماہ استنبول میں ہونے والے فالو اپ مذاکرات میں طویل مدتی معاہدہ طے نہیں ہوسکا تھا۔
سندھ میں پرائمری اسکولوں کے طلبا کو صحت کی سہولتیں دینے کا منصوبہ
دونوں ممالک کے حکام نے خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ حالیہ مذاکرات سعودی عرب کی ایک پیشکش کے تحت ہوئے۔
خیال رہے کہ اکتوبر میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی سرحدی جھڑپوں میں پاکستان نے پہلی مرتبہ افغان طالبان کو براہ راست سزا دینے کا آغاز کیا تھا۔ لیکن قدیمی تعلقات اور دوست ممالک کی مداخلت کے سبب پاکستان مسائل کو اب بھی مذاکرات سے حل کرنا چاہتا ہے۔
پاکستان کا مطالبہ ہے کہ افغان طالبان تحریری یقین دہانی دیں کہ وہ پاکستان مخالف خارجی اور فتنہ الہندوستان گروہوں کے خلاف کارروائی کریں گے، تاہم طالبان حکام اس پر تیار نہیں۔ پہلے وہ چھپ کر پاکستان کے دشمنوں کی سرپرستی کرتے تھے، اب خود کو چھپانے کی بھی زحمت کم کرتے ہیں۔
بھاری ٹریفک جرمانوں کیخلاف ہڑتال کا اعلان
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: پاکستان اور افغانستان کے افغان طالبان پاکستان کے کے درمیان میں ہونے چھپ کر
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔