پاکستان اور ایران میں تجارتی تعاون کے نئے امکانات روشن
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
ایرانی قونصل جنرل مہران موحدفر نے کہا ہے کہ پاکستان اور ایران اس وقت معاشی تعاون بڑھانے کے لیے بہترین پوزیشن میں ہیں، اور دونوں ممالک کو موجودہ حالات سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔
’پاکستان اور ایران کے تعلقات بہترین سطح پرلاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایل سی سی آئی) میں خطاب کرتے ہوئے ایرانی قونصل جنرل نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مثالی ہیں۔ گزشتہ 2 برسوں میں 2 ایرانی صدور نے پاکستان کا دورہ کیا، جبکہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان متعدد ملاقاتیں ہوئیں۔
انہوں نے بتایا کہ حالیہ دورۂ پاکستان کے موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور پاکستانی حکام کے درمیان 12 مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) دستخط کی گئیں، جن میں سے 11 معاہدے تجارت و معیشت سے متعلق تھے۔
ایران کی پاکستانی مصنوعات میں بڑھتی دلچسپیقونصل جنرل کے مطابق گزشتہ سال ایران نے پاکستان سے 400 ٹن چاول، 30 ہزار ٹن گوشت، 2 لاکھ ٹن مکئی اور جانوروں کا چارہ سمیت مختلف زرعی اجناس درآمد کیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران دوطرفہ تجارت کو 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کا خواہاں ہے، اور اس مقصد کے حصول میں ایل سی سی آئی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
تہران ایکسپومہران موحدفر نے ایل سی سی آئی کے صدر فہیم الرحمان سیگل کو جنوری میں منعقد ہونے والی تہران ایکسپو میں بزنس وفد کے ہمراہ شرکت کی دعوت دی، جسے سیگل نے قبول کر لیا۔
تجارتی تعلقات میں عملی پیش رفتایل سی سی آئی کے صدر فہیم الرحمن سیگل نے کہا کہ پاکستان اور ایران نہ صرف اچھے ہمسایہ ممالک ہیں بلکہ مذہبی، تاریخی اور ثقافتی رشتوں میں بھی بندھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت پاکستان کی جانب سے ایس آر او 642 (1 جون 2023) کے اجراء سے سرحدی تجارت کے دروازے کھل گئے ہیں۔
مزید برآں، حالیہ ترامیم کے تحت ایران، روس اور افغانستان کے ساتھ تجارتی لین دین کی مدت 120 دن کر دی گئی ہے، جس سے سرحدی تجارت مزید آسان اور کاروبار دوست بن گئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان اور ایران ایل سی سی آئی نے کہا
پڑھیں:
پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی اور علمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو نئے کمپیوٹر عطیہ کر دیے، جبکہ پاکستانی ہائی کمیشن کے تعاون سے قائم جدید کمپیوٹر لیبارٹری اور تزئین و آرائش شدہ کلاس رومز کا بھی افتتاح کر دیا گیا۔
تقریب میں بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام نے مشترکہ طور پر کمپیوٹر لیب کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے تعلیم، تحقیق، ثقافتی روابط اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔
ہائی کمشنر عمران حیدر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹر لیب کا قیام صرف نئی سہولیات کی فراہمی نہیں بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلیم، ثقافتی ہم آہنگی اور نئی نسل کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جدید لیبارٹری طلبہ اور اساتذہ کی صلاحیتوں میں اضافے، تحقیق کے فروغ اور معیاری تعلیم کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم باہمی اعتماد، تعاون اور عوامی روابط کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہے، اسی مقصد کے تحت پاکستانی ہائی کمیشن مختلف تعلیمی اور علمی تعاون کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان مشترکہ تحقیقی منصوبوں، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلہ پروگرام، سمسٹر ایکسچینج، مشترکہ ڈگری پروگرامز اور قلیل مدتی تربیتی کورسز شروع کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
اس سے قبل ہائی کمشنر عمران حیدر نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام سے ملاقات کی، جس میں ڈھاکہ یونیورسٹی اور پاکستان کی مختلف جامعات کے درمیان تعلیمی روابط بڑھانے اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی وزراتِ عظمیٰ: پاک بنگلہ دیش تعلقات میں تاریخی پیشرفت کے مواقع
وائس چانسلر نے پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے شعبہ اردو کی ترقی کے لیے فراہم کیے گئے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 1921 میں قائم ہونے والا شعبہ اردو یونیورسٹی کے قدیم اور ممتاز شعبوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں اس وقت بی ایس (آنرز)، ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر تعلیم دی جا رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کا تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور تعلیمی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔
تقریب میں فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار، شعبہ اردو کے چیئرمین ایسوسی ایٹ پروفیسر محمد غلام مولا، پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی، پاکستانی ہائی کمیشن کے ڈپٹی ہائی کمشنر محمد واصف سمیت اساتذہ، طلبہ اور دونوں ممالک کے حکام نے بھی شرکت کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک بنگلہ دیش پاکستان پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار ڈھاکہ یونیورسٹی کمپیوٹر لیب