روس کا بھی پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی معاہدے کا خیرمقدم
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
ماسکو (نیوز ڈیسک )روس نے پیر کو پاکستان اور افغانستان کے درمیان قطر اور ترکی کی ثالثی میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔
ترک خبر رساں ادارے انادولو کی رپورٹ کے مطابق روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہم پاک افغان سرحد پر جنگ بندی کے اُس معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہیں جو دوحہ اور انقرہ کے حکام کی ثالثی سے کابل اور اسلام آباد کے درمیان طے پایا‘۔
ماریا زاخارووا نے کہا کہ اسلام آباد اور کابل کا بات چیت کے ذریعے اپنے اختلافات حل کرنے کا عزم دونوں ممالک کے درمیان امن برقرار رکھنے کی بنیاد فراہم کرتا ہے، جو روس کے دوست ہیں، اور یہ علاقائی سلامتی کو یقینی بنانے میں ایک اہم عنصر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم کابل اور اسلام آباد سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ خصوصاً دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں میں باہمی تعاون کو فروغ دیں‘۔
اتوار کو دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران پاکستان اور افغانستان نے فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا، یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان کئی روز سے جاری سرحدی کشیدگی کے بعد سامنے آیا۔
دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور 25 اکتوبر کو ترکی کے شہر استنبول میں ہوگا، اس قبل گزشتہ روز چین اور سعود عرب نے بھی پاکستان اور چین کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کا خیر مقدم کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پاکستان اور کے درمیان معاہدے کا
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔