قول و فعل میں تضاد: بینکنگ نظام پر تنقید کرنے والی ٹی ایل پی کا اکاؤنٹس سے منافع حاصل کرنے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
تحریک لبیک پاکستان جو بظاہر دین اور شریعت کا پرچار اس انداز میں کرتی ہے کہ سود کو حرام قرار دے کر اپنے ہی بینکنگ نظام پر شدید تنقید کرتی ہے، ان کی حقیقت کھل کر سامنے آگئی۔
ذرائع کے مطابق اس جماعت کی حقیقت یہ ہے کہ جب ان پر قانونی کارروائی ہوئی تو تحقیقات میں سامنے آیا کہ ان کے قریباً 100 ایسے اکاؤنٹس ہیں جہاں وہ بینک سے منافع حاصل کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی ایل پی نے مجھے ریپ اور قتل کی دھمکیاں دیں، صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری
ایک سال میں ان اکاؤنٹس میں قریباً 15 کروڑ روپے کی ٹرانزیکشنز ہوئیں۔ یہ بات واضح کرتی ہے کہ جس چیز سے یہ عوام کو روک رہے ہیں، خود اسی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ یہ منافقت عوام کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔
ہمیں یہ سبق سیکھنا چاہیے کہ جو لوگ دین کے نام پر سیاست چمکاتے ہیں، وہ خود دنیا داری کے تمام مزے لے رہے ہیں، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے عمل اور ان کی باتوں میں کتنا تضاد ہے۔
واضح رہے کہ تحریک لبیک پاکستان کا قیام 2015 میں عمل میں آیا، تاہم یہ کھل کر اس وقت سامنے آئی جب 2017 میں اس وقت کی مسلم لیگ ن حکومت کے خلاف راولپنڈی کے علاقے فیض آباد میں دھرنا دیا گیا۔
تحریک لبیک پاکستان نے اس کے بعد ملک میں بڑے احتجاج کیے، جماعت کے بانی مولانا خادم رضوی کا 2020 میں کورونا کے باعث انتقال ہوگیا تھا، جس کے باعث قیادت ان کے بیٹے سعد رضوی کو سونپ دی گئی۔
حال ہی میں تحریک لبیک پاکستان نے لاہور سے اسلام آباد کی طرف مارچ کیا اور ان کا مؤقف تھا کہ وہ اسلام آباد میں امریکن سفارتخانے کے باہر جا کر احتجاج ریکارڈ کرائیں گے، جس کو روکنے کے لیے انتظامیہ نے مریدکے میں ایک آپریشن کے دوران احتجاج کے شرکا کو منتشر کردیا۔
اس دوران تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ حافظ سعد رضوی اور ان کے بھائی انس رضوی فرار ہوگئے، جن کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ اس وقت آزاد کشمیر میں موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری کو فون پر دھمکیاں دینے والا ٹی ایل پی کارکن گرفتار
دوسری جانب حکومت پنجاب نے تحریک لبیک پاکستان پر پابندی لگانے کے لیے وفاقی حکومت کو سفارش کردی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پابندی تحریک لبیک پاکستان خادم رضوی سعد رضوی قول و فعل میں تضاد وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پابندی تحریک لبیک پاکستان خادم رضوی سعد رضوی قول و فعل میں تضاد وی نیوز تحریک لبیک پاکستان کے لیے
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔