’15 لاکھ روپے کا آن لائن فراڈ‘ : رکن قومی اسمبلی کا واٹس ایپ کیسے ہیک ہوا؟
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
آن لائن یا واٹس ایپ کے ذریعے فراڈ کرنے والے گروہ نے اپنے پنجے اس طرح گاڑ لیے ہیں کہ اب اراکین قومی اسمبلی بھی ان سے محفوظ نہیں ہیں۔
اتوار کے روز ایک ایسا ہی واقعہ ایم کیو ایم (پاکستان) کی مخصوص نشست پر منتخب ہونے والی رکن قومی اسمبلی نگہت شکیل کے ساتھ پیش آیا اور نوسربازوں نے اُن کے عزیزوں، رشتے داروں یا رابطہ کاروں سے تقریبا 15 لاکھ روپے بٹور لیے۔
ڈاکٹر نگہت شکیل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی پارلیمانی امور، صحت اور کشمیر کی رکن ہیں۔
ایکسپریس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اتوار کی صبح تقریباً 9 بجے انہیں مختلف نمبروں سے تواتر کے ساتھ کالز موصول ہوئیں جس پر انہوں نے پہلے تو فون رکھ دیا۔
نگہت شکیل کے مطابق کالر نے اپنا تعارف پی ایم ڈی سے کروایا اور بتایا کہ آپ کے کچھ ضروری ڈاکومینٹس موصول ہوئے جنہیں آپ تک پہنچانا ضروری ہے، اسی کے ساتھ اُس نے موبائل پر بھیجا گیا کوڈ مانگا، جس پر میں سمجھی کہ پیر کو اسلام آباد میں صحت کمیٹی کی میٹنگ سے متعلق دستاویزات ہوں گی۔
‘کالز مسلسل آنے کی وجہ سے میرے شوہر بھی پریشان ہوئے اور پھر میں نے نیند کی حالت میں انہیں غلطی سے کوڈ بھیج دیا جس کے بعد نوسربازوں نے واٹس ایپ ہیک کر کے کئی نمبرز پر رابطے کر کے پیسے منگوائے‘۔
رکن قومی اسمبلی نے بتایا کہ نوسربازوں نے میرے رابطے میں رہنے والے نمبروں کو ایسے پیغامات بھیجے جس کی وجہ سے انہوں نے بھی تصدیق کیے بغیر پیسے بھیجنا شروع کردیے جبکہ کئی ایسے بھی تھے جنہوں نے تصدیق کی اور فراڈ کا شکار ہونے سے بچ گئے۔
’پیسے موبائل نمبرز اور بینک اکاؤنٹ میں ٹرانسفر ہوئے‘
ڈاکٹر نگہت شکیل کے مطابق ہیکرز نے جن نمبرز پر رابطے کیے اُن کو آن لائن موبائل والٹ اور بینک اکاؤنٹ دیے گئے، جن میں سے ایک بینک اکاؤنٹ تھا اور دو یا تین مختلف ناموں کے موبائل نمبر تھے جن پر پیسے ٹرانسفر ہوئے۔
’میں نے بینک سے رابطہ کیا تو انہوں نے یہ کہہ کر تعاون سے انکار کیا کہ آپ کا اکاؤنٹ ہمارے پاس موجود نہیں جس کی بنیاد پر آپ کو کوئی معلومات دی جاسکتی ہے اور نہ ہی کوئی شکایت درج کرائی جاسکتی ہے‘۔
نگہت شکیل نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) میں اپنے ساتھ ہونے والے فراڈ سے متعلق آن لائن ایپلیکیشن جمع کرائی اور رابطہ کیا تو انہیں تحریری درخواست کے ساتھ کراچی کے دفتر آنے کی ہدایت کی گئی۔
’این سی سی آئی اے کا آن لائن سسٹم خراب ہے‘
رکن قومی اسمبلی کے مطابق انہوں نے تحریری درخواست جمع کرادی تاہم اس دوران این سی سی آئی اے کے عملے نے انہیں بتایا کہ ’آن لائن پورٹل اکتوبر سے خراب ہے، شکایت کنندہ کی درخواست صرف جمع ہوتی ہے تاہم وہ سسٹم کی خرابی کی وجہ سے آگے نہیں بڑھ پاتی جس کی وجہ سے کارروائی نہیں ہوپارہی‘۔
اس دعوے کی تصدیق کیلیے این سی سی آئی اے سے رابطے کی کوشش تاہم کوئی جواب موصول نہیں ہوسکا۔
اُن کے مطابق ’میں اپنی میٹنگ کی وجہ سے اسلام آباد پہنچی اور مرکزی دفتر گئی تو ایک ڈیڑھ گھنٹے انتظار کے باوجود متعلقہ افسران نہیں پہنچ سکے، عملے کی جانب سے کہا گیا کہ شکایت کراچی میں ہی درج ہوگی‘۔
’جب میرے ساتھ ایسا ہورہا ہے تو عام شہری کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا‘
نگہت شکیل کا کہنا ہے کہ ’میں نے سوال اٹھایا کہ مجھے دسترس ہونے کے باوجود جب میرے ساتھ ایسا ہورہا ہے اور ڈیڑھ گھنٹہ انتظار کرنا پڑ رہا ہے تو پھر عام شہری کو کن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہوگا‘۔
واضح رہے کہ پاکستان کی متعلقہ اتھارٹیز بالخصوص پی ٹی اے کی جانب سے متعدد بار عوامی آگاہی کیلیے پیغامات جاری کیے جاچکے ہیں جس میں شہریوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اپنے خفیہ ہندسوں کا کوڈ یا غیر ضروری لنک پر کلک کرنے سے گریز کریں۔
رکن قومی اسمبلی کا کہنا ہے کہ انہیں امید دلائی گئی ہے کہ جلد ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا تاہم نگہت شکیل کا کہنا ہے کہ 48 گھنٹے ہونے کو ہیں اور کارروائی نہیں ہوئی، اس کے علاوہ وہ اس بات پر بہت زیادہ افسردہ ہیں کہ اس معاملے کی وجہ سے لوگوں کو نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
اپنی گفتگو کے دوران انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’میں نے فراڈ کا شکار ہونے والوں کو کہا ہے کہ وہ ٹرانزیکشن کے ثبوت اپنے پاس ضرور رکھیں تاکہ ہم ثبوت و شواہد کے ساتھ ملزمان کو گرفت میں لاکر رقم واپس حاصل کریں‘۔
انہوں نے بتایا کہ اپنا واٹس ایپ اکاؤنٹ دوبارہ حاصل کرلیا ہے جس کے بعد مزید انکشافات ہورہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سی سی ا ئی اے رکن قومی اسمبلی کی وجہ سے کے مطابق واٹس ایپ انہوں نے بتایا کہ ا ن لائن کے ساتھ
پڑھیں:
تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف نے تیزی سے بڑھتی آبادی کو ملک کے لیے چیلنج قرار دے دیا۔وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت ملک میں بہبود آبادی کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے نیشنل پاپولیشن کونسل کا اجلاس جلد از جلد بلانے کی ہدایت کی۔شہباز شریف نے کہا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ملک کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، آبادی پر قابو پانے کیلئے اقدامات اور بہبود آبادی کو قومی فریضہ سمجھا جانا چاہیے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آبادی میں توازن ہی پائیدار قومی ترقی کی ضمانت ہے، آبادی کی منصوبہ بندی کو قومی ترقی اور معاشی استحکام سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے، بہبود آبادی اقدامات سے متعلق صوبوں کے ساتھ روابط اور ہم آہنگی مزید بہتر بنائی جائے، بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے مؤثر عوامی آگہی مہم کا کلیدی کردار ہے۔