WE News:
2026-06-03@00:11:36 GMT

پاکستان اور ایران میں تجارتی تعاون کے نئے امکانات روشن

اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT

پاکستان اور ایران میں تجارتی تعاون کے نئے امکانات روشن

ایرانی قونصل جنرل مہران موحدفر نے کہا ہے کہ پاکستان اور ایران اس وقت معاشی تعاون بڑھانے کے لیے بہترین پوزیشن میں ہیں، اور دونوں ممالک کو موجودہ حالات سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔

’پاکستان اور ایران کے تعلقات بہترین سطح پر

لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایل سی سی آئی) میں خطاب کرتے ہوئے ایرانی قونصل جنرل نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مثالی ہیں۔ گزشتہ 2 برسوں میں 2 ایرانی صدور نے پاکستان کا دورہ کیا، جبکہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان متعدد ملاقاتیں ہوئیں۔

انہوں نے بتایا کہ حالیہ دورۂ پاکستان کے موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور پاکستانی حکام کے درمیان 12 مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) دستخط کی گئیں، جن میں سے 11 معاہدے تجارت و معیشت سے متعلق تھے۔

ایران کی پاکستانی مصنوعات میں بڑھتی دلچسپی

قونصل جنرل کے مطابق گزشتہ سال ایران نے پاکستان سے 400 ٹن چاول، 30 ہزار ٹن گوشت، 2 لاکھ ٹن مکئی اور جانوروں کا چارہ سمیت مختلف زرعی اجناس درآمد کیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران دوطرفہ تجارت کو 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کا خواہاں ہے، اور اس مقصد کے حصول میں ایل سی سی آئی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

تہران ایکسپو

مہران موحدفر نے ایل سی سی آئی کے صدر فہیم الرحمان سیگل کو جنوری میں منعقد ہونے والی تہران ایکسپو میں بزنس وفد کے ہمراہ شرکت کی دعوت دی، جسے سیگل نے قبول کر لیا۔

تجارتی تعلقات میں عملی پیش رفت

ایل سی سی آئی کے صدر فہیم الرحمن سیگل نے کہا کہ پاکستان اور ایران نہ صرف اچھے ہمسایہ ممالک ہیں بلکہ مذہبی، تاریخی اور ثقافتی رشتوں میں بھی بندھے ہوئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت پاکستان کی جانب سے ایس آر او 642 (1 جون 2023) کے اجراء سے سرحدی تجارت کے دروازے کھل گئے ہیں۔
مزید برآں، حالیہ ترامیم کے تحت ایران، روس اور افغانستان کے ساتھ تجارتی لین دین کی مدت 120 دن کر دی گئی ہے، جس سے سرحدی تجارت مزید آسان اور کاروبار دوست بن گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان اور ایران ایل سی سی آئی نے کہا

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ